المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
ذِكْرِ ابن صياد والتردد فِي كونه الدجال باب: ابن صیاد اور اس کے دجال ہونے میں تردد کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَنَا جَرِيرٌ ، أَنَا الْمُغِيرَةُ ، أَنَا الشَّعْبِيُّ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فِي قِصَّةِ الدَّجَّالِ قَالَتْ : وَإِنَّهُ فِيكُمْ أَيَّتُهَا الْأُمَّةُ .
4526 \ 2 - أَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ فَاطِمَةَ فِي قِصَّةِ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ مَعَ الدَّجَّالِ ، وَفِي أَوَّلِهِ : حَدَّثَنِي تَمِيمٌ بِحَدِيثٍ فَرِحْتُ بِهِ ، فَأَرَدْتُ أَنْ أُحَدِّثَكُمُوهُ فَتَفْرَحُوا بِهِ كَمَا فَرِحَ بِهِ نَبِيُّكُمْ .
4526 \ 3 - وَفِيهِ : أَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، ثَنَا الْمُجَالِدُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِالْحَدِيثِ . وَفِيهِ : أَنَّ تَمِيمًا أَتَانِي وَأَخْبَرَنِي خَبَرًا ، مَنَعَنِي الْقَيْلُولَةَ مِنَ الْفَرَحِ وَقُرَّةِ الْعَيْنِ .
4526 \ 4 - وَفِيهِ : قَالَ الشَّعْبِيُّ : فَلَقِيتُ الْمُحَرَّرَ بْنَ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي بِهِ . وَزَادَ : فَخَبْطُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ قَرِيبٌ مِنْ عِشْرِينَ مَرَّةً .
4526 \ 5 - أَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ الشَّعْبِيَّ زَادَ فِيهِ : أَنَّهُ سَأَلَهُمْ هَلْ بَنَى النَّاسُ ثِقَةً ؟ وَفِيهِ أَنَّهُ ضَرَبَ قَدَمُهُ بَاطِنَ قَدَمِهِ ، وَفِيهِ : أَنَّهُ قَالَ مِنْ قِبَلِ الْعِرَاقِ .سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے دجال کے قصے کے متعلق مروی ہے، وہ بیان کرتی ہیں کہ (رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:) ”اور بے شک وہ (دجال) تمہارے ہی درمیان (ظاہر ہونے والا) ہے اے اس امت کے لوگو!“
دوسری سند میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے تمیم داری اور دجال کے قصے کے بارے میں روایت ہے، جس کے آغاز میں یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تمیم نے مجھ سے ایک ایسی بات بیان کی جس سے مجھے بے حد مسرت ہوئی، چنانچہ میں نے چاہا کہ وہ بات تمہیں بھی سناؤں تاکہ تم بھی اسی طرح خوش ہو جاؤ جیسے تمہارے نبی خوش ہوئے ہیں۔“
اسی حدیث کے ایک اور طریق میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک تمیم میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے ایک ایسی خبر دی جس نے فرحت اور آنکھوں کی ٹھنڈک کی وجہ سے میری دوپہر کی نیند (قیلولہ) اڑا دی۔“
امام شعبی بیان کرتے ہیں کہ پھر میری ملاقات محرر بن ابی ہریرہ سے ہوئی تو انہوں نے کہا کہ مجھے میرے والد (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ) نے بھی یہ حدیث سنائی ہے اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے دستِ مبارک سے مشرق کی جانب تقریباً بیس مرتبہ اشارہ فرمایا۔
ایک اور روایت میں یہ اضافہ ہے کہ اس (دجال) نے ان سے پوچھا: ”کیا لوگوں نے کوئی مضبوط جائے پناہ تعمیر کر لی ہے؟“ اور اس میں یہ بھی ہے کہ اس نے اپنے ایک پاؤں کو دوسرے پاؤں کے تلوے پر مارا، نیز یہ بھی فرمایا کہ وہ عراق کی سمت سے ظاہر ہوگا۔
یہ حدیث اپنی اصل کے اعتبار سے صحیح ہے اور اس کے بنیادی اجزاء صحیح مسلم میں سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کے واقعے کے ضمن میں موجود ہیں۔