حدیث نمبر: 1300
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي الْهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ، أَنَّ ثَابِتَ بْنَ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيَّ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ أَكُونَ قَدْ هَلَكْتُ، فَقَالَ لَهُ: «لِمَ؟» قَالَ: نَهَى اللهُ الْمَرْءَ أَنْ يُحِبَّ أَنْ يُحْمَدَ بِمَا لَمْ يَفْعَلْ، وَأَجِدُنِي أُحِبُّ الْحَمْدَ، وَنَهَانَا عَنِ الْخُيَلَاءِ، وَأَجِدُنِي أُحِبُّ الْجَمَالَ، وَنَهَانَا أَنْ نَرْفَعَ أَصْوَاتَنَا فَوْقَ صَوْتِكَ، وَإِنِّي امْرُؤٌ جَهِيرُ، الصَّوْتِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا ثَابِتُ أَمَا تَرْضَى أَنْ تَعِيشَ حَمِيدًا، وتُقْتَلُ شَهِيدًا، وَتَدْخُلَ الْجَنَّةَ؟» قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، فَعَاشَ حَمِيدًا، وَقُتِلَ يَوْمَ مُسَيْلِمَةَ
ترجمہ

محمد بن ثابت انصاری بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ثابت بن قیس انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے ڈر ہے کہ میں ہلاک ہو گیا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیوں؟“ انہوں نے کہا: اللہ نے آدمی کو یہ پسند کرنے سے منع کیا ہے کہ اس کی تعریف کی جائے جو اس نے نہیں کیا، اور میں اپنے آپ کو تعریف پسند کرنے والا پاتا ہوں، اور اس نے ہمیں تکبر سے منع کیا ہے، اور میں اپنے آپ کو خوبصورتی پسند کرنے والا پاتا ہوں، اور اس نے ہمیں منع کیا ہے کہ ہم اپنی آوازیں آپ کی آواز سے بلند کریں، اور میں اونچی آواز والا آدمی ہوں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ثابت! کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ تم تعریف کیے جاتے ہوئے زندہ رہو، شہید ہو کر مرو، اور جنت میں داخل ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! تو وہ تعریف کیے جاتے ہوئے زندہ رہے، اور مسیلمہ کے دن شہید ہوئے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الثاء / حدیث: 1300
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 67، حدیث 1313