المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
ذِكْرِ ابن صياد والتردد فِي كونه الدجال باب: ابن صیاد اور اس کے دجال ہونے میں تردد کا بیان۔
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَخْزُومِيُّ ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَافِعٍ ، عَمَّنْ أَخْبَرَهُ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي قِصَّةِ الدَّجَّالِ .
وَهُوَ عِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ مِنْ طَرِيقٍ أُخْرَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَزَادَ هِشَامٌ فِيهِ : فَمَنْ لَقِيَهُ مِنْكُمْ فَلْيَتْفُلْ فِي وَجْهِهِ .سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے دجال کے قصے کے متعلق (نبی کریم ﷺ کا) ارشادِ گرامی ذکر کیا کہ: ”پس تم میں سے جو کوئی بھی اس (دجال) سے ملے، تو اسے چاہیے کہ وہ اس کے منہ پر تھوک دے۔“
ابن ابی عمر کہتے ہیں کہ ہمیں ہشام بن سلیمان مخزومی نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں اسماعیل بن رافع نے اس شخص کے واسطے سے خبر دی جس نے انہیں بتایا تھا اور انہوں نے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے دجال کے قصے پر مبنی حدیث ذکر کی۔ یہ روایت امام ابن ماجہ کے ہاں ایک دوسری سند سے اسماعیل بن رافع عن یحییٰ بن ابی عمرو عن ابی امامہ رضی اللہ عنہ کے طریق سے بھی مروی ہے، اور ہشام نے اس روایت میں ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے کہ: ”پس تم میں سے جو کوئی بھی اس (دجال) سے ملے، تو وہ اس کے چہرے پر تھوک دے۔“