❮
❯
حدیث نمبر: 4520
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، ثَنَا فِطْرٌ ، حَدَّثَنِي أَبُو الطُّفَيْلِ قَالَ : سَمِعْتُ مِنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا فِي الدَّجَّالِ ، مَا سَمِعْتُ مِنْهُ حَدِيثًا أَشْرَفَ مِنْهُ ، أَنَّهُ يَجِيءُ عَلَى حِمَارٍ ، يَأْتِي الرَّجُلُ عَلَى صُورَةٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ ، فَيَقُولُ : يَا فُلَانُ إِنِّي أَدْعُوكَ إِلَى الْحَقِّ ، إِنَّ أَمْرِي حَقٌّ .
ترجمہ

ابوالطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے دجال کے متعلق ایک ایسی حدیث سنی ہے جس سے زیادہ بڑی اور اہم بات میں نے کبھی نہیں سنی تھی، وہ یہ کہ ”دجال ایک گدھے پر سوار ہو کر آئے گا، وہ (فتنہ و آزمائش کے طور پر) کسی شخص کے پاس اس کے گھر والوں میں سے کسی فرد کی ہم شکل صورت اختیار کر کے آئے گا اور اس سے مخاطب ہو کر کہے گا: اے فلاں! میں تمہیں حق کی طرف بلا رہا ہوں، بلاشبہ میرا معاملہ بالکل برحق ہے۔“
[مسند احمد: 4520، علامہ شعیب الارنؤوط نے اسے حدیث صحیح اور اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے]

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4520
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح »
«أخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 38691»