کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: ابن صیاد اور اس کے دجال ہونے میں تردد کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : لَقِيتُ ابْنَ صَيَّادٍ يَوْمًا ، وَمَعَهُ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ ، فَإِذَا عَيْنُهُ قَدْ طُفِئَتْ ، وَكَانَتْ خَارِجَةً مِثْلَ عَيْنِ الْجَمَلِ ، فَلَمَّا رَأَيْتُهَا قُلْتُ : ابْنَ صَيَّادٍ ! ، أَنْشُدُكَ اللهَ مَتَى طُفِئَتْ عَيْنُكَ ؟ فَمَسَحَهَا ، وَقَالَ : لَا أَدْرِي وَالرَّحْمَنِ ، فَقُلْتُ : كَذَبْتَ ، لَا تَدْرِي وَهِيَ فِي رَأْسِكَ ، فَزَعَمَ لِي الْيَهُودِيُّ أَنِّي ضَرَبْتُ بِيَدِي عَلَى صَدْرِهِ وَلَا أَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ، فَقُلْتُ : اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ ، قَالَ : أَجَلْ ، لَا أَعْدُو قَدْرِي ، قَالَ : وَذَكَرَ شَيْئًا لَا أَحْفَظُهُ ، قَالَ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِحَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، فَقَالَتِ : اجْتَنِبْ هَذَا الرَّجُلَ فَإِنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ الدَّجَّالَ يَخْرُجُ عِنْدَ غَضْبَةٍ يَغْضَبُهَا .
قُلْتُ : أَخْرَجَ مُسْلِمٌ حَدِيثَ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " إِنَّ الدَّجَّالَ يَخْرُجُ عِنْدَ غَضْبَةٍ يَغْضَبُهَا " وَلَمْ يُخَرِّجْ أَوَّلَ الْقِصَّةِ الْمَذْكُورَةِ هُنَا بِهَذَا السِّيَاقِ .
قُلْتُ : أَخْرَجَ مُسْلِمٌ حَدِيثَ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " إِنَّ الدَّجَّالَ يَخْرُجُ عِنْدَ غَضْبَةٍ يَغْضَبُهَا " وَلَمْ يُخَرِّجْ أَوَّلَ الْقِصَّةِ الْمَذْكُورَةِ هُنَا بِهَذَا السِّيَاقِ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ ایک دن میری ملاقات ابنِ صیاد سے ہوئی، اس کے ساتھ ایک یہودی شخص بھی تھا، اچانک میری نظر اس کی آنکھ پر پڑی جو ضائع ہو چکی تھی اور وہ اونٹ کی آنکھ کی طرح باہر کو ابھری ہوئی تھی، میں نے اسے دیکھ کر کہا: ”اے ابنِ صیاد! میں تجھے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ تیری یہ آنکھ کب ضائع ہوئی؟“ اس نے اپنی آنکھ پر ہاتھ پھیرا اور کہنے لگا: ”اللہ رحمان کی قسم! مجھے کچھ علم نہیں۔“ میں نے کہا: ”تو جھوٹ کہتا ہے، آنکھ تیرے سر میں موجود ہے اور تجھے پتا ہی نہیں؟“ اس یہودی کا گمان تھا کہ میں نے اس کے سینے پر اپنے ہاتھ سے مارا ہے، حالانکہ مجھے یاد نہیں کہ میں نے ایسا کیا ہو، پھر میں نے ابنِ صیاد سے کہا: ”دور ہو جا! تو اپنی مقررہ اوقات سے ہرگز آگے نہیں بڑھ سکے گا۔“ اس نے جواب دیا: ”جی ہاں، میں اپنی اوقات سے تجاوز نہیں کروں گا۔“ راوی کہتے ہیں کہ اس نے کچھ اور باتیں بھی ذکر کیں جو مجھے یاد نہ رہیں، پھر میں نے اس واقعے کا تذکرہ ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے کیا تو انہوں نے فرمایا: ”اس شخص سے پرہیز کرو کیونکہ ہم یہ تذکرہ کیا کرتے تھے کہ دجال اس وقت برآمد ہوگا جب اسے شدید غصہ آئے گا۔“
میں کہتا ہوں کہ امام مسلم نے نافع کی سند سے، انہوں نے ابنِ عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے یہ روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”بے شک دجال کا خروج اس کے کسی شدید غصے کی وجہ سے ہوگا“، لیکن انہوں نے اس قصے کا ابتدائی حصہ اس مخصوص سیاق و سباق کے ساتھ یہاں نقل نہیں کیا۔
میں کہتا ہوں کہ امام مسلم نے نافع کی سند سے، انہوں نے ابنِ عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے یہ روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”بے شک دجال کا خروج اس کے کسی شدید غصے کی وجہ سے ہوگا“، لیکن انہوں نے اس قصے کا ابتدائی حصہ اس مخصوص سیاق و سباق کے ساتھ یہاں نقل نہیں کیا۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتِ : ابْنُ صَيَّادٍ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ مَسْرُورًا ، أَعْوَرَ ، مَخْتُونًا .
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے ابنِ صیاد کے متعلق فرمایا: ”ابنِ صیاد کو اس کی ماں نے اس کیفیت میں جنم دیا کہ اس کی ناف پیدائشی طور پر کٹی ہوئی تھی، وہ ایک آنکھ سے کانا تھا اور اس کے ختنے بھی (قدرتی طور پر) ہوئے تھے۔“
امام احمد بن منیع نے اس حدیث کو اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ اور مستند ہیں۔
امام احمد بن منیع نے اس حدیث کو اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ اور مستند ہیں۔
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، ثَنَا عَبَّادٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا سَمِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنِ صَيَّادٍ ، قَامَ إِلَيْهِ فِي بَعْضِ أَصْحَابِهِ ، فَقَالَتْ أُمُّهُ : هُوَ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ ، قَالَتْ : وَلَدْتُهُ أَعْوَرَ ، مَخْتُونًا ، فَدَعَا بِهِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللهِ ؟ فَقَالَ : أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : آمَنْتُ بِاللهِ وَرُسُلِهِ ، قَالَ : قَدْ خَبَأْتُ لَكَ شَيْئًا فَمَا هُوَ ؟ قَالَ : دُخٌّ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اخْسَأْ ، فَقَالَ : انْظُرْ مَا تَرَى ؟ قَالَ : أَرَى إِعْصَارًا وَعَرْشًا عَلَى الْمَاءِ ، فَقَالَ : لُبِسَ عَلَيْهِ ، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَلَا أَقْتُلُهُ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنْ يَكُنْ هُوَ الدَّجَّالَ لَا تُسَلَّطُ عَلَى قَتْلِهِ ، وَإِنْ لَا يَكُنِ الدَّجَّالَ فَلَا يَحِلُّ قَتْلُهُ .
ترجمہ
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے ابنِ صیاد کے بارے میں سنا تو آپ ﷺ اپنے چند صحابہ کرام کے ہمراہ اس کی طرف تشریف لے گئے، اس کی ماں نے (آپ ﷺ کو دیکھ کر) کہا: وہ بچوں کے ساتھ کھیل رہا ہے، نیز اس نے بتایا کہ جب وہ پیدا ہوا تھا تو کانا اور ختنہ شدہ تھا۔ آپ ﷺ نے اسے بلوایا اور رسول اللہ ﷺ نے اس سے دریافت فرمایا: ”کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“ اس نے (جواب دینے کے بجائے الٹا آپ ﷺ سے) کہا: ”کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“ رسول اللہ ﷺ نے (اس کی ہٹ دھرمی دیکھ کر) فرمایا: ”میں اللہ اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان لایا۔“ پھر آپ ﷺ نے اس کا امتحان لینے کے لیے فرمایا: ”میں نے اپنے دل میں تیرے لیے ایک بات چھپا رکھی ہے، بتاؤ وہ کیا ہے؟“ اس نے کہا: ”وہ ’دُخ‘ (دھواں) ہے۔“ آپ ﷺ نے اسے سخت لہجے میں فرمایا: «اخْسَأْ» ”ذلیل و خوار ہو کر اپنی حد میں رہو (تم اپنی شیطانی حد سے آگے نہیں بڑھ سکتے)۔“ پھر آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تمہیں (اپنے کشف میں) کیا نظر آتا ہے؟“ اس نے کہا: ”میں ایک بگولا دیکھ رہا ہوں اور پانی پر ایک تخت دیکھ رہا ہوں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس پر معاملہ مشتبہ اور خلط ملط کر دیا گیا ہے (یعنی اس پر شیطانی اثرات ہیں)۔“ اس موقع پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا میں اسے قتل نہ کر دوں؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اگر یہ وہی (دجالِ اکبر) ہے تو تم اسے قتل کرنے پر قدرت نہیں پاؤ گے، اور اگر وہ نہیں ہے تو پھر اس کا قتل کرنا تمہارے لیے حلال نہیں ہے۔“
تخریج: اس حدیث کو امام حارث نے اپنی مسند (بغیۃ الباحث: 4515) میں روایت کیا ہے، اس کی اصل صحیح بخاری (1355) اور صحیح مسلم (2930) میں موجود ہے، جہاں ابنِ صیاد کے تفصیلی واقعات مروی ہیں۔
تخریج: اس حدیث کو امام حارث نے اپنی مسند (بغیۃ الباحث: 4515) میں روایت کیا ہے، اس کی اصل صحیح بخاری (1355) اور صحیح مسلم (2930) میں موجود ہے، جہاں ابنِ صیاد کے تفصیلی واقعات مروی ہیں۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، قَالَ : قَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَمْرٍو لِحُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : أَلَا تُحَدِّثُنَا بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : بَلَى ، سَمِعْتُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِنَّ مَعَ الدَّجَّالِ إِذَا خَرَجَ مَاءً وَنَارًا ، فَأَمَّا الَّذِي يَرَى النَّاسُ أَنَّهُ مَاءٌ ، فَنَارٌ تُحْرِقُ ، وَأَمَّا الَّذِي يَرَى النَّاسُ أَنَّهُ نَارٌ ، فَإِنَّهُ مَاءٌ بَارِدٌ ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَلْيَقَعْ فِي الَّذِي يَرَى أَنَّهُ نَارٌ ، فَإِنَّهُ مَاءٌ بَارِدٌ ، فَقَالَ عُقْبَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : وَأَنَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ ذَلِكَ .
قُلْتُ : حَدِيثُ حُذَيْفَةَ عِنْدَهُمْ .
قُلْتُ : حَدِيثُ حُذَيْفَةَ عِنْدَهُمْ .
ترجمہ
ربعی بن حراش رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ کیا آپ ہمیں وہ حدیث نہیں سنائیں گے جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سماعت فرمائی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: کیوں نہیں، میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: ”دجال جب ظاہر ہوگا تو اس کے ساتھ پانی اور آگ (دونوں) ہوں گے؛ پس جسے لوگ بظاہر پانی دیکھ رہے ہوں گے وہ درحقیقت جلا دینے والی آگ ہوگی، اور جسے لوگ آگ سمجھ رہے ہوں گے وہ دراصل ٹھنڈا اور شیریں پانی ہوگا، لہٰذا تم میں سے جو شخص اس زمانے کو پائے اور اسے ایسی صورتحال درپیش ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اسی چیز میں کود جائے جسے وہ آگ دیکھ رہا ہوگا، کیونکہ وہ فی الواقع ٹھنڈا پانی ہوگا“۔ اس پر سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے (تصدیقاً) فرمایا کہ میں نے بھی رسول اللہ ﷺ سے بالکل اسی طرح سنا ہے۔
میں (امام بوسہری) کہتا ہوں: سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ان (دیگر محدثین) کے ہاں بھی موجود ہے۔
میں (امام بوسہری) کہتا ہوں: سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ان (دیگر محدثین) کے ہاں بھی موجود ہے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَكُونُ أَمَامَ الدَّجَّالِ سِنُونَ خَوَادِعُ ، يَكْثُرُ فِيهَا الْمَطَرُ ، وَيَقِلُّ فِيهَا النَّبْتُ ، وَيُكَذَّبُ فِيهَا الصَّادِقُ ، وَيُصَدَّقُ فِيهَا الْكَاذِبُ ، وَيُؤْتَمَنُ فِيهَا الْخَائِنُ ، وَيُخَوَّنُ فِيهَا الْأَمِينُ ، وَتَنْطِقُ فِيهَا الرُّوَيْبِضَةُ ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، وَمَا الرُّوَيْبِضَةُ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ لَا يُؤْبَهُ لَهُ .
4517 \ 2 - رَوَاهُ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، بِهِ ، وَقَالَ فِي إِسْنَادِهِ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ : وَمَا الرُّوَيْبِضَةُ ؟ قَالَ : الْمَرْءُ التَّافِهُ يَتَكَلَّمُ فِي أَمْرِ الْعَامَّةِ .
4517 \ 2 - رَوَاهُ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، بِهِ ، وَقَالَ فِي إِسْنَادِهِ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ : وَمَا الرُّوَيْبِضَةُ ؟ قَالَ : الْمَرْءُ التَّافِهُ يَتَكَلَّمُ فِي أَمْرِ الْعَامَّةِ .
ترجمہ
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”دجال کے ظہور سے پہلے مکر و فریب پر مبنی دھوکہ دینے والے سال ہوں گے، جن میں بارش کی کثرت ہوگی مگر زمین کی نباتات و پیداوار بہت کم ہو جائے گی، اس دور میں سچے انسان کی تکذیب کی جائے گی اور جھوٹے شخص کی تصدیق و تائید کی جائے گی، بددیانت و خائن کو امانت دار سمجھ کر اس پر بھروسہ کیا جائے گا جبکہ اصل امانت دار پر خیانت کی تہمت لگا کر اسے غیر معتبر ٹھہرایا جائے گا، اور ان برسوں میں ”رویبضہ“ کلام کریں گے۔“ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ ”رویبضہ“ کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”وہ معمولی شخص جس کی معاشرے میں کوئی وقعت اور اہمیت نہ ہو۔“
اس حدیث کو امام بزار نے بھی اپنی سند میں ابو کریب کے واسطے سے روایت کیا ہے جس میں محمد بن اسحاق نے تحدیث کی صراحت کی ہے، نیز اس روایت کے آخر میں ”رویبضہ“ کی وضاحت ان الفاظ میں مروی ہے: ”وہ حقیر اور کم ظرف انسان جو عوام الناس کے اجتماعی معاملات میں لب کشائی کرے۔“
اس حدیث کو امام بزار نے بھی اپنی سند میں ابو کریب کے واسطے سے روایت کیا ہے جس میں محمد بن اسحاق نے تحدیث کی صراحت کی ہے، نیز اس روایت کے آخر میں ”رویبضہ“ کی وضاحت ان الفاظ میں مروی ہے: ”وہ حقیر اور کم ظرف انسان جو عوام الناس کے اجتماعی معاملات میں لب کشائی کرے۔“
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنِي يَحْيَى هُوَ الْقَطَّانُ عَنْ وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ صُبَيْحٍ ، أَوْ صُبَيْحٍ مَوْلَى بَنِي لَيْثٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ : الدَّجَّالُ إِذَا خَرَجَ يَخْرُجُ مِنْ نَحْوِ الْمَشْرِقِ ، فَتَكْثُرُ جُنُودُهُ ، وَمَسَالِحُهُ فَلَا يَخْلُصُ إِلَيْهِ إِلَّا مَنْ قَالَ : أَنَا وَافِدٌ ، فَيَجِيءُ الرَّجُلُ فَيَقُولُ : أَنَا وَافِدٌ . فَإِذَا رَآهُ الدَّجَّالُ قَالَ : ابْنَ آدَمَ ، أَلَسْتَ تَعْلَمُ أَنِّي رَبُّكَ ؟ قَالَ : لَا ، أَنْتَ عَدُوُّ اللهِ الدَّجَّالُ ، قَالَ : فَإِنِّي قَاتِلُكَ . قَالَ : وَإِنْ قَتَلْتَنِي ، قَالَ : فَيَأْخُذُ الْمِنْشَارَ ، فَيَضَعُهُ بَيْنَ ثُنَّتِهِ ، فَيَشُقُّهُ شِقَّتَيْنِ ، ثُمَّ يَقُولُ لِمَنْ حَوْلَهُ : كَيْفَ تَرَوْنَ إِذَا أَنَا أَحْيَيْتُهُ ؟ قَالُوا : فَذَاكَ حِينَ نَسْتَيْقِنُ أَنَّكَ رَبُّنَا ، قَالَ : فَيُحْيِيهِ ، قَالَ : فَيَقُولُ لَهُ : ابْنَ آدَمَ ، زَعَمْتَ أَنِّي لَسْتُ رَبَّكَ ، قَالَ : مَا كُنْتُ قَطُّ أَشَدَّ بَصِيرَةً مِنِّي فِيكَ الْآنَ ، قَالَ : إِنِّي ذَابِحُكَ ، قَالَ : وَإِنْ ذَبَحْتَنِي ، قَالَ : فَيُرِيدُ ذَبْحَهُ فَلَا يَسْتَطِيعُ ذَبْحَهُ ، فَيَقُولُ مِنْ تَحْتِهِ : إِنْ كُنْتَ صَادِقًا فَلْتَذْبَحْنِي ، فَعِنْدَ ذَلِكَ يَرْتَابُ فِيهِ جُنُودُهُ ، وَيَنْزِلُ عَلَيْهِ ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ ، فَإِذَا رَآهُ وَوَجَدَ رِيحَهُ ذَابَ كَمَا يَذُوبُ الرَّصَاصُ .
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”دجال جب خروج کرے گا تو وہ مشرق کی جانب سے نکلے گا، اس کے لشکر اور اس کی چوکیاں بہت زیادہ ہوں گی، اس تک وہی شخص پہنچ پائے گا جو یہ کہے گا کہ میں ایک قاصد کے طور پر آیا ہوں، چنانچہ ایک شخص آئے گا اور کہے گا کہ میں ایک قاصد ہوں۔ جب دجال اسے دیکھے گا تو کہے گا: ”اے ابن آدم! کیا تو یہ نہیں جانتا کہ میں ہی تیرا رب ہوں؟“ وہ جواب دے گا: ”ہرگز نہیں، بلکہ تو اللہ کا دشمن دجال ہے“۔ دجال کہے گا: ”تو پھر میں تجھے قتل کرنے والا ہوں“۔ وہ شخص کہے گا: ”اگرچہ تو مجھے قتل ہی کیوں نہ کر دے“۔ پھر وہ آرا منگوائے گا اور اسے اس کے دونوں پاؤں کے درمیان (دھڑ پر) رکھے گا اور اسے چیر کر دو ٹکڑے کر دے گا، پھر وہ اپنے اردگرد موجود لوگوں سے کہے گا: ”تمہارا کیا خیال ہے اگر میں اسے دوبارہ زندہ کر دوں؟“ وہ کہیں گے: ”تب تو ہمیں یقین ہو جائے گا کہ تو ہی ہمارا رب ہے“۔ چنانچہ وہ اسے زندہ کر دے گا اور اس سے کہے گا: ”اے ابن آدم! تو تو یہ گمان کرتا تھا کہ میں تیرا رب نہیں ہوں“۔ وہ شخص کہے گا: ”تمہارے دجال ہونے کے بارے میں جو کامل بصیرت و یقین مجھے اب حاصل ہوا ہے وہ اس سے پہلے کبھی نہ تھا“۔ دجال کہے گا: ”اب میں تجھے ذبح کر دوں گا“۔ وہ کہے گا: ”خواہ تو مجھے ذبح ہی کر دے“۔ پھر وہ اسے ذبح کرنا چاہے گا لیکن ایسا کرنے کی قدرت نہیں پائے گا، تو وہ شخص اس کے نیچے سے کہے گا: ”اگر تو اپنے دعوے میں سچا ہے تو مجھے ذبح کر کے دکھا“۔ اسی لمحے اس کے لشکر اس کے بارے میں شک و شبہ میں مبتلا ہو جائیں گے، اور اسی دوران عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے، پس جب دجال آپ کو دیکھے گا اور آپ کی خوشبو محسوس کرے گا تو وہ اس طرح پگھلنے لگے گا جیسے سیسہ پگھلتا ہے“۔
اس روایت کی سند حسن ہے، امام مسدد نے اسے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کی اصل صحیح بخاری [حدیث: 1882] اور صحیح مسلم [حدیث: 2938] میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی قصے میں موجود ہے، تاہم سیسہ پگھلنے کی تشبیہ اور بعض الفاظ کے فرق کے ساتھ یہ طرق ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں۔
اس روایت کی سند حسن ہے، امام مسدد نے اسے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کی اصل صحیح بخاری [حدیث: 1882] اور صحیح مسلم [حدیث: 2938] میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی قصے میں موجود ہے، تاہم سیسہ پگھلنے کی تشبیہ اور بعض الفاظ کے فرق کے ساتھ یہ طرق ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنِ الْعُرْيَانِ بْنِ الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، فَذَكَرَ قِصَّةً ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : أَبِأَرْضِكُمْ أَرْضٌ يُقَالُ لَهَا : كُوثَى ذَاتُ سِبَاخٍ وَنَخْلٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَإِنَّ الدَّجَّالَ يَخْرُجُ مِنْهَا .
ترجمہ
ہیثم بن اسود (العریان بن الہیثم کے والد) سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: میں یزید بن معاویہ کے پاس حاضر ہوا، پس یزید نے ایک قصہ بیان کیا، تو اس موقع پر سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے دریافت فرمایا: ”کیا تمہاری سرزمین میں کوئی ایسی جگہ ہے جسے ’کوثیٰ‘ کہا جاتا ہو، جو شور زدہ (کلر والی) زمین اور کھجور کے باغات پر مشتمل ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں،“ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بلاشبہ دجال اسی مقام سے برآمد ہوگا۔“
اس روایت کی سند حسن ہے، اسے امام مسدد بن مسرہد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کے تمام راوی ثقہ ہیں، جبکہ ہیثم بن اسود کی توثیق امام ابن حبان نے فرمائی ہے۔
اس روایت کی سند حسن ہے، اسے امام مسدد بن مسرہد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کے تمام راوی ثقہ ہیں، جبکہ ہیثم بن اسود کی توثیق امام ابن حبان نے فرمائی ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، ثَنَا فِطْرٌ ، حَدَّثَنِي أَبُو الطُّفَيْلِ قَالَ : سَمِعْتُ مِنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا فِي الدَّجَّالِ ، مَا سَمِعْتُ مِنْهُ حَدِيثًا أَشْرَفَ مِنْهُ ، أَنَّهُ يَجِيءُ عَلَى حِمَارٍ ، يَأْتِي الرَّجُلُ عَلَى صُورَةٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ ، فَيَقُولُ : يَا فُلَانُ إِنِّي أَدْعُوكَ إِلَى الْحَقِّ ، إِنَّ أَمْرِي حَقٌّ .
ترجمہ
ابوالطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے دجال کے متعلق ایک ایسی حدیث سنی ہے جس سے زیادہ بڑی اور اہم بات میں نے کبھی نہیں سنی تھی، وہ یہ کہ ”دجال ایک گدھے پر سوار ہو کر آئے گا، وہ (فتنہ و آزمائش کے طور پر) کسی شخص کے پاس اس کے گھر والوں میں سے کسی فرد کی ہم شکل صورت اختیار کر کے آئے گا اور اس سے مخاطب ہو کر کہے گا: اے فلاں! میں تمہیں حق کی طرف بلا رہا ہوں، بلاشبہ میرا معاملہ بالکل برحق ہے۔“
[مسند احمد: 4520، علامہ شعیب الارنؤوط نے اسے حدیث صحیح اور اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے]
[مسند احمد: 4520، علامہ شعیب الارنؤوط نے اسے حدیث صحیح اور اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے]
وَقَالَ مُسَدَّدٌ أَيْضًا : ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ دَاوُدَ ، ثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أُحَذِّرُكُمُ الدَّجَّالَ ... الْحَدِيثَ .
خَالَفَهُ مُحَاضِرٌ ، فَقَالَ : عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ وَهْبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، أَخْرَجَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَالْأَوَّلُ أَصَحُّ مَعَ إِرْسَالِهِ .
خَالَفَهُ مُحَاضِرٌ ، فَقَالَ : عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ وَهْبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، أَخْرَجَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَالْأَوَّلُ أَصَحُّ مَعَ إِرْسَالِهِ .
ترجمہ
امام عبید بن عمیر رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے (امت کو متنبہ کرتے ہوئے) ارشاد فرمایا: ”میں تمہیں دجال (کے فتنے) سے ڈراتا ہوں...“ (مکمل حدیث)۔
اس روایت کی سند میں محاضر نامی راوی نے (عبداللہ بن داؤد کی) مخالفت کی ہے اور اسے ہشام بن عروہ عن وہب بن کیسان کے واسطے سے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے، اس طریق کو امام ابنِ حبان نے روایت کیا ہے، تاہم علمی و فنی اعتبار سے پہلا طریق ہی زیادہ صحیح اور مستند ہے اگرچہ وہ مرسل ہے۔
اس روایت کی سند میں محاضر نامی راوی نے (عبداللہ بن داؤد کی) مخالفت کی ہے اور اسے ہشام بن عروہ عن وہب بن کیسان کے واسطے سے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے، اس طریق کو امام ابنِ حبان نے روایت کیا ہے، تاہم علمی و فنی اعتبار سے پہلا طریق ہی زیادہ صحیح اور مستند ہے اگرچہ وہ مرسل ہے۔
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَخْزُومِيُّ ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَافِعٍ ، عَمَّنْ أَخْبَرَهُ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي قِصَّةِ الدَّجَّالِ .
وَهُوَ عِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ مِنْ طَرِيقٍ أُخْرَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَزَادَ هِشَامٌ فِيهِ : فَمَنْ لَقِيَهُ مِنْكُمْ فَلْيَتْفُلْ فِي وَجْهِهِ .
وَهُوَ عِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ مِنْ طَرِيقٍ أُخْرَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَزَادَ هِشَامٌ فِيهِ : فَمَنْ لَقِيَهُ مِنْكُمْ فَلْيَتْفُلْ فِي وَجْهِهِ .
ترجمہ
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے دجال کے قصے کے متعلق (نبی کریم ﷺ کا) ارشادِ گرامی ذکر کیا کہ: ”پس تم میں سے جو کوئی بھی اس (دجال) سے ملے، تو اسے چاہیے کہ وہ اس کے منہ پر تھوک دے۔“
ابن ابی عمر کہتے ہیں کہ ہمیں ہشام بن سلیمان مخزومی نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں اسماعیل بن رافع نے اس شخص کے واسطے سے خبر دی جس نے انہیں بتایا تھا اور انہوں نے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے دجال کے قصے پر مبنی حدیث ذکر کی۔ یہ روایت امام ابن ماجہ کے ہاں ایک دوسری سند سے اسماعیل بن رافع عن یحییٰ بن ابی عمرو عن ابی امامہ رضی اللہ عنہ کے طریق سے بھی مروی ہے، اور ہشام نے اس روایت میں ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے کہ: ”پس تم میں سے جو کوئی بھی اس (دجال) سے ملے، تو وہ اس کے چہرے پر تھوک دے۔“
ابن ابی عمر کہتے ہیں کہ ہمیں ہشام بن سلیمان مخزومی نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں اسماعیل بن رافع نے اس شخص کے واسطے سے خبر دی جس نے انہیں بتایا تھا اور انہوں نے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے دجال کے قصے پر مبنی حدیث ذکر کی۔ یہ روایت امام ابن ماجہ کے ہاں ایک دوسری سند سے اسماعیل بن رافع عن یحییٰ بن ابی عمرو عن ابی امامہ رضی اللہ عنہ کے طریق سے بھی مروی ہے، اور ہشام نے اس روایت میں ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے کہ: ”پس تم میں سے جو کوئی بھی اس (دجال) سے ملے، تو وہ اس کے چہرے پر تھوک دے۔“
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ حَسَنِ بْنِ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : إِنَّهُ سَأَلَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ الدَّجَّالِ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّ كُلَّ نَبِيٍّ قَدْ أَنْذَرَ قَوْمَهُ الدَّجَّالَ ، أَلَا وَإِنَّهُ قَدْ أَكَلَ الطَّعَامَ ، أَلَا وَإِنِّي عَاهِدٌ إِلَيْكُمْ فِيهِ عَهْدًا لَمْ يَعْهَدْهُ نَبِيٌّ إِلَى أُمَّتِهِ ، أَلَا وَإِنَّ عَيْنَهُ الْيُمْنَى مَمْسُوحَةٌ كَأَنَّهَا نُخَاعَةٌ فِي جَانِبِ حَائِطٍ ، أَلَا وَإِنَّ عَيْنَهُ الْيُسْرَى كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ ، مَعَهُ مِثْلُ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ ، فَالنَّارُ رَوْضَةٌ خَضْرَاءُ ، وَالْجَنَّةُ غَبْرَاءُ ذَاتُ دُخَانٍ ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ رَجُلَانِ يُنْذِرَانِ أَهْلَ الْقُرَى ، كُلَّمَا دَخَلَا قَرْيَةً أَنْذَرَا أَهْلَهَا ، فَإِذَا خَرَجَا مِنْهُ دَخَلَ أَوَّلُ أَصْحَابِ الدَّجَّالِ ، فَيَدْخُلُ الْقُرَى كُلَّهَا غَيْرَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ ، حُرِّمَتَا عَلَيْهِ ، وَالْمُؤْمِنُونَ مُتَفَرِّقُونَ فِي الْأَرْضِ ، فَيَجْمَعُهُمُ اللهُ تَعَالَى ، فَيَقُولُ رَجُلٌ مِنْهُمْ : وَاللهِ لَأَنْطَلِقَنَّ فَلَأَنْظُرَنَّ هَذَا الَّذِي أَنْذَرَنَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَقُولُ لَهُ أَصْحَابُهُ : إِنَّا لَا نَدَعُكَ تَأْتِيهِ ، وَلَوْ عَلِمْنَا أَنَّهُ لَا يَفْتِنُكَ لَخَلَّيْنَا سَبِيلَكَ ، وَلَكِنَّا نَخَافُ أَنْ يَفْتِنَكَ فَتَتَّبِعَهُ ، فَيَأْبَى إِلَّا أَنْ يَأْتِيَهُ ، فَيَنْطَلِقُ حَتَّى إِذَا أَتَى أَدْنَى مَسْلَحَةٍ مِنْ مَسَالِحِهِ أَخَذُوهُ ، فَسَأَلُوهُ : مَا شَأْنُهُ ؟ وَأَيْنَ يُرِيدُ ؟ فَيَقُولُ : أُرِيدُ الدَّجَّالَ الْكَذَّابَ ، فَيَقُولُونَ : أَنْتَ تَقُولُ ذَلِكَ ؟ فَيَكْتُبُونَ إِلَيْهِ : إِنَّا أَخَذْنَا رَجُلًا يَقُولُ كَذَا وَكَذَا ، فَنَقْتُلُهُ ، أَمْ نَبْعَثُ بِهِ إِلَيْكَ ؟ فَيَقُولُ : أَرْسِلُوا بِهِ إِلَيَّ ، فَانْطَلَقُوا بِهِ إِلَيْهِ ، فَلَمَّا رَآهُ عَرَفَهُ بِنَعْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ : أَنْتَ الدَّجَّالُ الْكَذَّابُ الَّذِي أَنْذَرَنَا مِنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ الدَّجَّالُ : أَنْتَ تَقُولُ ذَلِكَ ؟ لَتُطِيعَنِّي فِيمَا آمُرُكَ بِهِ ، أَوْ لَأَشُقَّنَّكَ شَقَّتَيْنِ ، فَيُنَادِي الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ فِي النَّاسِ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ هَذَا الْمَسِيحُ الْكَذَّابُ ، فَيَأْمُرُ بِهِ فَمَدَّ رِجْلَيْهِ ، ثُمَّ أَمَرَ بِحَدِيدَةٍ ، فَوُضِعَتْ عَلَى عَجْبِ ذَنَبِهِ ، فَشَقَّهُ شَقَّتَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ الدَّجَّالُ لِأَوْلِيَائِهِ : أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَحْيَيْتُ لَكُمْ هَذَا ، أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي رَبُّكُمْ ؟ فَيَقُولُونَ : نَعَمْ ، فَيَأْخُذُ عَصًا فَيَضْرِبُ بِهَا إِحْدَى شِقَّيْهِ أَوِ الصَّعِيدَ ، فَاسْتَوَى قَائِمًا ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ أَوْلِيَاؤُهُ صَدَّقُوهُ ، وَأَحَبُّوهُ وَأَيْقَنُوا بِهِ أَنَّهُ رَبُّهُمْ وَاتَّبَعُوهُ ، فَيَقُولُ الدَّجَّالُ لِلْعَبْدِ الْمُؤْمِنِ : أَلَا تُؤْمِنُ بِي ؟ فَقَالَ : أَنَا الْآنَ أَشَدُّ بَصِيرَةً فِيكَ مِنِّي ، ثُمَّ نَادَى فِي النَّاسِ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ هَذَا الْمَسِيحُ الْكَذَّابُ ، مَنْ أَطَاعَهُ فَهُوَ فِي النَّارِ ، وَمَنْ عَصَاهُ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ ، فَقَالَ الدَّجَّالُ : لَتُطِيعَنِّي أَوْ لَأَذْبَحَنَّكَ ، فَقَالَ : وَاللهِ لَا أُطِيعُكَ أَبَدًا ، إِنَّكَ لَأَنْتَ الْكَذَّابُ ، فَأَمَرَ بِهِ ، فَأُضْجِعَ وَأَمَرَ بِذَبْحِهِ فَلَا يَقْدِرُ عَلَيْهِ ، لَا يُسَلَّطُ عَلَيْهِ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً ، فَأَخَذَ بِيَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ ، فَأُلْقِيَ فِي النَّارِ ، وَهِيَ غَيْرُ ذَاتِ دُخَانٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ذَلِكَ الرَّجُلُ أَقْرَبُ أُمَّتِي مِنِّي ، وَأَرْفَعُهُمْ دَرَجَةً ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قُلْتُ : فَكَيْفَ يَهْلِكُ ؟ قَالَ : اللهُ أَعْلَمُ .
قُلْتُ : إِنَّ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ هُوَ يُهْلِكُهُ ؟ قَالَ : اللهُ أَعْلَمُ ، غَيْرَ أَنَّ اللهَ تَعَالَى مُهْلِكُهُ وَمَنْ مَعَهُ ، قُلْتُ : فَمَاذَا يَكُونُ بَعْدَهُ ؟ قَالَ : حَدَّثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ النَّاسَ يَغْرِسُونَ بَعْدَهُ الْغُرُوسَ ، وَيَتَّخِذُونَ مِنْ بَعْدِهِ الْأَمْوَالَ ، قُلْتُ : سُبْحَانَ اللهِ أَبْعَدَ الدَّجَّالِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَيَمْكُثُونَ فِي الْأَرْضِ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَمْكُثُوا ، ثُمَّ يُفْتَحُ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ ، فَيُهْلِكُونَ مَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ تَعَلَّقَ بِحِصْنٍ ، فَلَمَّا فَرَغُوا مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ أَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ ، فَقَالُوا : إِنَّمَا بَقِيَ مَنْ فِي الْحُصُونِ وَمَنْ فِي السَّمَاءِ فَيَرْمُونَ بِسِهَامِهِمْ ، فَخَرَّتْ عَلَيْهِ مُتَغَيِّرَةً دَمًا ، فَقَالُوا : قَدِ اسْتَرَحْتُمْ مِمَّنْ فِي السَّمَاءِ ، وَبَقِيَ مَنْ فِي الْحُصُونِ ، فَحَاصَرُوهُمْ حَتَّى اشْتَدَّ عَلَيْهِمُ الْحَصَرُ وَالْبَلَاءُ ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ أَرْسَلَ اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِمْ نَغَفًا فِي أَعْنَاقِهِمْ ، فَقَصَمَتْ أَعْنَاقَهُمْ ، فَمَالَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ مَوْتَى ، فَقَالَ رَجُلٌ : قَتَلَهُمُ رَبُّ الْكَعْبَةِ ، قَالَ : إِنَّمَا يَفْعَلُونَ هَذَا مُخَادَعَةً ، فَنَخْرُجُ إِلَيْهِمْ فَيُهْلِكُونَا كَمَا أَهْلَكُوا إِخْوَانَنَا ، فَقَالَ : افْتَحُوا لِيَ الْبَابَ ، فَقَالَ أَصْحَابُهُ : لَا نَفْتَحُ ، فَقَالَ : دَلُّونِي بِحَبْلٍ ، فَلَمَّا نَزَلَ وَجَدَهُمْ مَوْتَى ، فَخَرَجَ النَّاسُ مِنْ حُصُونِهِمْ .
فَحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ مَوَاشِيَهُمْ جَعَلَهَا اللهُ تَعَالَى لَهُمْ حَيَاةً يَقْتَضِمُونَهَا ، مَا يَجِدُونَ غَيْرَهَا ، قَالَ : وَحَدَّثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ النَّاسَ يَغْرِسُونَ بَعْدَهُمُ الْغُرُوسَ ، وَيَتَّخِذُونَ الْأَمْوَالَ ، قَالَ : قُلْتُ : فَسُبْحَانَ اللهِ أَبَعْدَ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَبَيْنَمَا هُمْ فِي تِجَارَاتِهِمْ إِذْ نَادَى مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ : أَتَى أَمْرُ اللهِ ، فَفَزِعَ أَهْلُ الْأَرْضِ حِينَ سَمِعُوا الدَّعْوَةَ ، وَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ ، ثُمَّ أَقْبَلُوا عَلَى تِجَارَتِهِمْ وَأَسْوَاقِهِمْ وَصِنَاعَتِهِمْ ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ نُودُوا مَرَّةً أُخْرَى : يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَتَى أَمْرُ اللهِ ، فَانْطَلَقُوا نَحْوَ الدَّعْوَةِ الَّتِي سَمِعُوا ، وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَفِرُّ مِنْ غَنَمِهِ وَسِلْعِهِ قِبَلَ الدَّعْوَةِ ، إِذْ لَقُوا اللهَ ، وَذُهِلُوا فِي مَوَاشِيهِمْ ، وَعِنْدَ ذَلِكَ عُطِّلَتِ الْعِشَارُ ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ يَسْعَوْنَ قِبَلَ الدَّعْوَةِ ، إِذْ لَقُوا اللهَ تَعَالَى فِي ظُلَلٍ مِنَ الْغَمَامِ ، وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الأَرْضِ إِلا مَنْ شَاءَ اللهُ ، فَمَكَثُوا مَا شَاءَ اللهُ ، ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ مَرَّةً أُخْرَى ، فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ ، ثُمَّ تَجِيءُ جَهَنَّمُ لَهَا زَفِيرٌ وَشَهِيقٌ ، ثُمَّ يُنَادَى ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ .
وَقَدْ أَخْرَجَ أَصْحَابُ السُّنَنِ مِنْهُ قِصَّةَ الشَّفَاعَةِ ، وَقِصَّةَ بَعْثِ النَّارِ ، وَغَيْرَ ذَلِكَ ، وَفِي سِيَاقِ هَذَا بَعْضُ مُخَالَفَةٍ وَمَا فِي الصَّحِيحِ أَصَحُّ ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ .
قُلْتُ : إِنَّ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ هُوَ يُهْلِكُهُ ؟ قَالَ : اللهُ أَعْلَمُ ، غَيْرَ أَنَّ اللهَ تَعَالَى مُهْلِكُهُ وَمَنْ مَعَهُ ، قُلْتُ : فَمَاذَا يَكُونُ بَعْدَهُ ؟ قَالَ : حَدَّثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ النَّاسَ يَغْرِسُونَ بَعْدَهُ الْغُرُوسَ ، وَيَتَّخِذُونَ مِنْ بَعْدِهِ الْأَمْوَالَ ، قُلْتُ : سُبْحَانَ اللهِ أَبْعَدَ الدَّجَّالِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَيَمْكُثُونَ فِي الْأَرْضِ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَمْكُثُوا ، ثُمَّ يُفْتَحُ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ ، فَيُهْلِكُونَ مَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ تَعَلَّقَ بِحِصْنٍ ، فَلَمَّا فَرَغُوا مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ أَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ ، فَقَالُوا : إِنَّمَا بَقِيَ مَنْ فِي الْحُصُونِ وَمَنْ فِي السَّمَاءِ فَيَرْمُونَ بِسِهَامِهِمْ ، فَخَرَّتْ عَلَيْهِ مُتَغَيِّرَةً دَمًا ، فَقَالُوا : قَدِ اسْتَرَحْتُمْ مِمَّنْ فِي السَّمَاءِ ، وَبَقِيَ مَنْ فِي الْحُصُونِ ، فَحَاصَرُوهُمْ حَتَّى اشْتَدَّ عَلَيْهِمُ الْحَصَرُ وَالْبَلَاءُ ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ أَرْسَلَ اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِمْ نَغَفًا فِي أَعْنَاقِهِمْ ، فَقَصَمَتْ أَعْنَاقَهُمْ ، فَمَالَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ مَوْتَى ، فَقَالَ رَجُلٌ : قَتَلَهُمُ رَبُّ الْكَعْبَةِ ، قَالَ : إِنَّمَا يَفْعَلُونَ هَذَا مُخَادَعَةً ، فَنَخْرُجُ إِلَيْهِمْ فَيُهْلِكُونَا كَمَا أَهْلَكُوا إِخْوَانَنَا ، فَقَالَ : افْتَحُوا لِيَ الْبَابَ ، فَقَالَ أَصْحَابُهُ : لَا نَفْتَحُ ، فَقَالَ : دَلُّونِي بِحَبْلٍ ، فَلَمَّا نَزَلَ وَجَدَهُمْ مَوْتَى ، فَخَرَجَ النَّاسُ مِنْ حُصُونِهِمْ .
فَحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ مَوَاشِيَهُمْ جَعَلَهَا اللهُ تَعَالَى لَهُمْ حَيَاةً يَقْتَضِمُونَهَا ، مَا يَجِدُونَ غَيْرَهَا ، قَالَ : وَحَدَّثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ النَّاسَ يَغْرِسُونَ بَعْدَهُمُ الْغُرُوسَ ، وَيَتَّخِذُونَ الْأَمْوَالَ ، قَالَ : قُلْتُ : فَسُبْحَانَ اللهِ أَبَعْدَ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَبَيْنَمَا هُمْ فِي تِجَارَاتِهِمْ إِذْ نَادَى مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ : أَتَى أَمْرُ اللهِ ، فَفَزِعَ أَهْلُ الْأَرْضِ حِينَ سَمِعُوا الدَّعْوَةَ ، وَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ ، ثُمَّ أَقْبَلُوا عَلَى تِجَارَتِهِمْ وَأَسْوَاقِهِمْ وَصِنَاعَتِهِمْ ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ نُودُوا مَرَّةً أُخْرَى : يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَتَى أَمْرُ اللهِ ، فَانْطَلَقُوا نَحْوَ الدَّعْوَةِ الَّتِي سَمِعُوا ، وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَفِرُّ مِنْ غَنَمِهِ وَسِلْعِهِ قِبَلَ الدَّعْوَةِ ، إِذْ لَقُوا اللهَ ، وَذُهِلُوا فِي مَوَاشِيهِمْ ، وَعِنْدَ ذَلِكَ عُطِّلَتِ الْعِشَارُ ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ يَسْعَوْنَ قِبَلَ الدَّعْوَةِ ، إِذْ لَقُوا اللهَ تَعَالَى فِي ظُلَلٍ مِنَ الْغَمَامِ ، وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الأَرْضِ إِلا مَنْ شَاءَ اللهُ ، فَمَكَثُوا مَا شَاءَ اللهُ ، ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ مَرَّةً أُخْرَى ، فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ ، ثُمَّ تَجِيءُ جَهَنَّمُ لَهَا زَفِيرٌ وَشَهِيقٌ ، ثُمَّ يُنَادَى ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ .
وَقَدْ أَخْرَجَ أَصْحَابُ السُّنَنِ مِنْهُ قِصَّةَ الشَّفَاعَةِ ، وَقِصَّةَ بَعْثِ النَّارِ ، وَغَيْرَ ذَلِكَ ، وَفِي سِيَاقِ هَذَا بَعْضُ مُخَالَفَةٍ وَمَا فِي الصَّحِيحِ أَصَحُّ ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ .
ترجمہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے دجال کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بلا شبہ ہر نبی نے اپنی قوم کو دجال کے فتنے سے ڈرایا ہے، خبردار! وہ (تمہاری طرح) کھانا کھاتا ہے، اور یقیناً میں تمہیں اس کے بارے میں ایسی بات بتانے والا ہوں جو کسی نبی نے اپنی امت کو نہیں بتائی؛ آگاہ رہو! اس کی دائیں آنکھ بالکل سپاٹ اور بے نور ہوگی گویا کہ وہ دیوار کے ایک کونے پر لگا ہوا بلغم کا نشان ہے، اور اس کی بائیں آنکھ موتی کی طرح چمکتے ہوئے ستارے جیسی ہوگی، اس کے ساتھ جنت اور دوزخ کی مانند (نمونے) ہوں گے، پس (جسے وہ آگ کہے گا) وہ حقیقت میں ہرا بھرا باغ ہوگا اور جسے وہ جنت کہے گا وہ دھوئیں والی گرد آلود جگہ ہوگی، اس کے آگے دو آدمی ہوں گے جو بستیوں کے رہنے والوں کو خبردار کریں گے، وہ جس بستی میں داخل ہوں گے وہاں کے لوگوں کو (دجال کے فتنے سے) ڈرائیں گے اور جب وہ وہاں سے نکلیں گے تو دجال کے ساتھیوں کا ہراول دستہ داخل ہوگا، وہ مکہ اور مدینہ کے علاوہ تمام بستیوں میں داخل ہوگا کیونکہ یہ دونوں شہر اس پر حرام کر دیے گئے ہیں، اس وقت اہل ایمان زمین میں بکھرے ہوئے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں ایک جگہ جمع فرما دے گا، ان میں سے ایک شخص کہے گا کہ اللہ کی قسم! میں ضرور جاؤں گا تاکہ اس شخص کو دیکھوں جس سے ہمیں رسول اللہ ﷺ نے ڈرایا تھا، اس کے ساتھی کہیں گے کہ ہم تمہیں وہاں نہیں جانے دیں گے، اگر ہمیں علم ہوتا کہ وہ تمہیں فتنے میں نہیں ڈالے گا تو ہم تمہارا راستہ نہ روکتے لیکن ہمیں خوف ہے کہ کہیں وہ تمہیں آزمائش میں نہ ڈال دے اور تم اس کی پیروی نہ کر بیٹھو، مگر وہ جانے پر بصر رہے گا، چنانچہ وہ چل پڑے گا یہاں تک کہ جب وہ دجال کی چوکیوں میں سے قریبی چوکی پر پہنچے گا تو پہرے دار اسے پکڑ کر پوچھیں گے کہ تمہارا کیا معاملہ ہے اور کہاں کا ارادہ ہے؟ وہ کہے گا کہ میں اس کذاب دجال کے پاس جانا چاہتا ہوں، وہ کہیں گے کہ کیا تم اسے کذاب کہتے ہو؟ پھر وہ دجال کو لکھ بھیجیں گے کہ ہم نے ایک ایسے شخص کو پکڑا ہے جو اس طرح کی باتیں کر رہا ہے، کیا ہم اسے قتل کر دیں یا آپ کے پاس بھیج دیں؟ وہ کہے گا کہ اسے میرے پاس بھیج دو، پس وہ اسے لے کر دجال کے پاس پہنچیں گے، جب وہ مومن اسے دیکھے گا تو رسول اللہ ﷺ کی بتائی ہوئی نشانیوں سے اسے پہچان لے گا اور کہے گا کہ تو ہی وہ کذاب دجال ہے جس سے ہمیں رسول اللہ ﷺ نے ڈرایا تھا، دجال اس سے کہے گا کہ کیا تو یہ باتیں کرتا ہے؟ اب یا تو تو میری اطاعت کر جس کا میں تجھے حکم دوں یا پھر میں تیرے دو ٹکڑے کر دوں گا، وہ مومن بندہ لوگوں میں پکار کر کہے گا کہ اے لوگو! یہ مسیح کذاب ہے، دجال اسے لٹانے کا حکم دے گا اور پھر لوہے کی ایک آری منگوا کر اس کی ریڑھ کی ہڈی کے نچلے حصے پر رکھ کر اسے دو حصوں میں چیر دے گا، پھر دجال اپنے پیروکاروں سے کہے گا کہ تمہارا کیا خیال ہے اگر میں اسے دوبارہ زندہ کر دوں تو کیا تم اس بات کا یقین نہیں کر لو گے کہ میں تمہارا رب ہوں؟ وہ کہیں گے کہ جی ہاں! پھر وہ ایک لاٹھی لے کر اس کے ایک ٹکڑے کو یا زمین کو مارے گا تو وہ شخص دوبارہ صحیح سلامت کھڑا ہو جائے گا، جب اس کے ماننے والے یہ دیکھیں گے تو اس کی تصدیق کریں گے اور اسے اپنا رب مان کر اس کی محبت میں مبتلا ہو جائیں گے، پھر دجال اس مومن بندے سے کہے گا کہ کیا اب بھی مجھ پر ایمان نہیں لاتا؟ وہ کہے گا کہ اب تو میری بصیرت تیرے بارے میں پہلے سے بھی زیادہ پختہ ہو گئی ہے، پھر وہ لوگوں میں پکارے گا کہ اے لوگو! یہ مسیح کذاب ہے، جو اس کی اطاعت کرے گا وہ آگ میں جائے گا اور جو اس کی نافرمانی کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا، دجال کہے گا کہ تو میری اطاعت کر ورنہ میں تجھے ذبح کر دوں گا، وہ کہے گا کہ اللہ کی قسم! میں کبھی تیری اطاعت نہیں کروں گا، تو ہی وہ کذاب ہے، دجال اسے لٹانے اور ذبح کرنے کا حکم دے گا لیکن وہ اسے ذبح نہیں کر پائے گا کیونکہ اسے صرف ایک ہی بار اس پر تسلط دیا گیا تھا، پھر وہ اسے ہاتھ پاؤں سے پکڑ کر اس آگ میں پھینک دے گا جو بغیر دھوئیں کے (باغ) ہوگی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ وہ شخص میری امت میں میرے سب سے زیادہ قریب اور بلند مرتبے والا ہوگا، ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ پھر دجال کیسے ہلاک ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے
میں کہتا ہوں (امام احمد بن منیع یا راوی کا قول) کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام اسے ہلاک کریں گے؟ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ بہتر جانتا ہے، البتہ اللہ تعالیٰ اسے اور اس کے ساتھیوں کو ہلاک کرنے والا ہے، میں نے پوچھا کہ اس کے بعد کیا ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بتایا تھا کہ لوگ اس کے بعد درخت لگائیں گے اور مال و دولت جمع کریں گے، میں نے حیرت سے کہا کہ سبحان اللہ! کیا دجال کے بعد بھی ایسا ہوگا؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں! وہ زمین میں جتنا عرصہ اللہ چاہے گا قیام کریں گے، پھر یاجوج و ماجوج کھول دیے جائیں گے، وہ زمین میں موجود تمام لوگوں کو ہلاک کر دیں گے سوائے ان کے جو قلعوں میں پناہ گزین ہوں گے، جب وہ اہل زمین سے فارغ ہو جائیں گے تو ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر کہیں گے کہ اب صرف وہ بچے ہیں جو قلعوں میں ہیں یا آسمان میں ہیں، پھر وہ اپنے تیر آسمان کی طرف چلائیں گے جو خون آلود ہو کر واپس گریں گے، وہ کہیں گے کہ تم نے آسمان والوں سے بھی نجات پا لی ہے اب صرف قلعوں والے باقی ہیں، وہ ان کا محاصرہ کر لیں گے یہاں تک کہ محصورین پر تنگی اور آزمائش شدید ہو جائے گی، اسی دوران اللہ تعالیٰ ان (یاجوج ماجوج) کی گردنوں میں کیڑے پیدا کر دے گا جو ان کی گردنیں توڑ دیں گے اور وہ مردہ ہو کر ایک دوسرے پر ڈھیر ہو جائیں گے، ایک شخص (قلعہ سے) پکارے گا کہ رب کعبہ کی قسم! اللہ نے انہیں مار دیا، لوگ کہیں گے کہ وہ ایسا ہمیں دھوکہ دینے کے لیے کر رہے ہیں، اگر ہم باہر نکلے تو وہ ہمیں بھی ہلاک کر دیں گے جیسے ہمارے بھائیوں کو کیا، وہ شخص کہے گا کہ میرے لیے دروازہ کھولو، ساتھی انکار کریں گے تو وہ کہے گا کہ مجھے رسی سے نیچے لٹکا دو، جب وہ نیچے اترے گا تو انہیں مردہ پائے گا، تب لوگ قلعوں سے باہر نکل آئیں گے
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا کہ اللہ تعالیٰ ان کے چوپایوں کے لیے یاجوج ماجوج کے اجسام کو خوراک بنا دے گا جسے وہ چریں گے اور انہیں اس کے علاوہ کچھ نہیں ملے گا، نیز رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بتایا کہ لوگ اس کے بعد باغات لگائیں گے اور مال و دولت اکٹھا کریں گے، میں نے عرض کیا کہ سبحان اللہ! کیا یاجوج ماجوج کے بعد بھی؟ فرمایا کہ ہاں! پس وہ اپنی تجارتوں میں مصروف ہوں گے کہ اچانک آسمان سے ایک پکارنے والا پکارے گا کہ اللہ کا حکم (قیامت) آگیا ہے، اہل زمین یہ پکار سن کر گھبرا جائیں گے اور ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں گے، پھر دوبارہ اپنی تجارت، بازاروں اور کام کاج میں جت جائیں گے، اسی دوران انہیں پھر پکارا جائے گا کہ اے لوگو! اللہ کا حکم آگیا ہے، پس وہ اس پکار کی طرف چل پڑیں گے اور آدمی اپنی بھیڑ بکریوں اور سامان تجارت کو چھوڑ کر اس آواز کی سمت بھاگے گا یہاں تک کہ وہ اللہ سے جا ملیں گے اور اپنے چوپایوں سے غافل ہو جائیں گے، اس وقت ﴿وَإِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ﴾ [سورة التكوير: 4] ”اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں (اپنے حال پر) چھوڑ دی جائیں گی“ والا معاملہ ہوگا، وہ اس پکار کی طرف دوڑ رہے ہوں گے کہ اچانک اللہ تعالیٰ کے حضور اس حال میں پیش ہوں گے کہ ﴿فِي ظُلَلٍ مِنَ الْغَمَامِ﴾ [سورة البقرة: 210] ”بادلوں کے سائبانوں میں (اللہ کا عذاب یا فیصلہ آئے گا)“ اور صور پھونک دیا جائے گا، پس ﴿فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ﴾ [سورة الزمر: 68] ”پس جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں وہ سب بے ہوش (یا فنا) ہو جائیں گے سوائے ان کے جنہیں اللہ چاہے“، پھر وہ جتنا عرصہ اللہ چاہے گا اسی حال میں رہیں گے، پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو وہ اچانک کھڑے ہو کر دیکھنے لگیں گے، پھر جہنم لائی جائے گی جس کی چنگھاڑنے اور جوش مارنے کی آوازیں آ رہی ہوں گی، پھر منادی کی جائے گی، اور آگے لمبی حدیث ذکر کی
اس حدیث کا شفاعت اور جہنم میں بھیجے جانے والا قصہ اصحاب سنن نے بھی روایت کیا ہے، البتہ اس سیاق میں کچھ اختلاف موجود ہے اور جو صحیحین (بخاری و مسلم) میں ہے وہ زیادہ صحیح ہے، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔
میں کہتا ہوں (امام احمد بن منیع یا راوی کا قول) کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام اسے ہلاک کریں گے؟ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ بہتر جانتا ہے، البتہ اللہ تعالیٰ اسے اور اس کے ساتھیوں کو ہلاک کرنے والا ہے، میں نے پوچھا کہ اس کے بعد کیا ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بتایا تھا کہ لوگ اس کے بعد درخت لگائیں گے اور مال و دولت جمع کریں گے، میں نے حیرت سے کہا کہ سبحان اللہ! کیا دجال کے بعد بھی ایسا ہوگا؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں! وہ زمین میں جتنا عرصہ اللہ چاہے گا قیام کریں گے، پھر یاجوج و ماجوج کھول دیے جائیں گے، وہ زمین میں موجود تمام لوگوں کو ہلاک کر دیں گے سوائے ان کے جو قلعوں میں پناہ گزین ہوں گے، جب وہ اہل زمین سے فارغ ہو جائیں گے تو ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر کہیں گے کہ اب صرف وہ بچے ہیں جو قلعوں میں ہیں یا آسمان میں ہیں، پھر وہ اپنے تیر آسمان کی طرف چلائیں گے جو خون آلود ہو کر واپس گریں گے، وہ کہیں گے کہ تم نے آسمان والوں سے بھی نجات پا لی ہے اب صرف قلعوں والے باقی ہیں، وہ ان کا محاصرہ کر لیں گے یہاں تک کہ محصورین پر تنگی اور آزمائش شدید ہو جائے گی، اسی دوران اللہ تعالیٰ ان (یاجوج ماجوج) کی گردنوں میں کیڑے پیدا کر دے گا جو ان کی گردنیں توڑ دیں گے اور وہ مردہ ہو کر ایک دوسرے پر ڈھیر ہو جائیں گے، ایک شخص (قلعہ سے) پکارے گا کہ رب کعبہ کی قسم! اللہ نے انہیں مار دیا، لوگ کہیں گے کہ وہ ایسا ہمیں دھوکہ دینے کے لیے کر رہے ہیں، اگر ہم باہر نکلے تو وہ ہمیں بھی ہلاک کر دیں گے جیسے ہمارے بھائیوں کو کیا، وہ شخص کہے گا کہ میرے لیے دروازہ کھولو، ساتھی انکار کریں گے تو وہ کہے گا کہ مجھے رسی سے نیچے لٹکا دو، جب وہ نیچے اترے گا تو انہیں مردہ پائے گا، تب لوگ قلعوں سے باہر نکل آئیں گے
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا کہ اللہ تعالیٰ ان کے چوپایوں کے لیے یاجوج ماجوج کے اجسام کو خوراک بنا دے گا جسے وہ چریں گے اور انہیں اس کے علاوہ کچھ نہیں ملے گا، نیز رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بتایا کہ لوگ اس کے بعد باغات لگائیں گے اور مال و دولت اکٹھا کریں گے، میں نے عرض کیا کہ سبحان اللہ! کیا یاجوج ماجوج کے بعد بھی؟ فرمایا کہ ہاں! پس وہ اپنی تجارتوں میں مصروف ہوں گے کہ اچانک آسمان سے ایک پکارنے والا پکارے گا کہ اللہ کا حکم (قیامت) آگیا ہے، اہل زمین یہ پکار سن کر گھبرا جائیں گے اور ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں گے، پھر دوبارہ اپنی تجارت، بازاروں اور کام کاج میں جت جائیں گے، اسی دوران انہیں پھر پکارا جائے گا کہ اے لوگو! اللہ کا حکم آگیا ہے، پس وہ اس پکار کی طرف چل پڑیں گے اور آدمی اپنی بھیڑ بکریوں اور سامان تجارت کو چھوڑ کر اس آواز کی سمت بھاگے گا یہاں تک کہ وہ اللہ سے جا ملیں گے اور اپنے چوپایوں سے غافل ہو جائیں گے، اس وقت ﴿وَإِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ﴾ [سورة التكوير: 4] ”اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں (اپنے حال پر) چھوڑ دی جائیں گی“ والا معاملہ ہوگا، وہ اس پکار کی طرف دوڑ رہے ہوں گے کہ اچانک اللہ تعالیٰ کے حضور اس حال میں پیش ہوں گے کہ ﴿فِي ظُلَلٍ مِنَ الْغَمَامِ﴾ [سورة البقرة: 210] ”بادلوں کے سائبانوں میں (اللہ کا عذاب یا فیصلہ آئے گا)“ اور صور پھونک دیا جائے گا، پس ﴿فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ﴾ [سورة الزمر: 68] ”پس جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں وہ سب بے ہوش (یا فنا) ہو جائیں گے سوائے ان کے جنہیں اللہ چاہے“، پھر وہ جتنا عرصہ اللہ چاہے گا اسی حال میں رہیں گے، پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو وہ اچانک کھڑے ہو کر دیکھنے لگیں گے، پھر جہنم لائی جائے گی جس کی چنگھاڑنے اور جوش مارنے کی آوازیں آ رہی ہوں گی، پھر منادی کی جائے گی، اور آگے لمبی حدیث ذکر کی
اس حدیث کا شفاعت اور جہنم میں بھیجے جانے والا قصہ اصحاب سنن نے بھی روایت کیا ہے، البتہ اس سیاق میں کچھ اختلاف موجود ہے اور جو صحیحین (بخاری و مسلم) میں ہے وہ زیادہ صحیح ہے، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الدَّجَّالُ قَدْ أَكَلَ وَمَشَى فِي الْأَسْوَاقِ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”دجال (پیدا ہو کر) کھانا کھا چکا ہے اور بازاروں میں چل پھر چکا ہے۔“
اس روایت کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے؛ اس کی سند میں موجود راوی علی بن زید بن جدعان اپنے حافظے کی کمزوری کی وجہ سے محدثین کے نزدیک ضعیف قرار پایا ہے، نیز حسن بصری کا سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے سماع بھی علمی طور پر محلِ نظر ہے، جس کی بنا پر یہ سنداً ضعیف روایت ہے۔
اس روایت کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے؛ اس کی سند میں موجود راوی علی بن زید بن جدعان اپنے حافظے کی کمزوری کی وجہ سے محدثین کے نزدیک ضعیف قرار پایا ہے، نیز حسن بصری کا سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے سماع بھی علمی طور پر محلِ نظر ہے، جس کی بنا پر یہ سنداً ضعیف روایت ہے۔
وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُطَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَمْ يُسَلَّطْ عَلَى الدَّجَّالِ إِلَّا عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ .
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”دجال پر (اسے مغلوب کرنے اور اس کے فتنے کا قلع قمع کرنے کے لیے) عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کے سوا کسی کو تسلط اور قدرت عطا نہیں کی جائے گی۔“
اس روایت کو امام ابو داؤد طیالسی نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے، اس کی سند میں موسیٰ بن مطیر نامی راوی ضعیف ہے، تاہم دجال پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے غلبے اور اسے قتل کرنے کا تذکرہ دیگر صحیح و مستند احادیث میں صراحت کے ساتھ موجود ہے۔
اس روایت کو امام ابو داؤد طیالسی نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے، اس کی سند میں موسیٰ بن مطیر نامی راوی ضعیف ہے، تاہم دجال پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے غلبے اور اسے قتل کرنے کا تذکرہ دیگر صحیح و مستند احادیث میں صراحت کے ساتھ موجود ہے۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَنَا جَرِيرٌ ، أَنَا الْمُغِيرَةُ ، أَنَا الشَّعْبِيُّ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فِي قِصَّةِ الدَّجَّالِ قَالَتْ : وَإِنَّهُ فِيكُمْ أَيَّتُهَا الْأُمَّةُ .
4526 \ 2 - أَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ فَاطِمَةَ فِي قِصَّةِ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ مَعَ الدَّجَّالِ ، وَفِي أَوَّلِهِ : حَدَّثَنِي تَمِيمٌ بِحَدِيثٍ فَرِحْتُ بِهِ ، فَأَرَدْتُ أَنْ أُحَدِّثَكُمُوهُ فَتَفْرَحُوا بِهِ كَمَا فَرِحَ بِهِ نَبِيُّكُمْ .
4526 \ 3 - وَفِيهِ : أَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، ثَنَا الْمُجَالِدُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِالْحَدِيثِ . وَفِيهِ : أَنَّ تَمِيمًا أَتَانِي وَأَخْبَرَنِي خَبَرًا ، مَنَعَنِي الْقَيْلُولَةَ مِنَ الْفَرَحِ وَقُرَّةِ الْعَيْنِ .
4526 \ 4 - وَفِيهِ : قَالَ الشَّعْبِيُّ : فَلَقِيتُ الْمُحَرَّرَ بْنَ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي بِهِ . وَزَادَ : فَخَبْطُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ قَرِيبٌ مِنْ عِشْرِينَ مَرَّةً .
4526 \ 5 - أَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ الشَّعْبِيَّ زَادَ فِيهِ : أَنَّهُ سَأَلَهُمْ هَلْ بَنَى النَّاسُ ثِقَةً ؟ وَفِيهِ أَنَّهُ ضَرَبَ قَدَمُهُ بَاطِنَ قَدَمِهِ ، وَفِيهِ : أَنَّهُ قَالَ مِنْ قِبَلِ الْعِرَاقِ .
4526 \ 2 - أَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ فَاطِمَةَ فِي قِصَّةِ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ مَعَ الدَّجَّالِ ، وَفِي أَوَّلِهِ : حَدَّثَنِي تَمِيمٌ بِحَدِيثٍ فَرِحْتُ بِهِ ، فَأَرَدْتُ أَنْ أُحَدِّثَكُمُوهُ فَتَفْرَحُوا بِهِ كَمَا فَرِحَ بِهِ نَبِيُّكُمْ .
4526 \ 3 - وَفِيهِ : أَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، ثَنَا الْمُجَالِدُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِالْحَدِيثِ . وَفِيهِ : أَنَّ تَمِيمًا أَتَانِي وَأَخْبَرَنِي خَبَرًا ، مَنَعَنِي الْقَيْلُولَةَ مِنَ الْفَرَحِ وَقُرَّةِ الْعَيْنِ .
4526 \ 4 - وَفِيهِ : قَالَ الشَّعْبِيُّ : فَلَقِيتُ الْمُحَرَّرَ بْنَ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي بِهِ . وَزَادَ : فَخَبْطُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ قَرِيبٌ مِنْ عِشْرِينَ مَرَّةً .
4526 \ 5 - أَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ الشَّعْبِيَّ زَادَ فِيهِ : أَنَّهُ سَأَلَهُمْ هَلْ بَنَى النَّاسُ ثِقَةً ؟ وَفِيهِ أَنَّهُ ضَرَبَ قَدَمُهُ بَاطِنَ قَدَمِهِ ، وَفِيهِ : أَنَّهُ قَالَ مِنْ قِبَلِ الْعِرَاقِ .
ترجمہ
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے دجال کے قصے کے متعلق مروی ہے، وہ بیان کرتی ہیں کہ (رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:) ”اور بے شک وہ (دجال) تمہارے ہی درمیان (ظاہر ہونے والا) ہے اے اس امت کے لوگو!“
دوسری سند میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے تمیم داری اور دجال کے قصے کے بارے میں روایت ہے، جس کے آغاز میں یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تمیم نے مجھ سے ایک ایسی بات بیان کی جس سے مجھے بے حد مسرت ہوئی، چنانچہ میں نے چاہا کہ وہ بات تمہیں بھی سناؤں تاکہ تم بھی اسی طرح خوش ہو جاؤ جیسے تمہارے نبی خوش ہوئے ہیں۔“
اسی حدیث کے ایک اور طریق میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک تمیم میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے ایک ایسی خبر دی جس نے فرحت اور آنکھوں کی ٹھنڈک کی وجہ سے میری دوپہر کی نیند (قیلولہ) اڑا دی۔“
امام شعبی بیان کرتے ہیں کہ پھر میری ملاقات محرر بن ابی ہریرہ سے ہوئی تو انہوں نے کہا کہ مجھے میرے والد (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ) نے بھی یہ حدیث سنائی ہے اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے دستِ مبارک سے مشرق کی جانب تقریباً بیس مرتبہ اشارہ فرمایا۔
ایک اور روایت میں یہ اضافہ ہے کہ اس (دجال) نے ان سے پوچھا: ”کیا لوگوں نے کوئی مضبوط جائے پناہ تعمیر کر لی ہے؟“ اور اس میں یہ بھی ہے کہ اس نے اپنے ایک پاؤں کو دوسرے پاؤں کے تلوے پر مارا، نیز یہ بھی فرمایا کہ وہ عراق کی سمت سے ظاہر ہوگا۔
یہ حدیث اپنی اصل کے اعتبار سے صحیح ہے اور اس کے بنیادی اجزاء صحیح مسلم میں سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کے واقعے کے ضمن میں موجود ہیں۔
دوسری سند میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے تمیم داری اور دجال کے قصے کے بارے میں روایت ہے، جس کے آغاز میں یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تمیم نے مجھ سے ایک ایسی بات بیان کی جس سے مجھے بے حد مسرت ہوئی، چنانچہ میں نے چاہا کہ وہ بات تمہیں بھی سناؤں تاکہ تم بھی اسی طرح خوش ہو جاؤ جیسے تمہارے نبی خوش ہوئے ہیں۔“
اسی حدیث کے ایک اور طریق میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک تمیم میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے ایک ایسی خبر دی جس نے فرحت اور آنکھوں کی ٹھنڈک کی وجہ سے میری دوپہر کی نیند (قیلولہ) اڑا دی۔“
امام شعبی بیان کرتے ہیں کہ پھر میری ملاقات محرر بن ابی ہریرہ سے ہوئی تو انہوں نے کہا کہ مجھے میرے والد (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ) نے بھی یہ حدیث سنائی ہے اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے دستِ مبارک سے مشرق کی جانب تقریباً بیس مرتبہ اشارہ فرمایا۔
ایک اور روایت میں یہ اضافہ ہے کہ اس (دجال) نے ان سے پوچھا: ”کیا لوگوں نے کوئی مضبوط جائے پناہ تعمیر کر لی ہے؟“ اور اس میں یہ بھی ہے کہ اس نے اپنے ایک پاؤں کو دوسرے پاؤں کے تلوے پر مارا، نیز یہ بھی فرمایا کہ وہ عراق کی سمت سے ظاہر ہوگا۔
یہ حدیث اپنی اصل کے اعتبار سے صحیح ہے اور اس کے بنیادی اجزاء صحیح مسلم میں سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کے واقعے کے ضمن میں موجود ہیں۔