❮
❯
حدیث نمبر: 4523
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ حَسَنِ بْنِ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : إِنَّهُ سَأَلَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ الدَّجَّالِ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّ كُلَّ نَبِيٍّ قَدْ أَنْذَرَ قَوْمَهُ الدَّجَّالَ ، أَلَا وَإِنَّهُ قَدْ أَكَلَ الطَّعَامَ ، أَلَا وَإِنِّي عَاهِدٌ إِلَيْكُمْ فِيهِ عَهْدًا لَمْ يَعْهَدْهُ نَبِيٌّ إِلَى أُمَّتِهِ ، أَلَا وَإِنَّ عَيْنَهُ الْيُمْنَى مَمْسُوحَةٌ كَأَنَّهَا نُخَاعَةٌ فِي جَانِبِ حَائِطٍ ، أَلَا وَإِنَّ عَيْنَهُ الْيُسْرَى كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ ، مَعَهُ مِثْلُ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ ، فَالنَّارُ رَوْضَةٌ خَضْرَاءُ ، وَالْجَنَّةُ غَبْرَاءُ ذَاتُ دُخَانٍ ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ رَجُلَانِ يُنْذِرَانِ أَهْلَ الْقُرَى ، كُلَّمَا دَخَلَا قَرْيَةً أَنْذَرَا أَهْلَهَا ، فَإِذَا خَرَجَا مِنْهُ دَخَلَ أَوَّلُ أَصْحَابِ الدَّجَّالِ ، فَيَدْخُلُ الْقُرَى كُلَّهَا غَيْرَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ ، حُرِّمَتَا عَلَيْهِ ، وَالْمُؤْمِنُونَ مُتَفَرِّقُونَ فِي الْأَرْضِ ، فَيَجْمَعُهُمُ اللهُ تَعَالَى ، فَيَقُولُ رَجُلٌ مِنْهُمْ : وَاللهِ لَأَنْطَلِقَنَّ فَلَأَنْظُرَنَّ هَذَا الَّذِي أَنْذَرَنَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَقُولُ لَهُ أَصْحَابُهُ : إِنَّا لَا نَدَعُكَ تَأْتِيهِ ، وَلَوْ عَلِمْنَا أَنَّهُ لَا يَفْتِنُكَ لَخَلَّيْنَا سَبِيلَكَ ، وَلَكِنَّا نَخَافُ أَنْ يَفْتِنَكَ فَتَتَّبِعَهُ ، فَيَأْبَى إِلَّا أَنْ يَأْتِيَهُ ، فَيَنْطَلِقُ حَتَّى إِذَا أَتَى أَدْنَى مَسْلَحَةٍ مِنْ مَسَالِحِهِ أَخَذُوهُ ، فَسَأَلُوهُ : مَا شَأْنُهُ ؟ وَأَيْنَ يُرِيدُ ؟ فَيَقُولُ : أُرِيدُ الدَّجَّالَ الْكَذَّابَ ، فَيَقُولُونَ : أَنْتَ تَقُولُ ذَلِكَ ؟ فَيَكْتُبُونَ إِلَيْهِ : إِنَّا أَخَذْنَا رَجُلًا يَقُولُ كَذَا وَكَذَا ، فَنَقْتُلُهُ ، أَمْ نَبْعَثُ بِهِ إِلَيْكَ ؟ فَيَقُولُ : أَرْسِلُوا بِهِ إِلَيَّ ، فَانْطَلَقُوا بِهِ إِلَيْهِ ، فَلَمَّا رَآهُ عَرَفَهُ بِنَعْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ : أَنْتَ الدَّجَّالُ الْكَذَّابُ الَّذِي أَنْذَرَنَا مِنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ الدَّجَّالُ : أَنْتَ تَقُولُ ذَلِكَ ؟ لَتُطِيعَنِّي فِيمَا آمُرُكَ بِهِ ، أَوْ لَأَشُقَّنَّكَ شَقَّتَيْنِ ، فَيُنَادِي الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ فِي النَّاسِ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ هَذَا الْمَسِيحُ الْكَذَّابُ ، فَيَأْمُرُ بِهِ فَمَدَّ رِجْلَيْهِ ، ثُمَّ أَمَرَ بِحَدِيدَةٍ ، فَوُضِعَتْ عَلَى عَجْبِ ذَنَبِهِ ، فَشَقَّهُ شَقَّتَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ الدَّجَّالُ لِأَوْلِيَائِهِ : أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَحْيَيْتُ لَكُمْ هَذَا ، أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي رَبُّكُمْ ؟ فَيَقُولُونَ : نَعَمْ ، فَيَأْخُذُ عَصًا فَيَضْرِبُ بِهَا إِحْدَى شِقَّيْهِ أَوِ الصَّعِيدَ ، فَاسْتَوَى قَائِمًا ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ أَوْلِيَاؤُهُ صَدَّقُوهُ ، وَأَحَبُّوهُ وَأَيْقَنُوا بِهِ أَنَّهُ رَبُّهُمْ وَاتَّبَعُوهُ ، فَيَقُولُ الدَّجَّالُ لِلْعَبْدِ الْمُؤْمِنِ : أَلَا تُؤْمِنُ بِي ؟ فَقَالَ : أَنَا الْآنَ أَشَدُّ بَصِيرَةً فِيكَ مِنِّي ، ثُمَّ نَادَى فِي النَّاسِ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ هَذَا الْمَسِيحُ الْكَذَّابُ ، مَنْ أَطَاعَهُ فَهُوَ فِي النَّارِ ، وَمَنْ عَصَاهُ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ ، فَقَالَ الدَّجَّالُ : لَتُطِيعَنِّي أَوْ لَأَذْبَحَنَّكَ ، فَقَالَ : وَاللهِ لَا أُطِيعُكَ أَبَدًا ، إِنَّكَ لَأَنْتَ الْكَذَّابُ ، فَأَمَرَ بِهِ ، فَأُضْجِعَ وَأَمَرَ بِذَبْحِهِ فَلَا يَقْدِرُ عَلَيْهِ ، لَا يُسَلَّطُ عَلَيْهِ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً ، فَأَخَذَ بِيَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ ، فَأُلْقِيَ فِي النَّارِ ، وَهِيَ غَيْرُ ذَاتِ دُخَانٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ذَلِكَ الرَّجُلُ أَقْرَبُ أُمَّتِي مِنِّي ، وَأَرْفَعُهُمْ دَرَجَةً ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قُلْتُ : فَكَيْفَ يَهْلِكُ ؟ قَالَ : اللهُ أَعْلَمُ .
قُلْتُ : إِنَّ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ هُوَ يُهْلِكُهُ ؟ قَالَ : اللهُ أَعْلَمُ ، غَيْرَ أَنَّ اللهَ تَعَالَى مُهْلِكُهُ وَمَنْ مَعَهُ ، قُلْتُ : فَمَاذَا يَكُونُ بَعْدَهُ ؟ قَالَ : حَدَّثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ النَّاسَ يَغْرِسُونَ بَعْدَهُ الْغُرُوسَ ، وَيَتَّخِذُونَ مِنْ بَعْدِهِ الْأَمْوَالَ ، قُلْتُ : سُبْحَانَ اللهِ أَبْعَدَ الدَّجَّالِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَيَمْكُثُونَ فِي الْأَرْضِ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَمْكُثُوا ، ثُمَّ يُفْتَحُ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ ، فَيُهْلِكُونَ مَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ تَعَلَّقَ بِحِصْنٍ ، فَلَمَّا فَرَغُوا مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ أَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ ، فَقَالُوا : إِنَّمَا بَقِيَ مَنْ فِي الْحُصُونِ وَمَنْ فِي السَّمَاءِ فَيَرْمُونَ بِسِهَامِهِمْ ، فَخَرَّتْ عَلَيْهِ مُتَغَيِّرَةً دَمًا ، فَقَالُوا : قَدِ اسْتَرَحْتُمْ مِمَّنْ فِي السَّمَاءِ ، وَبَقِيَ مَنْ فِي الْحُصُونِ ، فَحَاصَرُوهُمْ حَتَّى اشْتَدَّ عَلَيْهِمُ الْحَصَرُ وَالْبَلَاءُ ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ أَرْسَلَ اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِمْ نَغَفًا فِي أَعْنَاقِهِمْ ، فَقَصَمَتْ أَعْنَاقَهُمْ ، فَمَالَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ مَوْتَى ، فَقَالَ رَجُلٌ : قَتَلَهُمُ رَبُّ الْكَعْبَةِ ، قَالَ : إِنَّمَا يَفْعَلُونَ هَذَا مُخَادَعَةً ، فَنَخْرُجُ إِلَيْهِمْ فَيُهْلِكُونَا كَمَا أَهْلَكُوا إِخْوَانَنَا ، فَقَالَ : افْتَحُوا لِيَ الْبَابَ ، فَقَالَ أَصْحَابُهُ : لَا نَفْتَحُ ، فَقَالَ : دَلُّونِي بِحَبْلٍ ، فَلَمَّا نَزَلَ وَجَدَهُمْ مَوْتَى ، فَخَرَجَ النَّاسُ مِنْ حُصُونِهِمْ .
فَحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ مَوَاشِيَهُمْ جَعَلَهَا اللهُ تَعَالَى لَهُمْ حَيَاةً يَقْتَضِمُونَهَا ، مَا يَجِدُونَ غَيْرَهَا ، قَالَ : وَحَدَّثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ النَّاسَ يَغْرِسُونَ بَعْدَهُمُ الْغُرُوسَ ، وَيَتَّخِذُونَ الْأَمْوَالَ ، قَالَ : قُلْتُ : فَسُبْحَانَ اللهِ أَبَعْدَ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَبَيْنَمَا هُمْ فِي تِجَارَاتِهِمْ إِذْ نَادَى مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ : أَتَى أَمْرُ اللهِ ، فَفَزِعَ أَهْلُ الْأَرْضِ حِينَ سَمِعُوا الدَّعْوَةَ ، وَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ ، ثُمَّ أَقْبَلُوا عَلَى تِجَارَتِهِمْ وَأَسْوَاقِهِمْ وَصِنَاعَتِهِمْ ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ نُودُوا مَرَّةً أُخْرَى : يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَتَى أَمْرُ اللهِ ، فَانْطَلَقُوا نَحْوَ الدَّعْوَةِ الَّتِي سَمِعُوا ، وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَفِرُّ مِنْ غَنَمِهِ وَسِلْعِهِ قِبَلَ الدَّعْوَةِ ، إِذْ لَقُوا اللهَ ، وَذُهِلُوا فِي مَوَاشِيهِمْ ، وَعِنْدَ ذَلِكَ عُطِّلَتِ الْعِشَارُ ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ يَسْعَوْنَ قِبَلَ الدَّعْوَةِ ، إِذْ لَقُوا اللهَ تَعَالَى فِي ظُلَلٍ مِنَ الْغَمَامِ ، وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الأَرْضِ إِلا مَنْ شَاءَ اللهُ ، فَمَكَثُوا مَا شَاءَ اللهُ ، ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ مَرَّةً أُخْرَى ، فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ ، ثُمَّ تَجِيءُ جَهَنَّمُ لَهَا زَفِيرٌ وَشَهِيقٌ ، ثُمَّ يُنَادَى ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ .
وَقَدْ أَخْرَجَ أَصْحَابُ السُّنَنِ مِنْهُ قِصَّةَ الشَّفَاعَةِ ، وَقِصَّةَ بَعْثِ النَّارِ ، وَغَيْرَ ذَلِكَ ، وَفِي سِيَاقِ هَذَا بَعْضُ مُخَالَفَةٍ وَمَا فِي الصَّحِيحِ أَصَحُّ ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ .
ترجمہ

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے دجال کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بلا شبہ ہر نبی نے اپنی قوم کو دجال کے فتنے سے ڈرایا ہے، خبردار! وہ (تمہاری طرح) کھانا کھاتا ہے، اور یقیناً میں تمہیں اس کے بارے میں ایسی بات بتانے والا ہوں جو کسی نبی نے اپنی امت کو نہیں بتائی؛ آگاہ رہو! اس کی دائیں آنکھ بالکل سپاٹ اور بے نور ہوگی گویا کہ وہ دیوار کے ایک کونے پر لگا ہوا بلغم کا نشان ہے، اور اس کی بائیں آنکھ موتی کی طرح چمکتے ہوئے ستارے جیسی ہوگی، اس کے ساتھ جنت اور دوزخ کی مانند (نمونے) ہوں گے، پس (جسے وہ آگ کہے گا) وہ حقیقت میں ہرا بھرا باغ ہوگا اور جسے وہ جنت کہے گا وہ دھوئیں والی گرد آلود جگہ ہوگی، اس کے آگے دو آدمی ہوں گے جو بستیوں کے رہنے والوں کو خبردار کریں گے، وہ جس بستی میں داخل ہوں گے وہاں کے لوگوں کو (دجال کے فتنے سے) ڈرائیں گے اور جب وہ وہاں سے نکلیں گے تو دجال کے ساتھیوں کا ہراول دستہ داخل ہوگا، وہ مکہ اور مدینہ کے علاوہ تمام بستیوں میں داخل ہوگا کیونکہ یہ دونوں شہر اس پر حرام کر دیے گئے ہیں، اس وقت اہل ایمان زمین میں بکھرے ہوئے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں ایک جگہ جمع فرما دے گا، ان میں سے ایک شخص کہے گا کہ اللہ کی قسم! میں ضرور جاؤں گا تاکہ اس شخص کو دیکھوں جس سے ہمیں رسول اللہ ﷺ نے ڈرایا تھا، اس کے ساتھی کہیں گے کہ ہم تمہیں وہاں نہیں جانے دیں گے، اگر ہمیں علم ہوتا کہ وہ تمہیں فتنے میں نہیں ڈالے گا تو ہم تمہارا راستہ نہ روکتے لیکن ہمیں خوف ہے کہ کہیں وہ تمہیں آزمائش میں نہ ڈال دے اور تم اس کی پیروی نہ کر بیٹھو، مگر وہ جانے پر بصر رہے گا، چنانچہ وہ چل پڑے گا یہاں تک کہ جب وہ دجال کی چوکیوں میں سے قریبی چوکی پر پہنچے گا تو پہرے دار اسے پکڑ کر پوچھیں گے کہ تمہارا کیا معاملہ ہے اور کہاں کا ارادہ ہے؟ وہ کہے گا کہ میں اس کذاب دجال کے پاس جانا چاہتا ہوں، وہ کہیں گے کہ کیا تم اسے کذاب کہتے ہو؟ پھر وہ دجال کو لکھ بھیجیں گے کہ ہم نے ایک ایسے شخص کو پکڑا ہے جو اس طرح کی باتیں کر رہا ہے، کیا ہم اسے قتل کر دیں یا آپ کے پاس بھیج دیں؟ وہ کہے گا کہ اسے میرے پاس بھیج دو، پس وہ اسے لے کر دجال کے پاس پہنچیں گے، جب وہ مومن اسے دیکھے گا تو رسول اللہ ﷺ کی بتائی ہوئی نشانیوں سے اسے پہچان لے گا اور کہے گا کہ تو ہی وہ کذاب دجال ہے جس سے ہمیں رسول اللہ ﷺ نے ڈرایا تھا، دجال اس سے کہے گا کہ کیا تو یہ باتیں کرتا ہے؟ اب یا تو تو میری اطاعت کر جس کا میں تجھے حکم دوں یا پھر میں تیرے دو ٹکڑے کر دوں گا، وہ مومن بندہ لوگوں میں پکار کر کہے گا کہ اے لوگو! یہ مسیح کذاب ہے، دجال اسے لٹانے کا حکم دے گا اور پھر لوہے کی ایک آری منگوا کر اس کی ریڑھ کی ہڈی کے نچلے حصے پر رکھ کر اسے دو حصوں میں چیر دے گا، پھر دجال اپنے پیروکاروں سے کہے گا کہ تمہارا کیا خیال ہے اگر میں اسے دوبارہ زندہ کر دوں تو کیا تم اس بات کا یقین نہیں کر لو گے کہ میں تمہارا رب ہوں؟ وہ کہیں گے کہ جی ہاں! پھر وہ ایک لاٹھی لے کر اس کے ایک ٹکڑے کو یا زمین کو مارے گا تو وہ شخص دوبارہ صحیح سلامت کھڑا ہو جائے گا، جب اس کے ماننے والے یہ دیکھیں گے تو اس کی تصدیق کریں گے اور اسے اپنا رب مان کر اس کی محبت میں مبتلا ہو جائیں گے، پھر دجال اس مومن بندے سے کہے گا کہ کیا اب بھی مجھ پر ایمان نہیں لاتا؟ وہ کہے گا کہ اب تو میری بصیرت تیرے بارے میں پہلے سے بھی زیادہ پختہ ہو گئی ہے، پھر وہ لوگوں میں پکارے گا کہ اے لوگو! یہ مسیح کذاب ہے، جو اس کی اطاعت کرے گا وہ آگ میں جائے گا اور جو اس کی نافرمانی کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا، دجال کہے گا کہ تو میری اطاعت کر ورنہ میں تجھے ذبح کر دوں گا، وہ کہے گا کہ اللہ کی قسم! میں کبھی تیری اطاعت نہیں کروں گا، تو ہی وہ کذاب ہے، دجال اسے لٹانے اور ذبح کرنے کا حکم دے گا لیکن وہ اسے ذبح نہیں کر پائے گا کیونکہ اسے صرف ایک ہی بار اس پر تسلط دیا گیا تھا، پھر وہ اسے ہاتھ پاؤں سے پکڑ کر اس آگ میں پھینک دے گا جو بغیر دھوئیں کے (باغ) ہوگی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ وہ شخص میری امت میں میرے سب سے زیادہ قریب اور بلند مرتبے والا ہوگا، ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ پھر دجال کیسے ہلاک ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے
میں کہتا ہوں (امام احمد بن منیع یا راوی کا قول) کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام اسے ہلاک کریں گے؟ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ بہتر جانتا ہے، البتہ اللہ تعالیٰ اسے اور اس کے ساتھیوں کو ہلاک کرنے والا ہے، میں نے پوچھا کہ اس کے بعد کیا ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بتایا تھا کہ لوگ اس کے بعد درخت لگائیں گے اور مال و دولت جمع کریں گے، میں نے حیرت سے کہا کہ سبحان اللہ! کیا دجال کے بعد بھی ایسا ہوگا؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں! وہ زمین میں جتنا عرصہ اللہ چاہے گا قیام کریں گے، پھر یاجوج و ماجوج کھول دیے جائیں گے، وہ زمین میں موجود تمام لوگوں کو ہلاک کر دیں گے سوائے ان کے جو قلعوں میں پناہ گزین ہوں گے، جب وہ اہل زمین سے فارغ ہو جائیں گے تو ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر کہیں گے کہ اب صرف وہ بچے ہیں جو قلعوں میں ہیں یا آسمان میں ہیں، پھر وہ اپنے تیر آسمان کی طرف چلائیں گے جو خون آلود ہو کر واپس گریں گے، وہ کہیں گے کہ تم نے آسمان والوں سے بھی نجات پا لی ہے اب صرف قلعوں والے باقی ہیں، وہ ان کا محاصرہ کر لیں گے یہاں تک کہ محصورین پر تنگی اور آزمائش شدید ہو جائے گی، اسی دوران اللہ تعالیٰ ان (یاجوج ماجوج) کی گردنوں میں کیڑے پیدا کر دے گا جو ان کی گردنیں توڑ دیں گے اور وہ مردہ ہو کر ایک دوسرے پر ڈھیر ہو جائیں گے، ایک شخص (قلعہ سے) پکارے گا کہ رب کعبہ کی قسم! اللہ نے انہیں مار دیا، لوگ کہیں گے کہ وہ ایسا ہمیں دھوکہ دینے کے لیے کر رہے ہیں، اگر ہم باہر نکلے تو وہ ہمیں بھی ہلاک کر دیں گے جیسے ہمارے بھائیوں کو کیا، وہ شخص کہے گا کہ میرے لیے دروازہ کھولو، ساتھی انکار کریں گے تو وہ کہے گا کہ مجھے رسی سے نیچے لٹکا دو، جب وہ نیچے اترے گا تو انہیں مردہ پائے گا، تب لوگ قلعوں سے باہر نکل آئیں گے
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا کہ اللہ تعالیٰ ان کے چوپایوں کے لیے یاجوج ماجوج کے اجسام کو خوراک بنا دے گا جسے وہ چریں گے اور انہیں اس کے علاوہ کچھ نہیں ملے گا، نیز رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بتایا کہ لوگ اس کے بعد باغات لگائیں گے اور مال و دولت اکٹھا کریں گے، میں نے عرض کیا کہ سبحان اللہ! کیا یاجوج ماجوج کے بعد بھی؟ فرمایا کہ ہاں! پس وہ اپنی تجارتوں میں مصروف ہوں گے کہ اچانک آسمان سے ایک پکارنے والا پکارے گا کہ اللہ کا حکم (قیامت) آگیا ہے، اہل زمین یہ پکار سن کر گھبرا جائیں گے اور ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں گے، پھر دوبارہ اپنی تجارت، بازاروں اور کام کاج میں جت جائیں گے، اسی دوران انہیں پھر پکارا جائے گا کہ اے لوگو! اللہ کا حکم آگیا ہے، پس وہ اس پکار کی طرف چل پڑیں گے اور آدمی اپنی بھیڑ بکریوں اور سامان تجارت کو چھوڑ کر اس آواز کی سمت بھاگے گا یہاں تک کہ وہ اللہ سے جا ملیں گے اور اپنے چوپایوں سے غافل ہو جائیں گے، اس وقت ﴿وَإِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ﴾ [سورة التكوير: 4] ”اور جب دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں (اپنے حال پر) چھوڑ دی جائیں گی“ والا معاملہ ہوگا، وہ اس پکار کی طرف دوڑ رہے ہوں گے کہ اچانک اللہ تعالیٰ کے حضور اس حال میں پیش ہوں گے کہ ﴿فِي ظُلَلٍ مِنَ الْغَمَامِ﴾ [سورة البقرة: 210] ”بادلوں کے سائبانوں میں (اللہ کا عذاب یا فیصلہ آئے گا)“ اور صور پھونک دیا جائے گا، پس ﴿فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ﴾ [سورة الزمر: 68] ”پس جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں وہ سب بے ہوش (یا فنا) ہو جائیں گے سوائے ان کے جنہیں اللہ چاہے“، پھر وہ جتنا عرصہ اللہ چاہے گا اسی حال میں رہیں گے، پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو وہ اچانک کھڑے ہو کر دیکھنے لگیں گے، پھر جہنم لائی جائے گی جس کی چنگھاڑنے اور جوش مارنے کی آوازیں آ رہی ہوں گی، پھر منادی کی جائے گی، اور آگے لمبی حدیث ذکر کی
اس حدیث کا شفاعت اور جہنم میں بھیجے جانے والا قصہ اصحاب سنن نے بھی روایت کیا ہے، البتہ اس سیاق میں کچھ اختلاف موجود ہے اور جو صحیحین (بخاری و مسلم) میں ہے وہ زیادہ صحیح ہے، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4523
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: وَقَدْ أَخْرَجَ أَصْحَابُ السُّنَنِ مِنْهُ قِصَّةَ الشَّفَاعَةِ ، وَقِصَّةَ بَعْثِ النَّارِ ، وَغَيْرَ ذَلِكَ ، وَفِي سِيَاقِ هَذَا بَعْضُ مُخَالَفَةٍ وَمَا فِي الصَّحِيحِ أَصَحُّ ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ . »
«أخرجه المستدرك للحاكم برقم: 8716، وأخرجه مسند أبي يعلى برقم: 1366»