المعجم الكبير للطبراني
باب الثاء— حرف ثا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ثابت بن قيس بن شماس الأنصاري باب: سیدنا ثابت بن قیس بن شماس انصاری رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 1304
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي لَيْلَى، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: ذُكِرَ الْكِبْرُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَدَّدَ فِيهِ، فَقَالَ: «إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ» ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي لَأَغْسِلُ ثِيَابِي، فَيُعْجِبُنِي بَيَاضُها، وَيُعْجِبُنِي شِرَاكُ نَعْلِي، وعَلَاقَةُ سَوْطِي، فَقَالَ: «لَيْسَ ذَلِكَ الْكِبْرَ، إِنَّمَا الْكِبْرُ أَنْ تُسَفِّهَ الْحَقَّ، وتَغْمِصَ النَّاسَ»ترجمہ
ذکر کیا گیا کہ نبی کریم ﷺ کے سامنے تکبر کا ذکر ہوا تو آپ ﷺ نے اس میں سختی فرمائی اور فرمایا: ”بیشک اللہ ہر تکبر کرنے والے، فخر جتانے والے کو پسند نہیں فرماتا۔“ اس پر لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: اللہ کی قسم، یا رسول اللہ! میں اپنے کپڑے دھوتا ہوں تو ان کی سفیدی مجھے اچھی لگتی ہے، اور مجھے اپنے جوتے کا تسمہ اور اپنے کوڑے کا سِرا بھی اچھا لگتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تکبر نہیں ہے، تکبر تو یہ ہے کہ تم حق کو حقیر جانو اور لوگوں کو حقیر سمجھو۔“