حدیث نمبر: 1301
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا عَنْبَسَةُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ ثَابِتٍ، أَنَّ ثَابِتَ بْنَ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيَّ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ أَكُونَ قَدْ هَلَكْتُ، قَالَ: «لِمَ؟» قَالَ: نَهَانَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنِ الْحَمْدِ، أَنْ نُحْمَدَ بِمَا لَمْ نَفْعَلْ، وَإِنِّي أُحِبُّ الْحَمْدَ، وَنَهَانَا عَنِ الْخُيَلَاءِ، وَأَنَا أُحِبُّ الْجَمَالَ، وَنَهَانَا أَنْ نَرْفَعَ أَصْوَاتَنَا فَوْقَ صَوْتِكَ، وَأَنَا امْرُؤٌ جَهِيرُ الصَّوْتِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا ثَابِتُ أَلَا تَرْضَى أَنْ تَعِيشَ حَمِيدًا، وتُقْتَلَ شَهِيدًا، وَتَدْخُلَ الْجَنَّةَ؟» ، قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، فَعَاشَ حَمِيدًا، وَقُتِلَ شَهِيدًا يَوْمَ مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ
ترجمہ

سیدنا ثابت بن قیس بن شماس انصاری رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے خدشہ ہے کہ میں ہلاک ہو گیا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیوں؟“ انہوں نے کہا: اللہ عزوجل نے ہمیں اس بات سے منع فرمایا ہے کہ ہماری تعریف کی جائے جو ہم نے نہ کیا ہو، حالانکہ مجھے تعریف پسند ہے، اور اس نے ہمیں تکبر سے منع فرمایا ہے، حالانکہ مجھے خوبصورتی پسند ہے، اور اس نے ہمیں یہ بھی منع فرمایا ہے کہ ہم اپنی آوازیں آپ کی آواز سے بلند کریں، حالانکہ میں بلند آواز والا آدمی ہوں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے ثابت! کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم تعریف کے ساتھ زندہ رہو، شہید ہو کر مرو، اور جنت میں داخل ہو؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! چنانچہ وہ تعریف کے ساتھ زندہ رہے اور مسیلمہ کذاب کے دن شہید ہوئے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الثاء / حدیث: 1301
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 67، حدیث 1314