المعجم الكبير للطبراني
باب التاء— حرف تا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ما أسند تميم الداري باب: سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کی مرویات
حدیث نمبر: 1266
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَا بَهْرَامَ الْإِيذَجِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الدِّرْهَمِيُّ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ الْعَلَاءِ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سَوَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ: اسْتَقْطَعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَرْضًا بِالشَّامِ قَبْلَ أَنْ تُفْتَحَ، فَأَعْطَانِيهَا فَفَتَحَهَا عُمَرُ فِي زَمَانِهِ فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: «إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي أَرْضًا، مِنْ كَذَا إِلَى كَذَا، فَجَعَلَ عُمَرُ رَضِي اللهُ عَنْهُ ثُلُثَهَا لِابْنِ السَّبِيلِ، وَثُلُثًا لِعِمَارَتِها، وَثُلُثًا لَنَا»ترجمہ
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے شام کی ایک زمین جاگیر کے طور پر مانگی، اس وقت جب وہ ابھی فتح نہیں ہوئی تھی، تو آپ ﷺ نے وہ مجھے عطا فرما دی، پھر جب عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں وہ فتح ہوئی تو میں ان کے پاس آیا اور کہا: رسول اللہ ﷺ نے مجھے فلاں سے فلاں تک زمین عطا فرمائی تھی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا ایک تہائی مسافروں کے لیے، ایک تہائی اس کی آبادکاری کے لیے، اور ایک تہائی ہمارے لیے مقرر کر دیا۔