المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
ذِكْرِ ابن صياد والتردد فِي كونه الدجال باب: ابن صیاد اور اس کے دجال ہونے میں تردد کا بیان۔
حدیث نمبر: 4521
وَقَالَ مُسَدَّدٌ أَيْضًا : ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ دَاوُدَ ، ثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أُحَذِّرُكُمُ الدَّجَّالَ ... الْحَدِيثَ .
خَالَفَهُ مُحَاضِرٌ ، فَقَالَ : عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ وَهْبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، أَخْرَجَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَالْأَوَّلُ أَصَحُّ مَعَ إِرْسَالِهِ .ترجمہ
امام عبید بن عمیر رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے (امت کو متنبہ کرتے ہوئے) ارشاد فرمایا: ”میں تمہیں دجال (کے فتنے) سے ڈراتا ہوں...“ (مکمل حدیث)۔
اس روایت کی سند میں محاضر نامی راوی نے (عبداللہ بن داؤد کی) مخالفت کی ہے اور اسے ہشام بن عروہ عن وہب بن کیسان کے واسطے سے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے، اس طریق کو امام ابنِ حبان نے روایت کیا ہے، تاہم علمی و فنی اعتبار سے پہلا طریق ہی زیادہ صحیح اور مستند ہے اگرچہ وہ مرسل ہے۔