المعجم الكبير للطبراني
باب التاء— حرف تا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ما أسند تميم الداري باب: سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کی مرویات
حدیث نمبر: 1262
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، أَنَّهُ كَانَ يُهْدِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّ عَامٍ رَاوِيَةَ خَمْرٍ، فَلَمَّا كَانَ عَامُ حُرِّمَتْ، أَهْدَى لَهُ رَاوِيَةً، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنَّهَا قَدْ حُرِّمَتْ» ، قَالَ: فَأَبِيعُها؟ قَالَ: «إِنَّهُ حَرَامٌ شِرَاؤُهَا، وَثَمَنُهَا»ترجمہ
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ ہر سال نبی کریم ﷺ کو شراب کا ایک مشکیزہ ہدیہ کیا کرتے تھے، تو جس سال شراب حرام کی گئی، انہوں نے پھر بھی ایک مشکیزہ ہدیہ کیا، تو نبی کریم ﷺ مسکرائے اور فرمایا: ”یہ تو حرام کر دی گئی ہے“ انہوں نے عرض کیا: تو کیا میں اسے بیچ دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا خریدنا اور اس کی قیمت لینا دونوں حرام ہیں۔“