المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
ذِكْرِ ابن صياد والتردد فِي كونه الدجال باب: ابن صیاد اور اس کے دجال ہونے میں تردد کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَكُونُ أَمَامَ الدَّجَّالِ سِنُونَ خَوَادِعُ ، يَكْثُرُ فِيهَا الْمَطَرُ ، وَيَقِلُّ فِيهَا النَّبْتُ ، وَيُكَذَّبُ فِيهَا الصَّادِقُ ، وَيُصَدَّقُ فِيهَا الْكَاذِبُ ، وَيُؤْتَمَنُ فِيهَا الْخَائِنُ ، وَيُخَوَّنُ فِيهَا الْأَمِينُ ، وَتَنْطِقُ فِيهَا الرُّوَيْبِضَةُ ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، وَمَا الرُّوَيْبِضَةُ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ لَا يُؤْبَهُ لَهُ .
4517 \ 2 - رَوَاهُ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، بِهِ ، وَقَالَ فِي إِسْنَادِهِ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ : وَمَا الرُّوَيْبِضَةُ ؟ قَالَ : الْمَرْءُ التَّافِهُ يَتَكَلَّمُ فِي أَمْرِ الْعَامَّةِ .سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”دجال کے ظہور سے پہلے مکر و فریب پر مبنی دھوکہ دینے والے سال ہوں گے، جن میں بارش کی کثرت ہوگی مگر زمین کی نباتات و پیداوار بہت کم ہو جائے گی، اس دور میں سچے انسان کی تکذیب کی جائے گی اور جھوٹے شخص کی تصدیق و تائید کی جائے گی، بددیانت و خائن کو امانت دار سمجھ کر اس پر بھروسہ کیا جائے گا جبکہ اصل امانت دار پر خیانت کی تہمت لگا کر اسے غیر معتبر ٹھہرایا جائے گا، اور ان برسوں میں ”رویبضہ“ کلام کریں گے۔“ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ ”رویبضہ“ کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”وہ معمولی شخص جس کی معاشرے میں کوئی وقعت اور اہمیت نہ ہو۔“
اس حدیث کو امام بزار نے بھی اپنی سند میں ابو کریب کے واسطے سے روایت کیا ہے جس میں محمد بن اسحاق نے تحدیث کی صراحت کی ہے، نیز اس روایت کے آخر میں ”رویبضہ“ کی وضاحت ان الفاظ میں مروی ہے: ”وہ حقیر اور کم ظرف انسان جو عوام الناس کے اجتماعی معاملات میں لب کشائی کرے۔“