المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
ذِكْرِ ابن صياد والتردد فِي كونه الدجال باب: ابن صیاد اور اس کے دجال ہونے میں تردد کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنِ الْعُرْيَانِ بْنِ الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، فَذَكَرَ قِصَّةً ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : أَبِأَرْضِكُمْ أَرْضٌ يُقَالُ لَهَا : كُوثَى ذَاتُ سِبَاخٍ وَنَخْلٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَإِنَّ الدَّجَّالَ يَخْرُجُ مِنْهَا .ہیثم بن اسود (العریان بن الہیثم کے والد) سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: میں یزید بن معاویہ کے پاس حاضر ہوا، پس یزید نے ایک قصہ بیان کیا، تو اس موقع پر سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے دریافت فرمایا: ”کیا تمہاری سرزمین میں کوئی ایسی جگہ ہے جسے ’کوثیٰ‘ کہا جاتا ہو، جو شور زدہ (کلر والی) زمین اور کھجور کے باغات پر مشتمل ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں،“ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بلاشبہ دجال اسی مقام سے برآمد ہوگا۔“
اس روایت کی سند حسن ہے، اسے امام مسدد بن مسرہد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کے تمام راوی ثقہ ہیں، جبکہ ہیثم بن اسود کی توثیق امام ابن حبان نے فرمائی ہے۔