المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
ذِكْرِ ابن صياد والتردد فِي كونه الدجال باب: ابن صیاد اور اس کے دجال ہونے میں تردد کا بیان۔
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، ثَنَا عَبَّادٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا سَمِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنِ صَيَّادٍ ، قَامَ إِلَيْهِ فِي بَعْضِ أَصْحَابِهِ ، فَقَالَتْ أُمُّهُ : هُوَ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ ، قَالَتْ : وَلَدْتُهُ أَعْوَرَ ، مَخْتُونًا ، فَدَعَا بِهِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللهِ ؟ فَقَالَ : أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : آمَنْتُ بِاللهِ وَرُسُلِهِ ، قَالَ : قَدْ خَبَأْتُ لَكَ شَيْئًا فَمَا هُوَ ؟ قَالَ : دُخٌّ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اخْسَأْ ، فَقَالَ : انْظُرْ مَا تَرَى ؟ قَالَ : أَرَى إِعْصَارًا وَعَرْشًا عَلَى الْمَاءِ ، فَقَالَ : لُبِسَ عَلَيْهِ ، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَلَا أَقْتُلُهُ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنْ يَكُنْ هُوَ الدَّجَّالَ لَا تُسَلَّطُ عَلَى قَتْلِهِ ، وَإِنْ لَا يَكُنِ الدَّجَّالَ فَلَا يَحِلُّ قَتْلُهُ .عروہ بن زبیر رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے ابنِ صیاد کے بارے میں سنا تو آپ ﷺ اپنے چند صحابہ کرام کے ہمراہ اس کی طرف تشریف لے گئے، اس کی ماں نے (آپ ﷺ کو دیکھ کر) کہا: وہ بچوں کے ساتھ کھیل رہا ہے، نیز اس نے بتایا کہ جب وہ پیدا ہوا تھا تو کانا اور ختنہ شدہ تھا۔ آپ ﷺ نے اسے بلوایا اور رسول اللہ ﷺ نے اس سے دریافت فرمایا: ”کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“ اس نے (جواب دینے کے بجائے الٹا آپ ﷺ سے) کہا: ”کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“ رسول اللہ ﷺ نے (اس کی ہٹ دھرمی دیکھ کر) فرمایا: ”میں اللہ اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان لایا۔“ پھر آپ ﷺ نے اس کا امتحان لینے کے لیے فرمایا: ”میں نے اپنے دل میں تیرے لیے ایک بات چھپا رکھی ہے، بتاؤ وہ کیا ہے؟“ اس نے کہا: ”وہ ’دُخ‘ (دھواں) ہے۔“ آپ ﷺ نے اسے سخت لہجے میں فرمایا: «اخْسَأْ» ”ذلیل و خوار ہو کر اپنی حد میں رہو (تم اپنی شیطانی حد سے آگے نہیں بڑھ سکتے)۔“ پھر آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تمہیں (اپنے کشف میں) کیا نظر آتا ہے؟“ اس نے کہا: ”میں ایک بگولا دیکھ رہا ہوں اور پانی پر ایک تخت دیکھ رہا ہوں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس پر معاملہ مشتبہ اور خلط ملط کر دیا گیا ہے (یعنی اس پر شیطانی اثرات ہیں)۔“ اس موقع پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا میں اسے قتل نہ کر دوں؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اگر یہ وہی (دجالِ اکبر) ہے تو تم اسے قتل کرنے پر قدرت نہیں پاؤ گے، اور اگر وہ نہیں ہے تو پھر اس کا قتل کرنا تمہارے لیے حلال نہیں ہے۔“
تخریج: اس حدیث کو امام حارث نے اپنی مسند (بغیۃ الباحث: 4515) میں روایت کیا ہے، اس کی اصل صحیح بخاری (1355) اور صحیح مسلم (2930) میں موجود ہے، جہاں ابنِ صیاد کے تفصیلی واقعات مروی ہیں۔