المعجم الكبير للطبراني
باب التاء— حرف تا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ما أسند تميم الداري باب: سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کی مرویات
حدیث نمبر: 1243
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْخَشَّابُ الرَّقِّيُّ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ جَنَّادٍ الْحَلَبِيُّ، ثنا عَطَاءُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ ابْنِ شَوْذَبٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ، عَنْ رَوْحِ بْنِ زِنْبَاعٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى تَمِيمٍ الدَّارِيِّ وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَهُوَ يُنَقِّي لِفَرَسِهِ شَعِيرًا، فَقُلْتُ: أَيُّهَا الْأَمِيرُ أَمَا كَانَ لَكَ مَنْ يَكْفِيكَ هَذَا؟، قَالَ: لَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ نَقَّى لِفَرَسِهِ شَعِيرًا، ثُمَّ قَامَ بِهِ حَتَّى يُعَلِّقُهُ، عَلَيْهِ كَتَبَ اللهُ بِكُلِّ شَعِيرَةٍ حَسَنَةً»ترجمہ
…میں تمیم داری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور وہ بیت المقدس کے امیر تھے اور اپنے گھوڑے کے لیے جَو چھان رہے تھے، تو میں نے کہا: اے امیر! کیا آپ کے پاس کوئی ایسا نہیں جو یہ کام آپ کے لیے کر دے؟ انہوں نے کہا: نہیں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ”جو کوئی اپنے گھوڑے کے لیے جَو چھانے، پھر اسے لے کر کھڑا ہو یہاں تک کہ اسے تھیلی لٹکا دے، تو اللہ اس کے لیے ہر جَو کے دانے کے بدلے ایک نیکی لکھتا ہے۔“