❮
❯
حدیث نمبر: 1268
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: أَخْبَرَ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ، أَوْ أُخْبِرْتُ عَنْهُ، أَنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ، رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ نَهْيِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِي اللهُ عَنْهُ، عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَأَتَاهُ فَضَرَبَهُ بِالدِّرَّةِ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ تَمِيمٌ أَنِ اجْلِسْ، وَهُوَ فِي صَلَاتِهِ فَجَلَسَ عُمَرُ حَتَّى فَرَغَ تَمِيمٌ، فَقَالَ لِعُمَرَ: لِمَ ضَرَبْتَنِي؟ قَالَ: لِأَنَّكَ رَكَعْتَ هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ وَقَدْ نَهَيْتُ عَنْهُمَا، قَالَ: فَإِنِّي " قَدْ صَلَّيْتُهُمَا مَعَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِي اللهُ عَنْهُ: «إِنِّي لَيْسَ بِي إِيَّاكُمْ أَيُّهَا الرَّهْطُ، وَلَكِنِّي أَخَافُ أَنْ يَأْتِيَ بَعْدَكُمْ قَوْمٌ، يُصَلُّونَ مَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلَى الْمَغْرِبِ، حَتَّى يَمُرُّوا بِالسَّاعةِ، الَّتِي نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلَّى فِيهَا، كَمَا وَصَلُوا بَيْنَ الظُّهْرِ، وَالْعَصْرِ ثُمَّ يَقُولُونَ قَدْ رَأَيْنَا فُلَانَ، وَفُلَانَ يُصَلُّونَ بَعْدَ الْعَصْرِ»
ترجمہ

عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: تمیم داری رضی اللہ عنہ نے خود مجھے بتایا - یا مجھے ان کے بارے میں بتایا گیا - کہ تمیم داری رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع کرنے کے بعد دو رکعتیں پڑھیں، تو عمر ان کے پاس آئے اور انہیں دُرّے سے مارا، تو تمیم رضی اللہ عنہ نے، جبکہ وہ اپنی نماز میں تھے، انہیں اشارہ کیا کہ بیٹھ جائیں، تو عمر بیٹھ گئے یہاں تک کہ تمیم فارغ ہوئے، تو انہوں نے عمر سے پوچھا: آپ نے مجھے کیوں مارا؟ انہوں نے کہا: اس لیے کہ تم نے یہ دو رکعتیں پڑھیں جن سے میں نے منع کیا تھا۔ انہوں نے کہا: میں نے تو یہ رکعتیں تم سے بہتر شخصیت کے ساتھ پڑھی ہیں، رسول اللہ ﷺ کے ساتھ۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میرا مقصد تمہیں منع کرنا نہیں تھا اے گروہ، بلکہ مجھے یہ ڈر ہے کہ تمہارے بعد ایسے لوگ آئیں جو عصر سے مغرب تک نماز پڑھتے رہیں، یہاں تک کہ وہ اس وقت میں بھی داخل ہو جائیں جس میں رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھنے سے منع فرمایا تھا، جیسے انہوں نے ظہر اور عصر کے درمیان کو ملا دیا، پھر کہیں گے: ہم نے فلاں اور فلاں کو عصر کے بعد نماز پڑھتے دیکھا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب التاء / حدیث: 1268
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 58، حدیث 1281