المعجم الكبير للطبراني
باب الثاء— حرف ثا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ثابت بن قيس بن شماس الأنصاري باب: سیدنا ثابت بن قیس بن شماس انصاری رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 1303
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا أَبُو ثَابِتِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، حَدَّثَنِي أَبِي ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ، فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ} [الحجرات: ٢] ، قَعَدَ ثَابِتٌ فِي الطَّرِيقِ يَبْكِي، فَمَرَّ بِهِ عَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ، قَالَ: مَا يُبْكِيكَ يَا ثَابِتُ؟ قَالَ: أَنَا رُفَيْعُ الصَّوْتِ وأَتَخَوَّفُ أَنْ تَكُونَ هَذِهِ الْآيَةُ نَزَلَتْ فِيَّ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا بُنَيَّ أَمَا تَرْضَى أَنْ تَعِيشَ حَمِيدًا، وَتُقْتَلَ شَهِيدًا، وَتَدْخُلَ الْجَنَّةَ؟» ، فَقَالَ: رَضِيتُ بِبُشْرَى اللهِ وَرَسُولِهِ، لَا أَرْفَعُ صَوْتِي أَبَدًا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَتْ، {إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ} [الحجرات: ٣] الْآيَةَترجمہ
عاصم بن عدی ان کے پاس سے گزرے تو کہا: اے ثابت! تمہیں کیا رلا رہا ہے؟ انہوں نے کہا: میں بلند آواز والا ہوں اور مجھے خدشہ ہے کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اے بیٹے! کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ تم تعریف کے ساتھ زندہ رہو، شہید ہو کر مرو، اور جنت میں داخل ہو؟“ انہوں نے کہا: میں اللہ اور اس کے رسول کی بشارت پر راضی ہوں، میں کبھی رسول اللہ ﷺ پر اپنی آواز بلند نہیں کروں گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ”بیشک وہ لوگ جو اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں…“ [سورۃ الحجرات: 3]