کتب حدیث › المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب › باب: قیامت کی علامات کا بیان۔
❮
❯
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمَّارٍ ، ثَنَا الْمُعَافَى بْنُ عِمْرَانَ ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ ، عَنْ شُفَيٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ ، قُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الْأَعَاجِمِ ، قِيلَ : وَمَا قُلُوبُ الْأَعَاجِمِ ؟ قَالَ : حُبُّ الدُّنْيَا ، سُنَّتُهُمْ سُنَّةُ الْأَعْرَابِ ، مَا آتَاهُمُ اللهُ مِنْ رِزْقٍ جَعَلُوهُ فِي الْحَيَوَانِ ، يَرَوْنَ الْجِهَادَ ضِرَارًا ، وَالصَّدَقَةَ مَغْرَمًا .
4493 \ 2 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنِي الْمُقْرِئُ ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ هَانِئٍ ، حَدَّثَنِي شُفَيٌّ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَوْلَهُ بِهَذَا .
قُلْتُ : وَهَذَا أَصَحُّ .
ترجمہ
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”لوگوں پر یقیناً ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ ان کے دلوں کی کیفیت عجمیوں کے دلوں جیسی ہو جائے گی۔“ دریافت کیا گیا کہ عجمیوں کے دلوں سے کیا مراد ہے؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”(مراد) دنیا کی حد سے بڑھی ہوئی محبت ہے۔ ان کا رہن سہن اور طور طریقہ دیہاتیوں جیسا ہوگا، اللہ تعالیٰ انہیں جو بھی مال و متاع اور رزق عطا فرمائے گا، وہ اسے محض چوپایوں (کی پرورش اور کثرت) میں ہی لگا دیں گے، وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کو سراسر نقصان اور زکوٰۃ و صدقہ دینے کو ایک جبری تاوان اور بوجھ تصور کریں گے۔“
نیز امام حارث نے اپنی سند سے سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے اسے ان کے اپنے قول (موقوفاً) کے طور پر بھی اسی طرح نقل کیا ہے، اور میں کہتا ہوں کہ یہ (موقوف ہونا) زیادہ صحیح ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4493
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف »
«أخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 4493 / 2، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 14666»
وَقَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُطَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَرْجِعَ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي إِلَى أَوْثَانٍ كَانُوا يَعْبُدُونَهَا مِنْ دُونِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ .
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”قیامت اس وقت تک برپا نہیں ہوگی جب تک کہ میری امت کے کچھ لوگ دوبارہ ان بتوں کی پوجا کی طرف نہ لوٹ جائیں جن کی وہ اللہ عزوجل کے سوا پرستش کیا کرتے تھے۔“
اس حدیث کو امام ابوداؤد طیاسی نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں موسیٰ بن مطیر نامی راوی متروک اور ضعیف ہے، تاہم اس مضمون کی دیگر صحیح احادیث موجود ہیں جن سے یہ مفہوم ثابت ہوتا ہے کہ قربِ قیامت میں کچھ لوگ شرک کی طرف مائل ہو جائیں گے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4494
درجۂ حدیث محدثین: إسناده موضوع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده موضوع »
«أخرجه فتح الباري برقم: 6704، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 7576/1»
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ الْكَلْبِيِّ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَعْبُدَ الْعَرَبُ مَا كَانَتْ تَعْبُدُ آبَاؤُهَا مِائَةً وَخَمْسِينَ عَامًا .
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”قیامت اس وقت تک برپا نہیں ہوگی جب تک کہ اہل عرب دوبارہ ان (باطل معبودوں) کی پرستش نہ کرنے لگیں جن کی پوجا ان کے آبا و اجداد (زمانہ جاہلیت میں) ایک سو پچاس برس تک کرتے رہے تھے۔“
اس روایت کی سند سخت ضعیف اور ناقابلِ اعتبار ہے؛ کیونکہ اس میں داؤد بن المُحَبَّر اور محمد بن السائب الکلبی جیسے راوی موجود ہیں جو محدثین کے نزدیک سخت مجروح اور متروک الحدیث قرار دیے گئے ہیں۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4495
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»
وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنِ الْمُطَّلِبِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا إِمَامَكُمْ ، وَتَجْتَلِدُوا بِأَسْيَافِكُمْ ، وَيَرِثَ دُنْيَاكُمْ شِرَارُكُمْ .
ترجمہ
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”قیامت اس وقت تک برپا نہیں ہوگی جب تک کہ تم اپنے پیشوا و حکمران سے برسرِ پیکار نہ ہو جاؤ، اور اپنی تلواروں کے ساتھ ایک دوسرے کو مارنے نہ لگو، اور تمہاری دنیا و اقتدار کے وارث تم میں سے بدترین اور شریر لوگ نہ بن جائیں۔“
اس حدیث کو امام ترمذی نے حسن قرار دیا ہے، اور امام احمد نے بھی اسے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، جبکہ یہ روایت مسندِ ابی داؤد الطیالسی اور المطالب العالیہ میں بھی موجود ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4496
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف »
«أخرجه سنن الترمذي برقم: 2170، وأخرجه سنن ابن ماجه برقم: 4043، وأخرجه مسند أحمد برقم: 22791، وأخرجه شرح السنة برقم: 4154، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 7577»
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُصَيْنَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيَّ ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ الْبُرْجُمِيِّ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ دَارِهِ وَالْإِمَامُ رَاكِعٌ ، فَرَكَعْنَا ، ثُمَّ مَشَيْنَا حَتَّى اتَّصَلْنَا بِالصَّفِّ ، فَمَرَّ رَجُلٌ ، فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَقَالَ : اللهُ أَكْبَرُ ، صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ ، فَلَمَّا قَضَيْنَا الصَّلَاةَ ، قُلْنَا : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، كَأَنَّهُ رَاعَكَ تَسْلِيمُ الرَّجُلِ ، قَالَ : أَجَلْ ، كَانَ يُقَالُ : إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُتَّخَذَ الْمَسَاجِدُ طُرُقًا ، وَأَنْ يُسَلِّمَ الرَّجُلُ عَلَى الرَّجُلِ بِالْمَعْرِفَةِ ، وَأَنْ تَتَّجِرَ الْمَرْأَةُ وَالرَّجُلُ جَمِيعًا ، وَأَنْ تَغْلُوَ النِّسَاءُ وَالْخَيْلُ جَمِيعًا ، ثُمَّ تَرْخُصُ ، فَلَا تَغْلُو أَبَدًا .
4497 \ 2 - أَخْبَرَنَا النَّضْرُ : أَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، مِثْلَهُ .
4497 \ 3 - وَقَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، نَحْوَهُ .
4497 \ 4 - وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، ثَنَا حُصَيْنٌ ، نَحْوَهُ .
4497 \ 5 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَيْنِي وَبَيْنَ مَسْرُوقٍ ، فَمَرَّ أَعْرَابِيٌّ ، فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ ، فَضَحِكَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسُئِلَ ، قَالَ : فَذَكَرَهُ نَحْوَهُ .
4497 \ 6 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْخَطَّابِ ، ثَنَا مُؤَمَّلٌ ، ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، نَحْوَهُ .
وَرَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ حَدِيثِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، بِمَعْنَاهُ مُخْتَصَرًا ، وَمِنْ طَرِيقِ طَارِقٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمَعْنَاهُ أَيْضًا .
ترجمہ
سیدنا خارجہ بن صلت البرجمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ان کے گھر سے نکلے، (جب ہم مسجد پہنچے) تو امام رکوع کی حالت میں تھا، ہم نے بھی رکوع کیا اور (اسی حالت میں) چلتے ہوئے صف سے جا ملے، اسی دوران ایک شخص پاس سے گزرا اور اس نے کہا: ”السلام علیک یا ابا عبدالرحمن“ (اے ابو عبدالرحمن! آپ پر سلامتی ہو)۔ اس پر ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «اللهُ أَكْبَرُ ، صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا“۔ جب ہم نماز مکمل کر چکے تو ہم نے عرض کیا: ”اے ابو عبدالرحمن! ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس شخص کے سلام نے آپ کو چونکا دیا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”ہاں، دراصل یہ کہا جاتا تھا کہ بے شک قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ مساجد کو (عبادت گاہ کے بجائے) گزرگاہوں کے طور پر اختیار کیا جائے گا، اور یہ کہ ایک آدمی دوسرے کو صرف جان پہچان کی بنیاد پر سلام کرے گا، اور یہ کہ مرد اور عورت دونوں مل کر تجارت کریں گے، اور یہ کہ عورتیں (مہر کے لحاظ سے) اور گھوڑے (قیمت کے لحاظ سے) بہت مہنگے ہو جائیں گے، پھر وہ اتنے سستے ہوں گے کہ دوبارہ کبھی مہنگے نہیں ہوں گے“۔
اسے نضر نے شعبہ سے، انہوں نے حصین سے اسی سند کے ساتھ اسی کی مانند روایت کیا ہے۔
امام طیالسی نے شعبہ سے، انہوں نے حصین سے اس کی مثل نقل کیا ہے۔
احمد بن منیع نے ہشیم سے، انہوں نے حصین سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
حارث نے داؤد سے، انہوں نے حماد بن سلمہ سے، انہوں نے ابوحمزہ سے، انہوں نے ابراہیم سے اور انہوں نے علقمہ سے روایت کیا کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ میرے اور مسروق کے درمیان (چل رہے) تھے کہ ایک دیہاتی گزرا اور اس نے کہا: ”السلام علیک یا ابن ام عبد“ (اے ابنِ امِ عبد! آپ پر سلامتی ہو)۔ اس پر ابن مسعود رضی اللہ عنہ مسکرا دیے، جب ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔
ابویعلیٰ نے محمد بن خطاب سے، انہوں نے مؤمل سے، انہوں نے سفیان سے اور انہوں نے حصین سے اس کی مانند روایت کی ہے۔
امام احمد نے اسے اسود بن یزید کے واسطے سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ان کے الفاظ میں مختصراً، اور طارق کے واسطے سے بھی ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے انہی معنوں میں روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4497
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف »
«أخرجه صحيح ابن خزيمة برقم: 1326، وأخرجه المستدرك للحاكم برقم: 7135، وأخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 3379، وأخرجه مسند أحمد برقم: 3738، وأخرجه مسند الطيالسي برقم: 393، وأخرجه مسند البزار برقم: 1459، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 4497 / 2، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 1678، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 3439، وأخرجه شرح مشكل الآثار للطحاوي برقم: 1591، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 9485»
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، ثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : مَا وَعَدَنَا اللهُ وَرَسُولُهُ قَدْ رَأَيْنَا غَيْرَ أَرْبَعٍ : طُلُوعِ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا ، وَدَابَّةِ الْأَرْضِ ، وَالدَّجَّالِ ، وَخُرُوجِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ .
فِيهِ انْقِطَاعٌ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے ہم سے جس (فتح و نصرت اور مستقبل کے واقعات) کا وعدہ فرمایا تھا، وہ سب ہم دیکھ چکے ہیں سوائے چار بڑی نشانیوں کے: سورج کا اپنے مغرب (غروب ہونے کی سمت) سے طلوع ہونا، دابۃ الارض (زمین سے نکلنے والے خاص جانور) کا ظہور، دجال کا فتنہ، اور یاجوج و ماجوج کا خروج۔“
اس روایت کی سند میں انقطاع (راویوں کے درمیان کڑی کا ٹوٹنا) پایا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4498
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف، منقطع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف منقطع »
«أخرجه المستدرك للحاكم برقم: 3901، وأخرجه سنن سعيد بن منصور برقم: 939، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 38438، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 9019»
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، ثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : النُّجُومُ أَمَانٌ لِأَهْلِ السَّمَاءِ ، وَأَهْلُ بَيْتِي أَمَانٌ لِأُمَّتِي .
هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ .
ترجمہ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس طرح ستارے آسمان والوں کے لیے ذریعہ امن و سلامتی ہیں، اسی طرح میرے اہل بیت میری امت کے لیے باعثِ حفاظت اور امن و امان ہیں۔“
اس حدیث کی سند ضعیف ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4499
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ . »
«أخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 6260، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 15024، 15025، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 6727»
أَخْبَرَنَا الْمُلَائِيُّ ، ثَنَا الْوَلِيدُ وَهُوَ ابْنُ جُمَيْعٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْجَهْمِ الْقُرَشِيُّ ، قَالَ : أَقْبَلْتُ أَنَا وَزَيْدُ بْنُ الْحَسَنِ وَابْنُ رُمَّانَةَ مَوْلَى عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مَرْوَانَ قَدْ نَصَبْنَا لَهُ أَيْدِيَنَا وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَيْنَا ، فَدَخَلْنَا مَسْجِدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِيهِ ابْنُ نِيَارٍ ، رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنِ ائْتِنِي ، فَأَتَاهُ ، فَقَالَ : رَأَيْتُكُمَا ، وَابْنُ رُمَّانَةَ بَيْنَكُمَا مُتَّكِئٌ عَلَيْكَ وَعَلَى زَيْدِ بْنِ الْحَسَنِ ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَكُونَ الدُّنْيَا عِنْدَ لُكَعِ بْنِ لُكَعٍ .
ترجمہ
ابوبکر بن ابی الجہم القرشی بیان کرتے ہیں کہ میں، زید بن الحسن اور عبدالعزیز بن مروان کے آزاد کردہ غلام ابن رمانہ اکٹھے آ رہے تھے، ہم نے ابن رمانہ کو سہارا دینے کے لیے اپنے ہاتھ اور بازو پھیلا رکھے تھے اور وہ ہم پر ٹیک لگائے ہوئے چل رہا تھا، جب ہم رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں داخل ہوئے تو وہاں نبی کریم ﷺ کے جلیل القدر صحابی سیدنا ابن نیار رضی اللہ عنہ موجود تھے، انہوں نے ابوبکر (راوی) کی طرف پیغام بھیجا کہ میرے پاس آؤ، پس جب وہ ان کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا: ”میں نے تم دونوں کو دیکھا کہ ابن رمانہ تمہارے درمیان تم پر اور زید بن الحسن پر سہارا لیے ہوئے (بڑے فخر سے) چل رہا تھا، حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ دنیا کی زمامِ اقتدار کسی ذلیل و خوار شخص کے ذلیل و خوار بیٹے (یعنی انتہائی نااہل اور کم ظرف شخص) کے ہاتھ میں نہ چلی جائے۔““
امام حاکم نے اس حدیث کو روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے مگر انہوں نے اسے نقل نہیں کیا، نیز علامہ ذہبی نے بھی تلخیص میں اس کی تائید و موافقت کی ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4500
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح »
«أخرجه مسند أحمد برقم: 15410، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 7490»
وَقَالَ الْحُمَيْدِيُّ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيَّ ، يُحَدِّثُ عَنْ بُقَيْرَةَ امْرَأَةِ الْقَعْقَاعِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ : يَا هَؤُلَاءِ ، إِذَا سَمِعْتُمْ بِجَيْشٍ قَدْ خُسِفَ بِهِ قَرِيبًا ، فَقَدْ أَظَلَّتِ السَّاعَةُ .
ترجمہ
سیدہ بقیرہ رضی اللہ عنہا (جو سیدنا قعقاع بن ابی حدرد اسلمی رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ہیں) سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر تشریف فرما ہو کر یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”اے لوگو! جب تم یہ خبر سنو کہ قریب ہی کسی لشکر کو زمین میں دھنسا دیا گیا ہے، تو (سمجھ لو کہ) یقیناً قیامت کا وقت سر پر آ پہنچا ہے (یا اس نے اپنا سایہ تم پر ڈال دیا ہے)۔“
تخریج: یہ حدیث مسند الحمیدی (4501) اور مسند احمد (27103) میں موجود ہے، علامہ ہیثمی نے مجمع الزوائد میں اس کے رجال کو ثقہ قرار دیا ہے اور اس کی سند حسن درجے کی ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4501
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح »
«أخرجه مسند أحمد برقم: 26588، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 7550»
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَيَأْتِيَنَّ عَلَى هَذِهِ الْأُمَّةِ يَوْمٌ يُمْسُونَ فِيهِ ، يَتَسَاءَلُونَ : بِمَنْ خُسِفَ اللَّيْلَةَ ؟ كَمَا يَتَسَاءَلُونَ : مَنْ بَقِيَ مِنْ آلِ فُلَانٍ ؟ وَمَنْ بَقِيَ مِنْ آلِ فُلَانٍ ؟ .
ترجمہ
سیدنا ابو زید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اس امت پر یقیناً ایک ایسا وقت آئے گا کہ جب لوگ شام کریں گے تو ایک دوسرے سے (بڑے پیمانے پر آنے والے ارضی عذابات کے سبب) یہ پوچھ رہے ہوں گے کہ آج رات زمین میں دھنسنے کا واقعہ کس کے ساتھ پیش آیا ہے؟ یعنی زمین کسے نگل گئی ہے؟ بالکل اسی طرح جیسے وہ (آج کل معمول کے حالات میں) یہ سوال کرتے ہیں کہ فلاں کے خاندان میں سے اب کون باقی رہ گیا ہے؟ اور فلاں کے کنبے میں سے اب کون زندہ سلامت بچا ہے؟“
اس حدیث کو امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند (بغیة الباحث) میں روایت کیا ہے، تاہم اس کی سند سخت ضعیف ہے کیونکہ اس کے راوی داود بن المحبر اور ابان بن ابی عیاش دونوں محدثین کے نزدیک متروک اور غیر مستند قرار دیے گئے ہیں۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4502
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»
قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ شَيْخٍ حَدَّثَهُ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَكُونُ خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ ، قِيلَ : الْخَسْفُ بِأَرْضٍ فِيهَا الْمُسْلِمُونَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، إِذَا كَانَ أَكْثَرُ عَمَلِهِمُ الْخَبَثَ .
ترجمہ
یحییٰ بن سعید ایک بزرگ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”عنقریب مشرق میں زمین دھنسنے (خسف) کا واقعہ رونما ہوگا۔“ عرض کیا گیا: کیا زمین کا دھنسنا اس سرزمین پر ہوگا جہاں مسلمان بھی مقیم ہوں گے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں، ایسا اس وقت ہوگا جب ان کے اعمال میں خباثت (فسق و فجور اور برائی) کا غلبہ ہو جائے گا۔“
اس حدیث کی سند ضعیف ہے؛ اس کے راوی داؤد بن المحبر کو ائمہ جرح و تعدیل نے متروک قرار دیا ہے، نیز اس کی سند میں یحییٰ بن سعید سے روایت کرنے والے بزرگ بھی مبہم (نامعلوم) ہیں۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4503
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا »
«أخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 1862، وأخرجه المعجم الصغير للطبراني برقم: 94، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 12148، وأخرجه الأحاديث المختارة برقم: 2731»
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، ثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَسَافَدُوا فِي الطَّرِيقِ تَسَافُدَ الْحَمِيرِ ، قُلْتُ : إِنَّ ذَلِكَ لَكَائِنٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، لَيَكُونَنَّ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”قیامت اس وقت تک برپا نہیں ہوگی جب تک کہ تم (بدکاری کے معاملے میں) راستوں پر اس طرح ایک دوسرے پر نہیں چڑھ دوڑو گے (یعنی اعلانیہ بدکاری کرو گے) جیسے گدھے ایک دوسرے پر چڑھتے ہیں۔“ میں نے عرض کیا: کیا واقعی ایسا ہونے والا ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں، یہ ضرور ہو کر رہے گا۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے روایت کیا ہے، اس کے راوی ثقہ ہیں اور علامہ البانی نے اس مفہوم کی روایات کو صحیح قرار دیا ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4504
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح »
«أخرجه صحيح ابن حبان برقم: 6767، وأخرجه مسند البزار برقم: 2354، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 38432، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 14180»
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي صَخْرٍ ، قَالَ : إِنَّ سَعِيدً الْمَقْبُرِيَّ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ، لَيَنْزِلَنَّ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
وَفِيهِ : وَلَيُصْلِحَنَّ ذَاتَ الْبَيْنِ ، وَلَيُذْهِبَنَّ الشَّحْنَاءَ ، وَلَيُقْرِضَنَّ الْمَالَ ، ثُمَّ لَئِنْ قَامَ عَلَى قَبْرِي ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ لَأُجِيبَنَّهُ .
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں ابوالقاسم (ﷺ) کی جان ہے! عیسیٰ ابن مریم علیہ الصلاة والسلام (زمین پر) ضرور نازل ہوں گے...“ (پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی) جس میں یہ الفاظ بھی ہیں: ”اور وہ لوگوں کے باہمی تعلقات کی ضرور اصلاح کریں گے، دلوں سے بغض، کینہ اور دشمنی کو نکال دیں گے اور مال (تقسیم کے لیے) پیش کریں گے، پھر اگر وہ میری قبر پر کھڑے ہو کر مجھے پکاریں گے: «يَا مُحَمَّدُ» ”اے محمد (ﷺ)!“ تو میں انہیں ضرور جواب دوں گا۔“
اس حدیث کو امام ابویعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کے راوی ابوصخر حمید بن زیاد صدوق ہیں اور اس کی سند جید ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4505
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح »
«أخرجه صحيح مسلم برقم: 155، وأخرجه سنن ابن ماجه برقم: 4078، وأخرجه مسند أحمد برقم: 9891، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 20840، 20844، وأخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 4218، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 1364، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 12568، 13812، 13813، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 6529/1»
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ ، ثَنَا رَيْحَانُ بْنُ سَعِيدٍ ، ثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَيُدْرِكَنَّ رِجَالٌ مِنْ أُمَّتِي عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ ، وَلَيَشْهَدُنَّ قِتَالَ الدَّجَّالِ .
ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میری امت کے کچھ لوگ یقیناً عیسیٰ ابن مریم علیہ الصلاۃ والسلام کا زمانہ ضرور پائیں گے اور وہ دجال کے خلاف ہونے والی جنگ میں بھی لازماً شرکت کریں گے۔“
یہ روایت امام حاکم نے المستدرک علی الصحیحین (رقم: 4506) میں نقل کی ہے، امام حاکم نے اسے شیخین کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے، البتہ امام ذہبی نے اس کے راوی عباد بن منصور کے ضعف کی وجہ سے اس پر تعقب کیا ہے، تاہم دیگر صحیح روایات سے عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور دجال سے قتال کا مضمون ثابت ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4506
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 12546»
وَقَالَ مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى رَاوِي مُسْنَدِ مُسَدَّدٍ فِيمَا زَادَ فِيهِ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَرَّانِيُّ ، ثَنَا مُنْتَصِرُ بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ قَالَ : وَجَّهَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَضْلَةَ بْنَ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي ثَلَاثِمِائَةٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ ، فَأَغَارُوا عَلَى حُلْوَانَ فَافْتَتَحَهَا ، فَأَصَابَ غَنَائِمَ كَثِيرَةً وَسَبْيًا كَثِيرًا ، فَجَاؤُوا يَسُوقُونَ مَا مَعَهُمْ وَهُمْ بَيْنَ جَبَلَيْنِ ، حَتَّى أَرْهَقَتْهُمُ الْعَصْرُ ، فَقَالَ لَهُمْ نَضْلَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : اصْرِفُوا إِلَى سَفْحِ الْجَبَلِ ، فَفَعَلُوا ، ثُمَّ قَامَ نَضْلَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَنَادَى بِالْأَذَانِ فَقَالَ : اللهُ أَكْبَرُ ، اللهُ أَكْبَرُ . فَأَجَابَهُ صَوْتٌ مِنَ الْجَبَلِ لَا يُرَى مَعَهُ صُورَةٌ ، كَبَّرْتَ كَبِيرًا يَا نَضْلَةُ ، قَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، قَالَ : أَخْلَصْتَ يَا نَضْلَةُ إِخْلَاصًا ، قَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ ، قَالَ : نَبِيٌّ بُعِثَ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ ، قَالَ : حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ . قَالَ : فَرِيضَةٌ فُرِضَتْ ، قَالَ : حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ ، قَالَ : أَفْلَحَ مَنْ أَتَاهَا وَوَاظَبَ عَلَيْهَا ، قَالَ : قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ ، قَالَ : الْبَقَاءُ لِأُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعَلَى رُؤُوسِهَا تَقُومُ السَّاعَةُ ، فَلَمَّا صَلَّوْا ، قَامَ نَضْلَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : أَيُّهَا الْكَلَامُ الْحَسَنُ الطَّيِّبُ الْجَمِيلُ قَدْ سَمِعْنَا كَلَامًا حَسَنًا ، أَفَمِنْ مَلَائِكَةِ اللهِ أَنْتَ ، أَمْ طَائِفٌ ، أَمْ سَاكِنٌ ؟ ابْرُزْ لَنَا فَكَلِّمْنَا ، فَإِنَّا وَفْدُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَوَفْدُ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَبَرَزَ لَهُ شَيْخٌ مِنْ شِعْبٍ مِنْ تِلْكَ الشِّعَابِ أَبْيَضُ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ ، لَهُ هَامَةٌ كَأَنَّهَا رَحًى ، طَوِيلُ اللِّحْيَةِ فِي طِمْرَيْنِ مِنْ صُوفٍ أَبْيَضَ ، فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ ، فَرَدُّوا عَلَيْهِ السَّلَامَ ، فَقَالَ لَهُ نَضْلَةُ : مَنْ أَنْتَ يَرْحَمُكَ اللهُ ؟ قَالَ : أَنَا زَرْنَبُ بْنُ ثَرْمَلَا وَصِيُّ الْعَبْدِ الصَّالِحِ عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ ، دَعَا لِي بِالْبَقَاءِ إِلَى نُزُولِهِ مِنَ السَّمَاءِ ، فَقَرَارِي فِي هَذَا الْجَبَلِ ، فَاقْرَأْ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ السَّلَامَ ، وَقُلْ لَهُ : اثْبُتْ وَسَدِّدْ وَقَارِبْ ، فَإِنَّ الْأَمْرَ قَدِ اقْتَرَبَ وَإِيَّاكَ يَا عُمَرُ إِنْ ظَهَرَتْ خِصَالٌ فِي أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْتَ فِيهِمْ ، فَالْهَرَبَ الْهَرَبَ ، فَقَالَ نَضْلَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : يَا زَرْنَبُ ! رَحِمَكَ اللهُ ، أَخْبِرْنَا بِهَذِهِ الْخِصَالِ نَعْرِفْ بِهَا ذَهَابَ دُنْيَانَا وَإِقْبَالَ آخِرَتِنَا ، قَالَ : إِذَا اسْتَغْنَى رِجَالُكُمْ بِرِجَالِكُمْ ، وَنِسَاؤُكُمْ بِنِسَائِكُمْ ، وَكَثُرَ طَعَامُكُمْ فَلَمْ يَزْدَدْ سِعْرُكُمْ بِذَلِكَ إِلَّا غَلَاءً ، وَكَانَتْ خِلَافَتُكُمْ فِي صِبْيَانِكُمْ ، وَكَانَ خُطَبَاءُ مَنَابِرِكُمْ عَبِيدَكُمْ ، وَرَكَنَ فُقَهَاؤُكُمْ إِلَى وُلَاتِكُمْ ، فَأَحَلُّوا لَهُمُ الْحَرَامَ ، وَحَرَّمُوا عَلَيْهِمُ الْحَلَالَ ، وَأَفْتَوْهُمْ بِمَا يَشْتَهُونَ ، وَاتَّخَذُوا الْقُرْآنَ أَلْحَانًا وَمَزَامِيرَ بِأَصْوَاتِهِمْ ، وَزَوَّقْتُمْ مَسَاجِدَكُمْ وَأَطَلْتُمْ مَنَابِرَكُمْ ، وَحَلَّيْتُمْ مَصَاحِفَكُمْ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ ، وَرَكِبَتْ نِسَاؤُكُمُ السُّرُوجَ ، وَكَانَ مُسْتَشَارُ أَمِيرِكُمْ خِصْيَانَكُمْ ، وَقُتِلَ الْبَرِيءُ لِتُوعَظَ بِهِ الْعَامَّةُ ، وَبَقِيَ الْمَطَرُ قَيْظًا ، وَالْوَلَدُ غَيْظًا ، وَحُرِمْتُمُ الْعَطَاءَ ، وَأَخَذَهُ الْعَبِيدُ وَالسُّقَّاطُ ، وَقَلَّتِ الصَّدَقَةُ حَتَّى يَطُوفَ الْمِسْكِينُ مِنْ حَوْلٍ إِلَى حَوْلٍ لَا يُعْطَى عَشَرَةَ دَرَاهِمَ ، فَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ نَزَلَ بِكُمُ الْخِزْيُ وَالْبَلَاءُ ، ثُمَّ ذَهَبَتِ الصُّورَةُ فَلَمْ تُرَ ، فَنَادَوْا فَلَمْ يُجَابُوا ، فَلَمَّا قَدِمَ نَضْلَةُ عَلَى سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ بِمَا أَفَاءَ اللهُ عَلَيْهِ ، وَبِمَا كَانَ مِنْ شَأْنِ زَرْنَبٍ ، فَكَتَبَ سَعْدٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُخْبِرُهُ ، فَكَتَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : لِلهِ أَبُوكَ سَعْدُ ! ارْكَبْ بِنَفْسِكَ حَتَّى تَأْتِيَ الْجَبَلَ ، فَرَكِبَ سَعْدٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَتَّى أَتَى الْجَبَلَ ، فَنَادَى أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَلَمْ يُجَابُوا ، فَكَتَبَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَانْصَرَفُوا .
هَذَا مَوْقُوفٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، مَا رَأَيْتُ بِطُولِهِ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ .
4507 \ 2 - وَقَدْ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الرَّاسِيُّ عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَذَكَرَهُ ، وَلَيْسَ بِطُولِهِ ، وَسَمَّى الْأَمِيرَ نَضْلَةَ بْنَ مُعَاوِيَةَ ، أَخْرَجَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ فِي غَرَائِبِ مَالِكٍ مِنْ طَرِيقِهِ .
وَوَقَعَ لَنَا بِإِسْنَادٍ آخَرَ فَسَمَّى جَعْوَنَةَ بْنَ نَضْلَةَ ، وَاللهُ أَعْلَمُ ، وَقَدْ شَرَحْتُ أَمْرَهُ فِي تَرْجَمَةِ جَعْوَنَةَ فِي حَرْفِ الْجِيمِ مِنْ كِتَابِي فِي الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ .
ترجمہ
عبداللہ بن ابی الہذیل رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے سیدنا نضلہ بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ کو مہاجرین و انصار کے تین سو افراد کے ہمراہ ایک مہم پر روانہ کیا، انہوں نے حلوان پر حملہ کر کے اسے فتح کر لیا اور کثیر مالِ غنیمت اور قیدی حاصل کیے؛ وہ یہ سب لے کر چلے آ رہے تھے کہ دو پہاڑوں کے درمیان انہیں عصر کا وقت ہو گیا، تو سیدنا نضلہ رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: ”پہاڑ کے دامن کی طرف مڑ جاؤ“، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، پھر سیدنا نضلہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور اذان دی، جب انہوں نے ”اللہ اکبر، اللہ اکبر“ کہا، تو پہاڑ سے ایک غیبی آواز آئی جس کی صورت دکھائی نہیں دے رہی تھی: ”اے نضلہ! تو نے بہت بڑی ذات کی بڑائی بیان کی ہے“، جب انہوں نے ”اشہد ان لا الہ الا اللہ“ کہا، تو آواز آئی: ”اے نضلہ! تو نے خالص ترین اخلاص کا اظہار کیا ہے“، جب انہوں نے ”اشہد ان محمد رسول اللہ“ کہا، تو آواز آئی: ”وہ ایسے نبی ہیں جو مبعوث کیے گئے اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں ہے“، جب انہوں نے ”حی علی الصلاۃ“ کہا، تو آواز آئی: ”یہ وہ فریضہ ہے جو فرض کیا گیا ہے“، جب انہوں نے ”حی علی الفلاح“ کہا، تو آواز آئی: ”وہ شخص کامیاب ہو گیا جس نے یہ نماز ادا کی اور اس پر ہمیشگی اختیار کی“، جب انہوں نے ”قد قامت الصلاۃ“ کہا، تو آواز آئی: ”امتِ محمدیہ ﷺ کے لیے باقی رہنا مقدر ہے اور اسی کے آخری لوگوں پر قیامت قائم ہوگی“؛ جب وہ نماز پڑھ چکے تو سیدنا نضلہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور پکار کر کہا: ”اے خوبصورت، پاکیزہ اور عمدہ گفتگو کرنے والے! ہم نے تیری بہت اچھی باتیں سنی ہیں، کیا تو اللہ کے فرشتوں میں سے ہے، کوئی جن ہے یا یہاں کا رہنے والا ہے؟ ہمارے سامنے ظاہر ہو کر ہم سے بات کر، کیونکہ ہم اللہ عزوجل اور اس کے نبی ﷺ کے وفد ہیں“؛ راوی کہتے ہیں کہ تب ان پہاڑی گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی سے ایک بوڑھا شخص ظاہر ہوا جس کے سر اور داڑھی کے بال سفید تھے، اس کا سر چکی کے پاٹ کی طرح بڑا تھا، داڑھی لمبی تھی اور وہ سفید اون کی دو پرانی چادریں اوڑھے ہوئے تھا، اس نے آ کر کہا: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ» ”تم پر اللہ کی سلامتی اور اس کی رحمت ہو“، لوگوں نے سلام کا جواب دیا، پھر سیدنا نضلہ رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: «يَرْحَمُكَ اللهُ» ”اللہ تم پر رحم فرمائے“، تم کون ہو؟ اس نے جواب دیا: ”میں زرنب بن ثرملہ ہوں اور اللہ کے نیک بندے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا وصی ہوں، انہوں نے میرے لیے دعا فرمائی تھی کہ میں ان کے آسمان سے نزول تک زندہ رہوں، چنانچہ میرا ٹھکانہ اسی پہاڑ میں ہے؛ تم امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو میرا سلام پہنچانا اور ان سے کہنا کہ ثابت قدم رہیں، درست فیصلہ کریں اور میانہ روی اختیار کریں، کیونکہ معاملہ بہت قریب آ چکا ہے، اور اے عمر! تم اس وقت بچ کر رہنا جب امتِ محمدیہ ﷺ میں ایسی خصلتیں ظاہر ہو جائیں جبکہ تم ان میں موجود ہو، پس اس وقت بھاگنا، بھاگنا (یعنی فتنوں سے دور رہنا)“؛ سیدنا نضلہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: «يَا زَرْنَبُ رَحِمَكَ اللهُ» ”اے زرنب! اللہ تم پر رحم فرمائے“، ہمیں ان خصلتوں کے بارے میں بتائیں تاکہ ہم ان سے اپنی دنیا کے ختم ہونے اور آخرت کے قریب آنے کو پہچان سکیں؛ اس نے کہا: ”وہ علامات یہ ہیں: جب تمہارے مرد، مردوں سے اور عورتیں، عورتوں سے اپنی ضرورت پوری کرنے لگیں، تمہارے پاس غلہ بہت زیادہ ہو جائے مگر اس کے باوجود قیمتیں صرف مہنگی ہی ہوں، تمہاری حکمرانی بچوں کے ہاتھ میں چلی جائے، تمہارے منبروں کے خطیب تمہارے غلام ہوں، تمہارے فقہا تمہارے حکمرانوں کی طرف مائل ہو جائیں، وہ ان کے لیے حرام کو حلال اور حلال کو حرام قرار دیں اور ان کی خواہشات کے مطابق فتوے دیں، لوگ قرآن کو نغمہ سرائی اور راگ کے طور پر اپنی آوازوں میں پڑھیں، تم اپنی مسجدوں کو نقش و نگار سے سجا دو اور اپنے منبروں کو بہت بلند کر لو، تم قرآن کے نسخوں کو سونے اور چاندی سے مزین کرنے لگو، تمہاری عورتیں زینوں پر سواری کرنے لگیں، تمہارے امیروں کے مشیر خواجہ سرا ہوں، کسی بے گناہ کو اس لیے قتل کر دیا جائے کہ اس کے ذریعے عام لوگوں کو عبرت دلائی جا سکے، بارش گرمی کا سبب بن جائے اور اولاد غصے و رنج کا باعث بن جائے، تم سے عطیات روک لیے جائیں اور انہیں غلام اور گھٹیا لوگ حاصل کرنے لگیں، زکوٰۃ و صدقات اس قدر کم ہو جائیں کہ مسکین سال بھر چکر لگاتا رہے اور اسے دس درہم تک نہ ملیں؛ پس جب ایسا ہونے لگے تو تم پر رسوائی اور بلا نازل ہو جائے گی“؛ پھر وہ شخصیت غائب ہو گئی اور نظر نہ آئی، لوگوں نے انہیں پکارا مگر کوئی جواب نہ ملا؛ جب سیدنا نضلہ رضی اللہ عنہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو انہیں مالِ غنیمت اور زرنب کے واقعے کی خبر دی، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر مطلع کیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جواباً لکھا: ”اے سعد! آفرین ہے تم پر! تم خود سوار ہو کر اس پہاڑ تک جاؤ“؛ چنانچہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ وہاں گئے اور چالیس صبح تک آوازیں دیں مگر کوئی جواب نہ ملا، پھر انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع لکھ بھیجی اور وہ واپس آ گئے
یہ روایت اس سند کے ساتھ موقوف اور غریب ہے، میں نے اس کی طوالت صرف اسی سند کے ساتھ دیکھی ہے
اسے عبدالرحمن بن ابراہیم راسی نے امام مالک سے، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی روایت کیا ہے، انہوں نے بھی اس واقعے کا تذکرہ کیا ہے مگر وہ اس قدر طویل نہیں ہے، اور اس میں امیر کا نام نضلہ بن معاویہ بتایا گیا ہے، امام دارقطنی نے اسے غرائبِ مالک میں اپنی سند سے روایت کیا ہے
ہمیں یہ ایک اور سند سے بھی موصول ہوئی ہے جس میں نام جعونہ بن نضلہ ذکر کیا گیا ہے، واللہ اعلم، اور میں نے اس کے معاملے کی وضاحت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے متعلق اپنی کتاب کے حرفِ جیم میں جعونہ کے سوانح میں کر دی ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4507
درجۂ حدیث محدثین: إسناده موقوف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: هَذَا مَوْقُوفٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، مَا رَأَيْتُ بِطُولِهِ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ . »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي جَبِيرَةَ ، عَنْ مَشْيَخَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ ، أَنَّهُمْ سَمِعُوهُ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : بُعِثْتُ فِي نَسَمِ السَّاعَةِ ، قَالَ سُفْيَانُ : يَعْنِي نَفَسَ السَّاعَةِ .
ترجمہ
انصار کے چند بزرگ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”میں قیامت کی بالکل ابتدائی ہواؤں (یعنی اس کے انتہائی قرب) کے زمانے میں مبعوث کیا گیا ہوں“، امام سفیان رحمہ اللہ نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: ”اس سے مراد قیامت کی سانسیں (یعنی اس کا ظہور اور قرب) ہے“۔
اس حدیث کو ابن ابی عمر نے روایت کیا ہے، اس کی سند میں انصار کے صحابہ کرام شامل ہیں اور یہ روایت فصاحت کے ساتھ قربِ قیامت کی نشاندہی کرتی ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4508
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف، مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف مرسل »
«أخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 4509، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 972»
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ شِبْلِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي جَبِيرَةَ ، عَنْ بَعْضِ أَشْيَاخِ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ ، قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ ، فَسَبَقْتُهَا فِي نَفَسِ السَّاعَةِ .
ترجمہ
انصار کے بعض بزرگ صحابہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں اور قیامت (وقوع کے اعتبار سے ایک دوسرے کے اتنے قریب) مبعوث کیے گئے ہیں جیسے یہ دو انگلیاں (شہادت اور وسطیٰ) ہوتی ہیں، چنانچہ میں قیامت سے بس اس کی ایک سانس جتنا (یعنی وقت کے انتہائی قلیل اور معمولی سے فاصلے پر) پہلے مبعوث ہوا ہوں۔“
اس حدیث کے متن کی اصل صحیحین میں موجود ہے اور یہ آپ ﷺ کے خاتم النبیین ہونے اور قربِ قیامت پر دلالت کرتی ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4509
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح »
«أخرجه سنن النسائي برقم: 1578، وأخرجه سنن أبي داود برقم: 2956، 3343، وأخرجه سنن ابن ماجه برقم: 45، وأخرجه مسند أحمد برقم: 13924، 14022، 14219، 14566، وأخرجه سنن الدارمي برقم: 206، وأخرجه فتح الباري برقم: 885، 2176، 5747، 6350، 6849، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 15257، 15262، وأخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 8641، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 9414، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 790، 5941، وأخرجه صحيح ابن حبان برقم: 3062، وأخرجه السنن الكبرى للنسائي برقم: 1974، 6133، وأخرجه الأوسط في السنن والإجماع والاختلاف برقم: 1788، وأخرجه الأموال لابن زنجويه برقم: 782»
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ ، ثَنَا هَارُونُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي الْجُلَاسِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، يَقُولُ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ سَبَأٍ السَّبَئِيِّ : وَيْلَكَ ! وَاللهِ مَا أَفْضَى إِلَيَّ بِشَيْءٍ كَتَمَهُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ ، وَاللهِ سَمِعْتُهُ يَقُولُ : إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ كَذَّابِينَ ثَلَاثِينَ ، وَإِنَّكَ أَحَدُهُمْ .
4510 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، بِهَذَا .
4510 \ 3 - وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ ، بِهِ .
ترجمہ
ابو الجلاس بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو عبداللہ بن سبأ سبئی کو (تنبیہ کرتے ہوئے) یہ فرماتے ہوئے سنا: ”تیرا ناس ہو! اللہ کی قسم، رسول اللہ ﷺ نے میرے ساتھ ایسی کوئی بات مخصوص نہیں فرمائی تھی جسے آپ ﷺ نے دیگر لوگوں سے چھپا کر رکھا ہو، اور بخدا! میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: ”قیامت کے برپا ہونے سے پہلے تیس کذاب (پرلے درجے کے جھوٹے فتنہ پرور) ظاہر ہوں گے، اور تو یقیناً انھی میں سے ایک ہے۔“ “
امام ابو یعلیٰ موصلی نے کہا کہ ہم سے ابوبکر نے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی ہے۔
اور ہمیں ابو کریب نے محمد بن حسن اسدی کے واسطے سے یہی حدیث بیان کی ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4510
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف »
«أخرجه مسند أبي يعلى برقم: 449، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 4510 / 3»
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ ، ثَنَا أَبِي عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ سَبْعُونَ كَذَّابًا .
ترجمہ
سیدنا عطاء بن السائب کے والد (سائب بن مالک ثقفی) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”قیامت اس وقت تک برپا نہیں ہوگی جب تک کہ قیامت کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے ستر کذاب (انتہائی جھوٹے فتنے باز اور مدعیانِ نبوت) ظاہر نہ ہو جائیں۔“
اس حدیث کو امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند (بغیۃ الباحث) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں علی بن عاصم نامی راوی کثیر الغلط ہونے کی بنا پر ضعیف ہیں، تاہم قیامت کی علامات کے متعلق اس مفہوم کی دیگر صحیح احادیث کتبِ صحاح میں بھی موجود ہیں جو اس کی تائید کرتی ہیں۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4511
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف، منقطع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف منقطع »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : نَا زُهَيْرٌ ، نَا جَرِيرٌ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ بِشْرٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَكُونُ قَبْلَ خُرُوجِ الدَّجَّالِ نَيِّفٌ وَسَبْعُونَ دَجَّالًا .
ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”دجال کے خروج سے پہلے ستر سے کچھ زائد دجال (کذاب اور فریب کار) نمودار ہوں گے۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے؛ اس کی سند میں لیث بن ابی سلیم راوی کے حافظے کی وجہ سے کلام کیا گیا ہے، البتہ قیامت کے قریب جھوٹے دجالوں کے ظہور کا تذکرہ دیگر صحیح احادیث میں بھی موجود ہے جو اس مفہوم کی تائید کرتی ہیں۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4512
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف »
«أخرجه مسند أبي يعلى برقم: 4055، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 38658»