حدیث نمبر: 1299
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ أَكُونَ قَدْ هَلَكْتُ، قَالَ: «بِمَ؟» ، قَالَ: إِنَّ اللهَ يَنْهَانَا أَنْ نُحْمَدَ بِمَا لَمْ نَفْعَلْ، وَأَجِدُنِي أُحِبُّ الْحَمْدَ، وَنَهَانَا عَنِ الْخُيَلَاءِ، وَأَنَا امْرُؤٌ أُحِبُّ الْجَمَالَ، وَنَهَانَا أَنْ نَرْفَعَ أَصْوَاتَنَا فَوْقَ صَوْتِكَ، وَأَنَا امْرُؤٌ جَهِيرُ الصَّوْتِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ، أَمَا تَرْضَى أَنْ تَعِيشَ حَمِيدًا، وتُقْتَلَ شَهِيدًا، وَتَدْخُلَ الْجَنَّةَ؟»
ترجمہ

اسماعیل بن محمد بن ثابت انصاری سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے ڈر ہے کہ میں ہلاک ہو گیا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کس وجہ سے؟“ انہوں نے کہا: اللہ نے ہمیں اس بات کی تعریف کیے جانے سے منع کیا ہے جو ہم نے نہیں کی، اور میں اپنے آپ کو تعریف پسند کرنے والا پاتا ہوں، اور اس نے ہمیں تکبر سے منع کیا ہے، اور میں خوبصورتی پسند کرنے والا آدمی ہوں، اور اس نے ہمیں منع کیا ہے کہ ہم اپنی آوازیں آپ کی آواز سے بلند کریں، اور میں اونچی آواز والا آدمی ہوں، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اے ثابت بن قیس! کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ تم تعریف کیے جاتے ہوئے زندہ رہو، شہید ہو کر مرو، اور جنت میں داخل ہو؟“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الثاء / حدیث: 1299
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 67، حدیث 1312