المعجم الكبير للطبراني
باب التاء— حرف تا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ما أسند تميم الداري باب: سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کی مرویات
حدیث نمبر: 1260
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، قَالَا: ثنا هِشَامُ بْنُ عُمَارَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَوْهَبٍ، يُحَدِّثُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا السُّنَّةُ، فِي رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْكُفْرِ، يُسْلِمُ عَلَى يَدَيْ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ؟ قَالَ: «هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِمَحْيَاهُ، وَمَمَاتِهِ»ترجمہ
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک کافر آدمی کسی مسلمان کے ہاتھ پر اسلام قبول کرتا ہے، تو اس میں سنت کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ (مسلمان) اس کے جینے اور مرنے دونوں کا سب سے زیادہ حقدار ہے۔“