المعجم الكبير للطبراني
باب الثاء— حرف ثا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ثابت بن قيس بن شماس الأنصاري باب: سیدنا ثابت بن قیس بن شماس انصاری رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ وَارَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سَابِقٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَخِيهِ عِيسَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: {إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ} [لقمان: ١٨] فَخُورٍ، فَذَكَرَ الْكِبْرَ فَعَظَّمَهُ، فَبَكَى ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ، فَقَالَ لَهُ نَبِيُّ اللهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا يُبْكِيكَ» ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، إِنِّي أُحِبُّ الْجَمَالَ، حَتَّى إِنِّي لَيُعْجِبُنِي أَنْ يَحْسُنَ شِرَاكُ نَعْلِي، قَالَ: «فَأَنْتَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، إِنَّهُ لَيْسَ الْكِبْرُ بِأَنْ تُحْسِنَ رَاحِلَتَكَ، ورَحْلَكَ، وَلَكِنَّ الْكِبْرَ مَنْ سَفِهَ الْحَقَّ، وَغَمَصَ النَّاسَ»سیدنا ثابت بن قیس بن شماس انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا کہ آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی: ”بیشک اللہ ہر تکبر کرنے والے، فخر جتانے والے کو پسند نہیں فرماتا“ [سورۃ لقمان: 18]، پھر تکبر کا ذکر کیا اور اسے بہت سنگین قرار دیا، تو سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ رونے لگے۔ نبی اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تمہیں کیا رلا رہا ہے؟“ انہوں نے کہا: یا نبی اللہ! مجھے خوبصورتی پسند ہے، حتی کہ مجھے یہ بھی اچھا لگتا ہے کہ میرے جوتے کا تسمہ خوبصورت ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو تم جنتی ہو، تکبر یہ نہیں کہ تم اپنی سواری اور اپنا سامان اچھا رکھو، بلکہ تکبر یہ ہے کہ جو حق کو حقیر جانے اور لوگوں کو حقیر سمجھے۔“