المعجم الكبير للطبراني
باب الثاء— حرف ثا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ثابت بن قيس بن شماس الأنصاري باب: سیدنا ثابت بن قیس بن شماس انصاری رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَخْشِيٍّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي خَالِي الْمُغِيرَةُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ رَاشِدٍ الْهَاشِمِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ ثَابِتَ بْنَ قَيْسٍ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ أَكُونَ قَدْ هَلَكْتُ، قَالَ: «لِمَ؟» قَالَ: يَمْنَعُ اللهُ الْمَرْءَ، أَنْ يُحْمَدَ بِمَا لَمْ يَفْعَلْ، وَأَجِدُنِي أُحِبُّ الْحَمْدَ، وَيَنْهَى عَنِ الْخُيَلَاءِ، وَأَجِدُنِي أُحِبُّ الْجَمَالَ، وَيَنْهَى اللهُ أَنْ نَرْفَعَ أَصْوَاتَنَا فَوْقَ صَوْتِكَ، وَأَنَا جَهِيرُ الصَّوْتِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا ثَابِتُ أَلَيْسَ تَرْضَى أَنْ تَعِيشَ حَمِيدًا، وتُقْتَلَ شَهِيدًا، وَتَدْخُلَ الْجَنَّةَ؟»سیدنا ثابت بن قیس بن شماس انصاری رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے خدشہ ہے کہ میں ہلاک ہو گیا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیوں؟“ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ آدمی کو اس سے منع فرماتا ہے کہ اس کی تعریف کی جائے جو اس نے نہ کیا ہو، حالانکہ میں دیکھتا ہوں کہ مجھے تعریف پسند ہے، اور وہ تکبر سے منع فرماتا ہے، حالانکہ میں دیکھتا ہوں کہ مجھے خوبصورتی پسند ہے، اور اللہ ہمیں اس سے منع فرماتا ہے کہ ہم اپنی آوازیں آپ کی آواز سے بلند کریں، حالانکہ میں بلند آواز والا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ثابت! کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ تم تعریف کے ساتھ زندہ رہو، شہید ہو کر مرو، اور جنت میں داخل ہو؟“