المعجم الكبير للطبراني
باب الثاء— حرف ثا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ثابت بن قيس بن شماس الأنصاري باب: سیدنا ثابت بن قیس بن شماس انصاری رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 1306
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنِ الْجَرَّاحِ بْنِ الْمِنْهَالِ، عَنِ ابْنِ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ الْخُرَسَانِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْتُ الْمَسْجِدَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا سَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الْتَفَتَ إِلَيَّ، وَأَنَا أُصَلِّي، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَنْظُرُ إِلَيَّ، وَأَنَا أُصَلِّي، فَلَمَّا فَرَغْتُ، قَالَ: «أَلَمْ تُصَلِّ مَعَنَا؟» قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «فَمَا هَذِهِ الصَّلَاةُ؟» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، خَرَجْتُ مِنْ مَنْزِلِي، وَلَمْ أَكُنْ صَلَّيْتُهُمَا، قَالَ: فَلَمْ يَعِبْ ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّترجمہ
سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ نے سلام پھیرا تو میری طرف متوجہ ہوئے، اور میں نماز پڑھ رہا تھا۔ نبی کریم ﷺ مجھے دیکھتے رہے اور میں نماز پڑھ رہا تھا۔ جب میں فارغ ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو یہ کون سی نماز تھی؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! فجر کی دو رکعتیں تھیں، میں اپنے گھر سے نکلا تو وہ نہیں پڑھی تھیں۔ راوی کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے اس پر مجھ پر کوئی اعتراض نہیں فرمایا۔