المعجم الكبير للطبراني
باب الثاء— حرف ثا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ثابت بن قيس بن شماس الأنصاري باب: سیدنا ثابت بن قیس بن شماس انصاری رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَسَأَلْتُ عَمَّنْ يُحَدِّثُنِي بِحَدِيثِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، فَأَرْشَدُونِي إِلَى ابْنَتِهِ، فَسَأَلْتُهَا فَقَالَتْ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: لَمَّا أُنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، {إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ} [لقمان: ١٨] ، اشْتَدَّتْ عَلَى ثَابِتٍ، وَغَلَّقَ عَلَيْهِ بَابَهُ، وَطَفِقَ يَبْكِي، فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، فَسَأَلَهُ فَأَخْبَرَهُ بِمَا كَبُرَ عَلَيْهِ مِنْهَا، وَقَالَ: أَنَا رَجُلٌ أُحِبُّ الْجَمَالَ، وَأَنْ أَسُودَ قَوْمِي، فَقَالَ: «لَسْتَ مِنْهُمْ، بَلْ تَعِيشُ بِخَيْرٍ، وتَمُوتُ بِخَيْرٍ، ويُدْخِلُكَ اللهُ الْجَنَّةَ» ، قَالَ: فَلَمَّا أَنْزَلَ اللهُ عَلَى رَسُولهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ، وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ} [الحجرات: ٢] ، فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ بِمَا كَبُرَ عَلَيْهِ، وَأَنَّهُ جَهِيرُ الصَّوْتِ، وَأَنَّهُ يَتَخَوَّفُ أَنْ يَكُونَ مِمَّنْ حَبِطَ عَمَلُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكَ لَسْتَ مِنْهُمْ بَلْ تَعِيشُ حَمِيدًا، وتُقْتَلُ شَهِيدًا، ويُدْخِلُكَ اللهُ الْجَنَّةَ» فَلَمَّا اسْتَنْفَرَ أَبُو بَكْرٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى أَهْلِ الرِّدَّةِ، وَالْيَمَامَةِ، ومُسَيْلَمَةَ الْكَذَّابِ، سَارَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ فِيمَنْ سَارَ، فَلَمَّا لَقُوا مُسَيْلِمَةَ، وَبَنِي حَنِيفَةَ هَزَمُوا الْمُسْلِمِينَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ ثَابِتٌ: وَسَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ: مَا هَكَذَا كُنَّا نُقَاتِلُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ، وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ} [الحجرات: ٢] ، فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ بِمَا كَبُرَ عَلَيْهِ، وَأَنَّهُ جَهِيرُ الصَّوْتِ، وَأَنَّهُ يَتَخَوَّفُ أَنْ يَكُونَ مِمَّنْ حَبِطَ عَمَلُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكَ لَسْتَ مِنْهُمْ بَلْ تَعِيشُ حَمِيدًا، وتُقْتَلُ شَهِيدًا، ويُدْخِلُكَ اللهُ الْجَنَّةَ» فَلَمَّا اسْتَنْفَرَ أَبُو بَكْرٍ رَضِي اللهُ تَعَالَى عَنْهُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى أَهْلِ الرِّدَّةِ، وَالْيَمَامَةِ، ومُسَيْلَمَةَ الْكَذَّابِ، سَارَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ فِيمَنْ سَارَ، فَلَمَّا لَقُوا مُسَيْلِمَةَ، وَبَنِي حَنِيفَةَ هَزَمُوا الْمُسْلِمِينَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ ثَابِتٌ: وَسَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ: مَا هَكَذَا كُنَّا نُقَاتِلُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَا لِأَنْفُسِهما حُفْرَةً، فَدَخَلَا فِيهَا فَقَاتَلَا حَتَّى قُتِلَا، قَالَتْ: وَأُرِيَ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثَابِتَ بْنَ قَيْسٍ فِي مَنَامِهِ، فَقَالَ: إِنِّي لَمَّا قُتِلْتُ بِالْأَمْسِ، مَرَّ بِي رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَانْتَزَعَ مِنِّي دِرْعًا نَفِيسَةً، وَمَنْزِلُهُ فِي أَقْصَى الْمُعَسْكَرِ، وَعِنْدَ مَنْزِلِهِ فَرَسٌ يَسْتَنُّ فِي طُولِهِ، وَقَدْ أَكْفَأَ عَلَى الدِّرْعِ بُرْمَةً، وَجَعَلَ فَوْقَ الْبُرْمَةِ رَحْلًا، وَائْتِ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ، فَلْيَبْعَثْ إِلَى دِرْعِي فَلْيَأْخُذْهَا، فَإِذَا قَدِمْتَ عَلَى خَلِيفَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعْلِمْهُ أَنَّ عَلَيَّ مِنَ الدَّيْنِ كَذَا وَلِي، مِنَ الْمَالِ كَذَا، وَفُلَانُ مِنْ رَقِيقِي عَتِيقٌ، وَإِيَّاكَ أَنْ تَقُولَ هَذَا حُلْمٌ فَتُضَيِّعَهُ، قَالَ: فَأَتَى خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فَوَجَّهُ إِلَى الدِّرْعِ فَوَجَدَهَا كَمَا ذَكَرَ، وَقَدِمَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِي اللهُ تَعَالَى عَنْهُ فَأَخْبَرَهُ، فَأَنْفَذَ أَبُو بَكْرٍ رَضِي اللهُ تَعَالَى عَنْهُ، وَصِيَّتَهُ بَعْدَ مَوْتِهِ، فَلَا نَعْلَمُ أَنَّ أَحَدًا جَازَتْ وَصِيَّتُهُ بَعْدَ مَوْتِهِ، إِلَّا ثَابِتَ بْنَ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ رَضِي اللهُ تَعَالَى عَنْهُ… اور رونے لگے۔ رسول اللہ ﷺ کو خبر دی گئی تو آپ ﷺ نے ان کی طرف پیغام بھیجا، ان سے پوچھا تو انہوں نے وہ بات بتائی جو انہیں گراں گزری تھی، اور کہا: میں ایسا آدمی ہوں جسے خوبصورتی پسند ہے اور یہ کہ میں اپنی قوم میں سردار بنوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم ان میں سے نہیں ہو، بلکہ تم بھلائی کے ساتھ زندہ رہو گے اور بھلائی کے ساتھ مرو گے، اور اللہ تمہیں جنت میں داخل کرے گا۔“ راوی کہتے ہیں: پھر جب اللہ نے اپنے رسول ﷺ پر یہ آیت نازل فرمائی: ”اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے بلند نہ کرو، اور نہ اس سے اونچی آواز میں بات کرو جیسے تم آپس میں ایک دوسرے سے اونچی آواز میں بات کرتے ہو“ [سورۃ الحجرات: 2]، تو انہوں نے پھر ویسا ہی کیا، نبی کریم ﷺ کو خبر دی گئی تو آپ ﷺ نے ان کی طرف پیغام بھیجا کہ انہیں کیا بات گراں گزری ہے، اور یہ کہ وہ بلند آواز والے ہیں، اور انہیں یہ خدشہ ہے کہ وہ ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کے اعمال ضائع ہو گئے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بیشک تم ان میں سے نہیں ہو، بلکہ تم تعریف کے ساتھ زندہ رہو گے اور شہید ہو کر مرو گے، اور اللہ تمہیں جنت میں داخل کرے گا۔“ پھر جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مرتدین، اہلِ یمامہ اور مسیلمہ کذاب کے خلاف مسلمانوں کو نکلنے کی دعوت دی تو سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ بھی نکلنے والوں میں شامل ہو کر نکلے۔ جب وہ مسیلمہ اور بنو حنیفہ سے ملے تو انہوں نے مسلمانوں کو تین بار شکست دی، تو ثابت اور سالم مولی ابی حذیفہ رضی اللہ عنہما نے کہا: ہم اس طرح تو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نہیں لڑا کرتے تھے! چنانچہ ان دونوں نے اپنے لیے ایک گڑھا بنایا اور اس میں کھڑے ہو کر لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔
راویہ کہتی ہیں: ایک مسلمان شخص نے خواب میں سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے کہا: جب کل مجھے شہید کیا گیا تو مسلمانوں میں سے ایک شخص میرے پاس سے گزرا اور اس نے مجھ سے ایک قیمتی زرہ اتار لی، اس کی قیام گاہ لشکر کے آخری کنارے پر ہے، اور اس کے ڈیرے کے پاس ایک گھوڑا اپنی رسی کی حد تک چکر لگا رہا ہے، اور اس نے اس زرہ پر ایک ہانڈی الٹی رکھی ہے، اور ہانڈی کے اوپر پالان رکھ دیا ہے۔ خالد بن ولید کے پاس جاؤ، وہ کسی کو بھیج کر میری زرہ منگوا لیں، اور جب تم رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ کے پاس پہنچو تو انہیں بتانا کہ مجھ پر اتنا قرض ہے اور میرے پاس اتنا مال ہے، اور فلاں میرا غلام آزاد ہے، اور خبردار! یہ نہ کہنا کہ یہ محض ایک خواب ہے اور اسے ضائع کر دینا۔ راوی کہتے ہیں: چنانچہ وہ خالد بن ولید کے پاس آیا، انہوں نے زرہ کی طرف آدمی بھیجا تو اسے ویسا ہی پایا جیسا بیان کیا گیا تھا۔ وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور انہیں خبر دی، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کی وصیت ان کی موت کے بعد نافذ کر دی۔ ہمیں معلوم نہیں کہ سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کے سوا کسی اور کی وصیت اس کی موت کے بعد نافذ کی گئی ہو۔