کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَرَأَ مِائَةَ آيَةٍ فِي لَيْلَةٍ، كُتِبَ لَهُ قُنُوتُ لَيْلَةٍ»
ترجمہ
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو کوئی ایک رات میں سو آیات پڑھے، اس کے لیے ایک رات کی قنوت (عبادت) لکھی جائے گی۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب التاء / حدیث: 1241
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 50، حدیث 1252
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ خَازِمٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بُكَيْرٍ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ الذِّمَارِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، وَتَمِيمٍ الدَّارِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَرَأَ عَشْرَ آيَاتٍ فِي لَيْلَةٍ، كُتِبَ لَهُ قِنْطَارٌ، وَالْقِنْطَارُ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ، يَقُولُ رَبُّكَ عَزَّ وَجَلَّ: اقْرَأْ وَارْقَ لِكُلِّ آيَةٍ دَرَجَةً، حَتَّى يَنْتَهِيَ إِلَى آخِرِ آيَةٍ مَعَهُ، يَقُولُ رَبُّكَ عَزَّ وَجَلَّ لِلْعَبْدِ: اقْبِضْ، فَيَقُولُ الْعَبْدُ بِيَدِهِ يَا رَبُّ أَنْتَ أَعْلَمُ، فَيَقُولُ بِهَذِهِ الْخُلْدَ، وَبِهَذِهِ النَّعِيمَ "
ترجمہ
سیدنا فضالہ بن عبید اور سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہما نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو کوئی ایک رات میں دس آیات پڑھے، اس کے لیے ایک قنطار لکھا جائے گا، اور قنطار دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس سے بہتر ہے، تو جب قیامت کا دن ہو گا تو تیرا رب عزوجل فرمائے گا: پڑھتے جاؤ اور ہر آیت پر ایک درجہ چڑھتے جاؤ، یہاں تک کہ وہ آخری آیت تک پہنچ جائے گا جو اس کے پاس ہے، تیرا رب عزوجل اس بندے سے فرمائے گا: اپنے ہاتھ بند کر لو، تو بندہ اپنے ہاتھ سے کہے گا: اے رب! تو ہی بہتر جانتا ہے، تو وہ فرمائے گا: اس ہاتھ میں ہمیشگی ہے، اور اس میں نعمت ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب التاء / حدیث: 1242
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 50، حدیث 1253
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْخَشَّابُ الرَّقِّيُّ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ جَنَّادٍ الْحَلَبِيُّ، ثنا عَطَاءُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ ابْنِ شَوْذَبٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ، عَنْ رَوْحِ بْنِ زِنْبَاعٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى تَمِيمٍ الدَّارِيِّ وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَهُوَ يُنَقِّي لِفَرَسِهِ شَعِيرًا، فَقُلْتُ: أَيُّهَا الْأَمِيرُ أَمَا كَانَ لَكَ مَنْ يَكْفِيكَ هَذَا؟، قَالَ: لَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ نَقَّى لِفَرَسِهِ شَعِيرًا، ثُمَّ قَامَ بِهِ حَتَّى يُعَلِّقُهُ، عَلَيْهِ كَتَبَ اللهُ بِكُلِّ شَعِيرَةٍ حَسَنَةً»
ترجمہ
…میں تمیم داری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور وہ بیت المقدس کے امیر تھے اور اپنے گھوڑے کے لیے جَو چھان رہے تھے، تو میں نے کہا: اے امیر! کیا آپ کے پاس کوئی ایسا نہیں جو یہ کام آپ کے لیے کر دے؟ انہوں نے کہا: نہیں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ”جو کوئی اپنے گھوڑے کے لیے جَو چھانے، پھر اسے لے کر کھڑا ہو یہاں تک کہ اسے تھیلی لٹکا دے، تو اللہ اس کے لیے ہر جَو کے دانے کے بدلے ایک نیکی لکھتا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب التاء / حدیث: 1243
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 51، حدیث 1254
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ، الصَّلَاةُ، ثُمَّ سَائِرُ الْأَعْمَالِ»
ترجمہ
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بندے سے سب سے پہلے نماز کا حساب لیا جائے گا، پھر باقی اعمال کا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب التاء / حدیث: 1244
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 51، حدیث 1255
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَّانِيِّ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ الصَّلَاةُ، ثُمَّ سَائِرُ الْأَعْمَالِ»
ترجمہ
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بندے سے سب سے پہلے نماز کا حساب لیا جائے گا، پھر باقی اعمال کا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب التاء / حدیث: 1245
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 51، حدیث 1256
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ ضِرَارٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ الشَّامِيِّ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْجُمُعَةُ وَاجِبَةٌ، إِلَّا عَلَى امْرَأَةٍ، أَوْ صَبِيٍّ، أَوْ مَرِيضٍ، أَوْ عَبْدٍ، أَوْ مُسَافِرٍ»
ترجمہ
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جمعہ واجب ہے، سوائے عورت، بچے، مریض، غلام، یا مسافر کے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب التاء / حدیث: 1246
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 51، حدیث 1257
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ النَّهْدِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنِ الْحَكَمِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ ضِرَارِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ الشَّامِيِّ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى الزَّوْجَةِ، أَنْ لَا تَهْجُرَ فِرَاشَهُ، وَأَنْ تَبَرَّ قَسَمَهُ، وَأَنْ تُطِيعَ أَمْرَهُ، وَأَنْ لَا تَخْرُجَ إِلَّا بِإِذْنِهِ، وَأَنْ لَا تُدْخِلَ عَلَيْهِ مَنْ يَكْرَهُ»
ترجمہ
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بیوی پر شوہر کا حق یہ ہے کہ وہ اس کا بستر نہ چھوڑے، اس کی قسم پوری کرے، اس کے حکم کی اطاعت کرے، اس کی اجازت کے بغیر گھر سے نہ نکلے، اور اس کے گھر میں کسی ایسے شخص کو نہ آنے دے جسے وہ ناپسند کرے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب التاء / حدیث: 1247
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 52، حدیث 1258
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ جَبَلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالُوا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ ضُمَيْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كُلُّ مُشْكِلٍ حَرَامٌ، وَلَيْسَ فِي الدِّينِ إِشْكَالٌ»
ترجمہ
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر مشکوک چیز حرام ہے، اور دین میں کوئی اشکال (ابہام) نہیں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب التاء / حدیث: 1248
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 52، حدیث 1259
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو النَّعِيمِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا الدِّينُ النَّصِيحَةُ، إِنَّمَا الدِّينُ النَّصِيحَةُ، إِنَّمَا الدِّينُ النَّصِيحَةُ» ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ لِمَنْ؟ قَالَ: «لِلَّهِ، وَلِكِتَابِهِ، وَأَئِمَّةِ الْمُؤْمِنِينَ، وَعَامَّتِهِمْ»
ترجمہ
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دین خیرخواہی ہی کا نام ہے، دین خیرخواہی ہی کا نام ہے، دین خیرخواہی ہی کا نام ہے“ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! کس کے لیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، مسلمانوں کے پیشواؤں کے لیے، اور عام مسلمانوں کے لیے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب التاء / حدیث: 1249
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 52، حدیث 1260
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، مِنْ بَنِي لَيْثٍ عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «الدِّينُ النَّصِيحَةُ، الدِّينُ النَّصِيحَةُ، الدِّينُ النَّصِيحَةُ» ، قَالُوا: لِمَنْ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «لِلَّهِ، وَلِكِتَابِهِ، وَلِرَسُولِهِ، وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ، وَالْمُؤْمِنِينَ، وَعَامَّتِهِمْ»
ترجمہ
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دین خیرخواہی ہے، دین خیرخواہی ہے، دین خیرخواہی ہے“ صحابہ نے عرض کیا: کس کے لیے، یا رسول اللہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، اس کے رسول کے لیے، مسلمانوں کے پیشواؤں اور عام مومنوں کے لیے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب التاء / حدیث: 1250
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 52، حدیث 1261
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا عَفَّانُ، أَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ يَزِيدَ، يُحَدِّثُ عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الدِّينُ النَّصِيحَةُ ثَلَاثًا» ، قُلْتُ: لِمَنْ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «لِلَّهِ، وَلِكِتَابِهِ، وَلِرَسُولِهِ، وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ، وَعَامَّتِهِمْ»
ترجمہ
سہیل بن ابی صالح بیان کرتے ہیں: میں نے عطاء بن یزید کو سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے یہ روایت بیان کرتے سنا کہ نبی کریم ﷺ نے تین بار فرمایا: ”دین خیرخواہی ہے“ میں نے عرض کیا: کس کے لیے، یا رسول اللہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، اس کے رسول کے لیے، مسلمانوں کے پیشواؤں کے لیے، اور عام مسلمانوں کے لیے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب التاء / حدیث: 1251
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 52، حدیث 1262
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الرَّقِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرُّومِيُّ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ قَائِدُ الْأَعْمَشِ عَنْ صَالِحِ بْنِ حَيَّانَ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، رَفَعَهُ قَالَ: «الصَّمَدُ الَّذِي لَا جَوْفَ لَهُ»
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَنَّ سُهَيْلَ بْنَ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ، إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ، إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ» ، قَالُوا: لِمَنْ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «لِلَّهِ، وَلِكِتَابِهِ، وَلِرَسُولِهِ، وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ، وجَمَاعَتِهمْ»
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَنَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ سَلَّامٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الدِّينُ النَّصِيحَةُ» ، قَالُوا: لِمَنْ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «لِلَّهِ وَلِكِتَابِهِ، وَلِرَسُولِهِ، وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ، وَعَامَّتِهِمْ»
ترجمہ
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”صمد وہ ہے جس کا کوئی اندرونی خلا نہ ہو۔“
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک دین خیرخواہی ہے، بے شک دین خیرخواہی ہے، بے شک دین خیرخواہی ہے“ صحابہ نے عرض کیا: کس کے لیے، یا رسول اللہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، اس کے رسول کے لیے، مسلمانوں کے پیشواؤں کے لیے، اور ان کی جماعت کے لیے۔“
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دین خیرخواہی ہے“ صحابہ نے عرض کیا: کس کے لیے، یا رسول اللہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، اس کے رسول کے لیے، مسلمانوں کے پیشواؤں کے لیے، اور عام مسلمانوں کے لیے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب التاء / حدیث: 1252
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 53، حدیث 1263
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: ثنا زُهَيْرُ أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: سَمِعْتُ تَمِيمًا الدَّارِيَّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ ثَلَاثًا» ، قَالُوا: لِمَنْ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «لِلَّهِ وَكِتَابِهِ، وَلِرَسُولِهِ، وَأَئِمَّةِ الْمُؤْمِنِينَ، وَعَامَّتِهِمْ»
ترجمہ
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے تین بار فرمایا: ”دین خیرخواہی ہے“ صحابہ نے عرض کیا: کس کے لیے، یا رسول اللہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اور اس کی کتاب کے لیے، اس کے رسول کے لیے، مومنوں کے پیشواؤں کے لیے، اور عام مومنوں کے لیے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب التاء / حدیث: 1253
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 53، حدیث 1265
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا خَالِدُ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ» ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالُوا: لِمَنْ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «لِلَّهِ، وَمَلَائِكَتَهُ، وَلِرَسُولِهِ، وَلِأَئِمَّةِ الْمُؤْمِنِينَ أَوِ الْمُسْلِمِينَ، وَعَامَّتِهِمْ»
ترجمہ
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے تین بار فرمایا: ”بے شک دین خیرخواہی ہے“ صحابہ نے عرض کیا: کس کے لیے، یا رسول اللہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے لیے، اس کے فرشتوں کے لیے، اس کے رسول کے لیے، مومنوں یا مسلمانوں کے پیشواؤں کے لیے، اور عام لوگوں کے لیے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب التاء / حدیث: 1254
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 54، حدیث 1267
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ زُرَارَةَ الرَّقِّيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الدِّينُ النَّصِيحَةُ، الدِّينُ النَّصِيحَةُ، الدِّينُ النَّصِيحَةُ» ، قَالُوا: لِمَنْ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «لِلَّهِ، وَلِرَسُولِهِ، وَلِكِتَابِهِ، وَلِأَئِمَّةِ الْمُؤْمِنِينَ، وَلِلْمُؤْمِنِينَ عَامَّةً»
ترجمہ
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دین خیرخواہی ہے، دین خیرخواہی ہے، دین خیرخواہی ہے“ صحابہ نے عرض کیا: کس کے لیے، یا رسول اللہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے لیے، اس کے رسول کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، مومنوں کے پیشواؤں کے لیے، اور عام مومنوں کے لیے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب التاء / حدیث: 1255
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 54، حدیث 1268
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ح وَحَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُسَامَةَ الْكَلْبِيُّ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ، ثنا عُمَرُ بْنُ يَزِيدَ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ طِيبَةَ الْمَدِينَةِ، وَمَا نَقَبٌ مِنْ نِقَابِهَا، إِلَّا عَلَيْهِ مَلَكٌ شَاهِرٌ سَيْفَهُ، لَا يَدْخُلُهَا الدَّجَّالُ أَبَدًا» وَقَالَ: أَبُو كُرَيْبٍ عُثْمَانُ بْنُ زَيْدٍ
ترجمہ
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”طیبہ (مدینہ) کے ہر راستے پر ایک فرشتہ اپنی تلوار سونتے کھڑا ہے، دجال اس میں کبھی داخل نہیں ہو سکے گا“ اور ابوکریب نے اپنے استاذ کا نام عثمان بن زید بتایا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب التاء / حدیث: 1256
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 54، حدیث 1269
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو عُبَيْدَةَ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا سَيْفُ بْنُ مِسْكِينٍ، ثنا أَبُو الْأَشْهَبِ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ مُنَادِيَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَادِي: «الصَّلَاةَ جَامِعَةً» ، فَخَرَجْتُ فِي نِسْوَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ حَتَّى أَتَيْنَا الْمَسْجِدَ، فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ، ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَاسْتَقْبَلَنَا بِوَجْهِهِ ضَاحِكًا، ثُمَّ قَالَ: " أَيْ وَاللهِ مَا جَمَعْتُكُمْ لِرَغْبَةٍ حَدَثَتْ، وَلَا لِرَهْبَةٍ إِلَّا لِحَدِيثٍ حَدَّثَنِي بِهِ، تَمِيمٌ الدَّارِيُّ أَتَانِي فَأَسْلَمَ وَبَايَعَ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ رَكِبَ فِي ثَلَاثِينَ رَجُلًا، مِنْ لَخْمٍ، وَجُذَامٍ، وَهُمَا حَيَّانِ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ، مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، صَادَفُوا الْبَحْرَ حِينَ اغْتَلَمَ، فَلَعِبَ بِهِمُ الْمَوْجُ شَهْرًا، ثُمَّ قَذَفَهُمْ قَرِيبًا مِنْ غُرُوبِ الشَّمْسِ، إِلَى جَزِيرَةٍ مِنْ جَزَائِرِ الْبَحْرِ، فَإِذَا نَحْنُ بِدَابَّةٍ أَهْلَبَ لَا يُعْرَفُ قُبُلُهَا، مِنْ دُبُرِهَا، قُلْنَا مَا أَنْتِ أَيَّتُهَا الدَّابَّةِ؟ فَكَلَّمَتْنَا بِإِذْنِ اللهِ بِلِسَانٍ ذَلْقٍ طَلْقٍ، فَقَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ، قُلْنَا: وَمَا الْجَسَّاسَةُ؟ قَالَتْ: إِلَيْكُمْ عَنِّي عَلَيْكُمْ بِذَاكَ الدَّيْرِ فِي أَقْصَى الْجَزِيرَةِ، فَإِنَّ فِيهِ رَجُلًا هُوَ إِلَى خَبَرِكُمْ بِالْأَشْوَاقِ، فَأَتَيْنَا الدَّيْرَ، فَإِذَا نَحْنُ بِرَجُلٍ أَعْظَمَ رَجُلٍ رَأَيْتُهُ قَطُّ خَلْقًا، وأَجْسَمَهُ جِسْمًا، وَإِذَا هُوَ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ الْيُمْنَى، كَأَنَّ عَيْنَهُ نُخَامَةٌ فِي جِدَارٍ مُجَصَّصٍ، وَإِذَا يَدَاهُ مَغْلُولتانِ إِلَى عُنُقِهِ، وَإِذَا رِجْلَاهُ مَشْدُودَتَانِ بِالْكُبُولِ مِنْ رُكْبَتَيْهِ، إِلَى قَدَمَيْهِ، فَقُلْنَا لَهُ: مَا أَنْتَ أَيُّهَا الرَّجُلُ؟ قَالَ: أَمَّا خَبَرِي فَقَدْ قَدَرْتُمْ عَلَيْهِ، وَلَكِنْ أَخْبِرُونِي عَنْ خَبَرِكُمْ، مَا أَوْقَعَكُمْ هَذِهِ الْجَزِيرَةَ؟ وَهَذِهِ الْجَزِيرَةُ لَمْ يَصِلْ إِلَيْهَا آدَمِيٌّ مُنْذُ صِرْتُ إِلَيْهَا، فَقَالَ لَنَا: أَخْبِرُونِي عَنْ بُحَيْرَةِ الطَّبَرِيَّةِ مَا فَعَلَتْ؟ قُلْنَا لَهُ: عَنْ أَيِّ أَمْرِهَا تَسْأَلُ؟ قَالَ: هَلْ نَضَبَ مَاؤُهَا؟ وَهَلْ بَدَأَ فِيهَا مِنَ الْعَجَائِبِ؟ قُلْنَا لَهُ: لَا، قَالَ: إِنَّهُ سَيَكُونُ، ثُمَّ سَكَتَ مَلِيًّا، ثُمَّ قَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ عَيْنِ زُغَرَ مَا فَعَلَتْ؟، قُلْنَا لَهُ عَنْ أَيِّ أَمْرِهَا؟ قَالَ: هَلْ يَحْتَرِثُ عَلَيْهَا أَهْلُهَا؟، قُلْنَا لَهُ: نَعَمْ، قَالَ: أَمَا إِنَّهُ سَوْفَ يَغُورُ عَلَيْهَا مَاؤُهَا، وَلَا يَحْتَرِثُ عَلَيْهَا أَهْلُهَا، ثُمَّ سَكَتَ مَلِيًّا، ثُمَّ قَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ نَخْلِ بَيْسَانَ مَا فَعَلَ؟، قُلْنَا لَهُ: عَنْ أَيِّ أَمْرِهِ تَسْأَلُ؟ قَالَ: هَلْ يُثْمِرُ؟ قُلْنَا لَهُ: نَعَمْ، قَالَ: أَمَا إِنَّهُ لَا يُثْمِرُ، ثُمَّ سَكَتَ مَلِيًّا فَقَالَ: أَخْبِرُونِي عَنِ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ مَا فَعَلَ؟، قُلْنَا لَهُ: عَنْ أَيِّ أَمْرِهِ تَسْأَلُ؟ قَالَ: هَلْ ظَهَرَ بَعْدُ؟ قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: فَمَا صَنَعَتْ مَعَهُ الْعَرَبُ؟ قُلْنَا: مِنْهُمْ مَنْ قَاتَلَهُ، وَمِنْهُمْ مَنْ صَدَّقَهُ، فَقَالَ: إِنَّهُ مَنْ صَدَّقَهُ فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ ثَلَاثًا، فَقُلْنَا: أَخْبِرْنَا خَبَرَكَ أَيُّهَا الرَّجُلُ، فَقَالَ: أَمَا تَعْرِفُونِي؟ قُلْنَا: لَوْ عَرَفْنَاكَ مَا سَأَلْنَاكَ، قَالَ: أَنَا الدَّجَّالُ، يُوشِكُ أَنْ يُؤْذَنَ لِي فِي الْخُرُوجِ، فَإِذَا خَرَجْتُ وَطِئْتُ جَزَائِرَ الْعَرَبِ كُلِّهَا غَيْرَ مَكَّةَ، وَطَيْبَةَ، كُلَّمَا أَرَدْتُهما، اسْتَقْبَلَنِي مَلَكٌ مَعَهُ السَّيْفُ صَلْتًا فَرَدَّنِي عَنْهَا، - قَالَ أَبُو الْأَشْهَبِ: قَالَ عَامِرٌ: قَالَتْ فَاطِمَةُ: فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَافِعًا يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ إِنَّ هَذِهِ طَيْبَةُ» ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ إِنَّهُ فِي نَحْوِ الشَّامِ» ، ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ سَاعَةً، ثُمَّ ارْتَجَّ ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ: «بَلْ هُوَ فِي الْيَمَنِ» ثَلَاثًا، ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ سَاعَةً، وَارْتَجَّ، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، فَقَالَ: " بَلْ هُوَ فِي نَحْوِ الْعِرَاقِ، بَلْ هُوَ فِي نَحْوِ الْعِرَاقِ، بَلْ هُوَ فِي نَحْوِ الْعِرَاقِ، يَخْرُجُ حِينَ يَخْرُجُ مِنْ بَلْدَةٍ، يُقَالُ لَهَا أَصْبَهَانُ مِنْ قَرْيَةٍ مِنْ قُرَاهَا يُقَالُ لَهَا رَسْتَقْبَاذُ يَخْرُجُ حِينَ يَخْرُجُ عَلَى مُقَدِّمَتِهِ سَبْعُونَ أَلْفًا عَلَيْهِمُ السِّيجَانُ، مَعَهُ نَهْرَانِ، نَهَرٌ مِنْ مَاءٍ، وَنَهَرٌ مِنْ نَارٍ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ، فَقِيلَ لَهُ: ادْخُلِ الْمَاءَ فَلَا يَدْخُلْهُ فَإِنَّهُ نَارٌ، وَإِذَا قِيلَ لَهُ ادْخُلِ النَّارَ فَلْيَدْخُلْها فَإِنَّهُ مَاءٌ "
ترجمہ
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کے منادی کو یہ اعلان کرتے سنا: ”نماز کے لیے جمع ہو جاؤ“ تو میں انصار کی کچھ عورتوں کے ساتھ نکلی یہاں تک کہ ہم مسجد آ گئیں، تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی، پھر منبر پر چڑھے، اور ہماری طرف مسکراتے ہوئے متوجہ ہوئے، پھر فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں نے تمہیں کسی نئی خواہش یا خوف کی وجہ سے جمع نہیں کیا، بلکہ ایک ایسی حدیث کی وجہ سے جو تمیم داری نے مجھے سنائی، وہ میرے پاس آیا، مسلمان ہوا اور بیعت کی، تو اس نے مجھے بتایا کہ وہ تیس آدمیوں کے ساتھ کشتی میں سوار ہوا، جو لخم اور جذام قبیلوں سے تھے، اور یہ دونوں یمن کے عرب قبیلوں میں سے ہیں، تو انہیں سمندر نے موجزن حالت میں پکڑ لیا، اور لہریں انہیں ایک مہینے تک کھلواتی رہیں، پھر انہیں سورج ڈوبنے کے وقت کے قریب سمندر کے ایک جزیرے پر لا پھینکا، تو ہم نے وہاں ایک بہت بال والا جانور دیکھا جس کا آگا پیچھے سے پہچانا نہیں جا سکتا تھا، ہم نے کہا: اے جانور! تو کیا ہے؟ تو اس نے اللہ کے حکم سے فصیح و بلیغ زبان میں ہم سے بات کی اور کہا: میں جساسہ ہوں، ہم نے کہا: جساسہ کیا ہے؟ اس نے کہا: مجھ سے آگے بڑھو، اس جزیرے کے آخری کونے میں اس خانقاہ کی طرف جاؤ، وہاں ایک آدمی ہے جو تمہاری خبر سننے کا بہت مشتاق ہے، تو ہم اس خانقاہ کی طرف گئے، وہاں ہم نے ایک ایسا آدمی دیکھا جو جثے میں سب سے بڑا اور جسم میں سب سے ضخیم تھا جو میں نے کبھی دیکھا، اور اس کی دائیں آنکھ مٹی ہوئی تھی، گویا وہ پلستر کی گئی دیوار میں بلغم کا ایک قطرہ ہو، اور اس کے دونوں ہاتھ گردن کے ساتھ زنجیروں میں بندھے تھے، اور اس کی دونوں ٹانگیں گھٹنوں سے قدموں تک بیڑیوں میں جکڑی ہوئی تھیں، تو ہم نے اس سے کہا: اے آدمی! تو کون ہے؟ اس نے کہا: میرا حال تو تم پر ظاہر ہو ہی چکا، لیکن مجھے اپنا حال بتاؤ، تمہیں اس جزیرے میں کیا لایا؟ کیونکہ جب سے میں یہاں آیا ہوں کوئی انسان اس جزیرے تک نہیں پہنچا، پھر اس نے ہم سے کہا: مجھے طبریہ کی جھیل کے بارے میں بتاؤ کہ اس کا کیا حال ہے؟ ہم نے کہا: تم اس کی کس بات کے بارے میں پوچھ رہے ہو؟ اس نے کہا: کیا اس کا پانی خشک ہو گیا ہے؟ اور کیا اس میں کوئی عجیب بات شروع ہو گئی ہے؟ ہم نے کہا: نہیں، اس نے کہا: عنقریب ایسا ہو گا، پھر وہ کافی دیر خاموش رہا، پھر کہا: مجھے زُغَر کے چشمے کے بارے میں بتاؤ کہ اس کا کیا حال ہے؟ ہم نے کہا: تم اس کی کس بات کے بارے میں پوچھ رہے ہو؟ اس نے کہا: کیا اس کے باشندے اس چشمے کے پانی سے کھیتی کرتے ہیں؟ ہم نے کہا: ہاں، اس نے کہا: خبردار! عنقریب اس کا پانی خشک ہو جائے گا اور اس کے باشندے اس سے کھیتی نہیں کر پائیں گے، پھر وہ کافی دیر خاموش رہا، پھر کہا: مجھے بیسان کی کھجوروں کے بارے میں بتاؤ کہ ان کا کیا حال ہے؟ ہم نے کہا: تم ان کی کس بات کے بارے میں پوچھ رہے ہو؟ اس نے کہا: کیا وہ پھل دیتی ہیں؟ ہم نے کہا: ہاں، اس نے کہا: خبردار! وہ عنقریب پھل نہیں دیں گی، پھر وہ کافی دیر خاموش رہا، پھر کہا: مجھے اُمّی نبی کے بارے میں بتاؤ کہ ان کا کیا حال ہے؟ ہم نے کہا: تم ان کی کس بات کے بارے میں پوچھ رہے ہو؟ اس نے کہا: کیا وہ ظاہر ہو چکے ہیں؟ ہم نے کہا: ہاں، اس نے کہا: عربوں نے ان کے ساتھ کیا کیا؟ ہم نے کہا: ان میں سے کچھ نے ان سے لڑائی کی اور کچھ نے ان کی تصدیق کی، تو اس نے کہا: جس نے ان کی تصدیق کی اس کے لیے یہی بہتر ہے، یہ بات اس نے تین بار کہی، پھر ہم نے کہا: اے آدمی! ہمیں اپنا حال بتاؤ، تو اس نے کہا: کیا تم مجھے نہیں پہچانتے؟ ہم نے کہا: اگر ہم تمہیں پہچانتے تو تم سے نہ پوچھتے، اس نے کہا: میں دجال ہوں، قریب ہے کہ مجھے نکلنے کی اجازت دی جائے، تو جب میں نکلوں گا تو مکہ اور طیبہ کے سوا عرب کے تمام جزیروں کو روند ڈالوں گا، جب بھی میں ان دونوں کا ارادہ کروں گا، ایک فرشتہ میرے سامنے کھلی تلوار لیے کھڑا ہو کر مجھے وہاں سے لوٹا دے گا“ ابوالاشہب کہتے ہیں: عامر (شعبی) نے بتایا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: پھر میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ میں نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی، پھر فرمایا: ”سن لو، یہ طیبہ ہے“ تین بار، پھر فرمایا: ”سن لو، وہ (دجال) شام کی طرف ہے“ پھر آپ ﷺ پر کچھ دیر بےہوشی طاری ہوئی، پھر آپ ﷺ کو جنبش ہوئی، پھر یہ کیفیت دور ہوئی، پھر فرمایا: ”بلکہ وہ یمن میں ہے“ تین بار، پھر آپ ﷺ پر کچھ دیر بےہوشی طاری ہوئی اور جنبش ہوئی، پھر یہ کیفیت دور ہوئی تو فرمایا: ”بلکہ وہ عراق کی طرف ہے، بلکہ وہ عراق کی طرف ہے، بلکہ وہ عراق کی طرف ہے، وہ اس وقت نکلے گا جب اصفہان نامی شہر کی ایک بستی سے نکلے گا جسے رستقباذ کہا جاتا ہے، وہ جب نکلے گا تو اس کے آگے ستر ہزار لوگ ہوں گے جو ریشمی چادریں پہنے ہوں گے، اس کے ساتھ دو نہریں ہوں گی، ایک پانی کی نہر اور ایک آگ کی نہر، تو تم میں سے جو کوئی وہ وقت پائے، اور اسے کہا جائے پانی میں داخل ہو، تو وہ اس میں داخل نہ ہو کیونکہ وہ حقیقت میں آگ ہے، اور جب اسے کہا جائے آگ میں داخل ہو، تو وہ اس میں داخل ہو جائے کیونکہ وہ حقیقت میں پانی ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب التاء / حدیث: 1257
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 54، حدیث 1270
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ الْمِشْرَقِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ الدَّجَّالَ قَالَ: مِنْ نَحْوِ الْعِرَاقِ مَا هُوَ مِنْ نَحْوِ الشَّامِ مَا هُوَ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ترجمہ
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے دجال کا ذکر کیا اور فرمایا: ”وہ عراق کی طرف ہے، نہیں بلکہ وہ شام کی طرف ہے“ اور پوری حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب التاء / حدیث: 1258
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 54، حدیث 1271
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ ابْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ الرَّجُلُ يُسْلِمُ عَلَى يَدَيَّ فَيَمُوتُ، قَالَ: «أَنْتَ أَحَقُّ النَّاسِ، بِمَحْيَاهُ، وَمَمَاتِهِ»
ترجمہ
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک آدمی میرے ہاتھ پر مسلمان ہوتا ہے، پھر وہ مر جاتا ہے (کیا حکم ہے)؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اس کے جینے اور مرنے دونوں کے سب سے زیادہ حقدار ہو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب التاء / حدیث: 1259
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 56، حدیث 1272
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، قَالَا: ثنا هِشَامُ بْنُ عُمَارَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَوْهَبٍ، يُحَدِّثُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا السُّنَّةُ، فِي رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْكُفْرِ، يُسْلِمُ عَلَى يَدَيْ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ؟ قَالَ: «هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِمَحْيَاهُ، وَمَمَاتِهِ»
ترجمہ
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک کافر آدمی کسی مسلمان کے ہاتھ پر اسلام قبول کرتا ہے، تو اس میں سنت کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ (مسلمان) اس کے جینے اور مرنے دونوں کا سب سے زیادہ حقدار ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب التاء / حدیث: 1260
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 56، حدیث 1273
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ الرَّجُلُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، يُسْلِمُ عَلَى يَدَيْ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ؟ قَالَ: «هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِمَحْيَاهُ، وَمَمَاتِهِ»
ترجمہ
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مشرکین میں سے ایک آدمی کسی مسلمان کے ہاتھ پر اسلام قبول کرتا ہے (کیا حکم ہے)؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ (مسلمان) اس کے جینے اور مرنے دونوں کا سب سے زیادہ حقدار ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب التاء / حدیث: 1261
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 57، حدیث 1274
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، أَنَّهُ كَانَ يُهْدِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّ عَامٍ رَاوِيَةَ خَمْرٍ، فَلَمَّا كَانَ عَامُ حُرِّمَتْ، أَهْدَى لَهُ رَاوِيَةً، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنَّهَا قَدْ حُرِّمَتْ» ، قَالَ: فَأَبِيعُها؟ قَالَ: «إِنَّهُ حَرَامٌ شِرَاؤُهَا، وَثَمَنُهَا»
ترجمہ
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ ہر سال نبی کریم ﷺ کو شراب کا ایک مشکیزہ ہدیہ کیا کرتے تھے، تو جس سال شراب حرام کی گئی، انہوں نے پھر بھی ایک مشکیزہ ہدیہ کیا، تو نبی کریم ﷺ مسکرائے اور فرمایا: ”یہ تو حرام کر دی گئی ہے“ انہوں نے عرض کیا: تو کیا میں اسے بیچ دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا خریدنا اور اس کی قیمت لینا دونوں حرام ہیں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب التاء / حدیث: 1262
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 57، حدیث 1275
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحَرِيشِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْهُذَلِيِّ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ قَوْمًا يَجُبُّونَ أَسْنِمَةَ الْإِبِلِ، وَيَقْطَعُونَ أَذْنَابَ الْغَنَمِ، قَالَ: «كُلُّ مَا قُطِعَ مِنَ الْحَيِّ، فَهُوَ مَيِّتٌ»
ترجمہ
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ سے عرض کیا گیا کہ کچھ لوگ اونٹوں کے کوہان کاٹ لیتے ہیں اور بکریوں کی دمیں کاٹ لیتے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو کچھ زندہ جانور سے کاٹا جائے وہ مردار ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب التاء / حدیث: 1263
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 57، حدیث 1276
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أُنَاسًا يَجُبُّونَ أَسْنِمَةَ الْإِبِلِ، وَأَذْنَابَ الْغَنَمِ، وَهِي أَحْيَاءُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا قُطِعَ مِنَ الْبَهِيمَةِ، وَهِي حَيَّةٌ فَهُوَ مَيْتَةٌ»
ترجمہ
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کچھ لوگ اونٹوں کے کوہان اور بکریوں کی دمیں ان کے زندہ ہوتے ہوئے کاٹ لیتے ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو کچھ جانور سے اس کے زندہ ہوتے ہوئے کاٹا جائے وہ مردار ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب التاء / حدیث: 1264
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 57، حدیث 1277
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ زُغْبَةُ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الْخَلِيلِ بْنِ مُرَّةَ، عَنِ الْأَزْهَرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْحِمْصِيِّ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ شَهِدَ أَنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاحِدًا أَحَدًا صَمَدًا لَمْ يَتَّخِذْ صَاحِبَةً، وَلَا وَلَدًا، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ، عَشْرَ مَرَّاتٍ كَتَبَ اللهُ لَهُ أَرْبَعِينَ أَلْفَ حَسَنَةً»
ترجمہ
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو کوئی دس بار گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، یکتا ہے، بے نیاز ہے، اس نے نہ کوئی بیوی بنائی نہ اولاد، اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے، تو اللہ اس کے لیے چالیس ہزار نیکیاں لکھ دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب التاء / حدیث: 1265
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 57، حدیث 1278
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَا بَهْرَامَ الْإِيذَجِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الدِّرْهَمِيُّ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ الْعَلَاءِ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سَوَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ: اسْتَقْطَعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَرْضًا بِالشَّامِ قَبْلَ أَنْ تُفْتَحَ، فَأَعْطَانِيهَا فَفَتَحَهَا عُمَرُ فِي زَمَانِهِ فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: «إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي أَرْضًا، مِنْ كَذَا إِلَى كَذَا، فَجَعَلَ عُمَرُ رَضِي اللهُ عَنْهُ ثُلُثَهَا لِابْنِ السَّبِيلِ، وَثُلُثًا لِعِمَارَتِها، وَثُلُثًا لَنَا»
ترجمہ
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے شام کی ایک زمین جاگیر کے طور پر مانگی، اس وقت جب وہ ابھی فتح نہیں ہوئی تھی، تو آپ ﷺ نے وہ مجھے عطا فرما دی، پھر جب عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں وہ فتح ہوئی تو میں ان کے پاس آیا اور کہا: رسول اللہ ﷺ نے مجھے فلاں سے فلاں تک زمین عطا فرمائی تھی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا ایک تہائی مسافروں کے لیے، ایک تہائی اس کی آبادکاری کے لیے، اور ایک تہائی ہمارے لیے مقرر کر دیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب التاء / حدیث: 1266
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 58، حدیث 1279
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ عَافِيَةَ بْنِ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي جَدِّي، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، أنَّ أَبَا يَحْيَى سُلَيْمَ بْنَ عَامِرٍ الْخَبَائِرِيَّ حَدَّثَهُ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَيَبْلُغَنَّ هَذَا الدِّينُ مَا بَلَغَ اللَّيْلُ، حَتَّى يَدْخُلَ بَيْتَ الْمَدَرِ، وَبَيْتَ الْوَبَرِ، حَتَّى يُعِزَّ اللهُ بِهِ الْإِسْلَامَ، وَيُذِلَّ الْكُفَّارَ» قَالَ تَمِيمٌ: «قَدْ عَرَفْتُ ذَلِكَ فِي أَهْلِ بَيْتِي قَدْ أَصَابَ مَنْ أَسْلَمَ مِنْهُمُ الْخَيْرُ، وَالشَّرَفُ، وَالْعِزُّ، وَأَصَابَ مَنْ ثَبَتَ مِنْهُمْ عَلَى الْكُفْرِ الذُّلُّ، وَالصَّغَارُ، وَالْجِزْيَةُ»
ترجمہ
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”یہ دین وہاں تک پہنچے گا جہاں تک رات پہنچتی ہے، یہاں تک کہ ہر مٹی کے گھر اور ہر بالوں کے خیمے میں داخل ہو گا، یہاں تک کہ اللہ اس کے ذریعے اسلام کو عزت دے گا اور کفار کو ذلیل کرے گا“ تمیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”میں نے یہ اپنے گھر والوں میں دیکھ لیا، ان میں سے جس نے اسلام قبول کیا اسے بھلائی، شرف اور عزت ملی، اور جو کفر پر جما رہا اسے ذلت، پستی اور جزیہ ملا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب التاء / حدیث: 1267
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 58، حدیث 1280
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: أَخْبَرَ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ، أَوْ أُخْبِرْتُ عَنْهُ، أَنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ، رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ نَهْيِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِي اللهُ عَنْهُ، عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَأَتَاهُ فَضَرَبَهُ بِالدِّرَّةِ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ تَمِيمٌ أَنِ اجْلِسْ، وَهُوَ فِي صَلَاتِهِ فَجَلَسَ عُمَرُ حَتَّى فَرَغَ تَمِيمٌ، فَقَالَ لِعُمَرَ: لِمَ ضَرَبْتَنِي؟ قَالَ: لِأَنَّكَ رَكَعْتَ هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ وَقَدْ نَهَيْتُ عَنْهُمَا، قَالَ: فَإِنِّي " قَدْ صَلَّيْتُهُمَا مَعَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِي اللهُ عَنْهُ: «إِنِّي لَيْسَ بِي إِيَّاكُمْ أَيُّهَا الرَّهْطُ، وَلَكِنِّي أَخَافُ أَنْ يَأْتِيَ بَعْدَكُمْ قَوْمٌ، يُصَلُّونَ مَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلَى الْمَغْرِبِ، حَتَّى يَمُرُّوا بِالسَّاعةِ، الَّتِي نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلَّى فِيهَا، كَمَا وَصَلُوا بَيْنَ الظُّهْرِ، وَالْعَصْرِ ثُمَّ يَقُولُونَ قَدْ رَأَيْنَا فُلَانَ، وَفُلَانَ يُصَلُّونَ بَعْدَ الْعَصْرِ»
ترجمہ
…(عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا:) تم نے مجھے کیوں دیکھا؟ (راوی نے) کہا: اس لیے کہ تم نے یہ دو رکعتیں پڑھیں جن سے میں نے منع کیا تھا، (تمیم رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے تو یہ رکعتیں تم سے بہتر شخصیت کے ساتھ پڑھی ہیں، رسول اللہ ﷺ کے ساتھ، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میرا مقصد تمہیں منع کرنا نہیں تھا اے گروہ، بلکہ مجھے یہ ڈر ہے کہ تمہارے بعد ایسے لوگ آئیں جو عصر سے مغرب تک نماز پڑھتے رہیں، یہاں تک کہ وہ اس وقت میں بھی داخل ہو جائیں جس میں رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھنے سے منع فرمایا تھا، جیسے انہوں نے ظہر اور عصر کے درمیان کو ملا دیا، پھر کہیں گے: ہم نے فلاں اور فلاں کو عصر کے بعد نماز پڑھتے دیکھا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب التاء / حدیث: 1268
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 58، حدیث 1281