المعجم الكبير للطبراني
باب الثاء— حرف ثا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ثابت بن قيس بن شماس الأنصاري باب: سیدنا ثابت بن قیس بن شماس انصاری رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، وَاللهِ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ أَكُونَ قَدْ هَلَكْتُ " قَالَ: «بِمَ؟» ، قُلْتُ: نَهَى اللهُ الْمَرْءَ أَنْ يُحْمَدَ بِمَا لَمْ يَفْعَلْ، وَأَجِدُنِي أُحِبُّ الْحَمْدَ، وَنَهَى الله عَنِ الْخُيَلَاءِ، وَأَجِدُنِي أُحِبُّ الْخُيَلَاءَ، وَنَهَى اللهُ أَنْ نَرْفَعَ أَصْوَاتَنَا فَوْقَ صَوْتِكَ، وَأَنَا امْرُؤٌ جَهِيرُ الصَّوْتِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا تَرْضَى أَنْ تَعِيشَ حَمِيدًا، وتُقْتَلَ شَهِيدًا، وَتَدْخُلَ الْجَنَّةَ» ، قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، فَعَاشَ حَمِيدًا، وَقُتِلَ شَهِيدًا يَوْمَ مُسَيْلِمَةَمحمد بن ثابت انصاری بیان کرتے ہیں کہ مجھے سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ نے بتایا، وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم، مجھے ڈر ہے کہ میں ہلاک ہو گیا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کس وجہ سے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ نے آدمی کو اس بات کی تعریف کیے جانے سے منع کیا ہے جو اس نے نہیں کی، اور میں اپنے آپ کو تعریف پسند کرنے والا پاتا ہوں، اور اللہ نے تکبر سے منع کیا ہے، اور میں اپنے آپ کو تکبر پسند کرنے والا پاتا ہوں، اور اللہ نے منع کیا ہے کہ ہم اپنی آوازیں آپ کی آواز سے بلند کریں، اور میں اونچی آواز والا آدمی ہوں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ تم تعریف کیے جاتے ہوئے زندہ رہو، شہید ہو کر مرو، اور جنت میں داخل ہو؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! تو وہ تعریف کیے جاتے ہوئے زندہ رہے، اور مسیلمہ کے دن شہید ہو کر مرے۔