کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اللہ تعالیٰ کی خاطر ، ایک دوسرے سے محبت کرنے والے افراد
عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ : أَنَّهُ جَمَعَ قَوْمَهُ - قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ : - ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، اسْمَعُوا وَاعْقِلُوا ، وَاعْلَمُوا أَنَّ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - عِبَادًا لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ ، يَغْبِطُهُمُ النَّبِيُّونَ وَالشُّهَدَاءُ عَلَى مَنَازِلِهِمْ ، وَقُرْبِهِمْ مِنَ اللَّهِ " . فَجَثَا رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَابِ مِنْ قَاصِيَةِ النَّاسِ ، وَأَلْوَى بِيَدِهِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَاسٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ ، يَغْبِطُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ وَالشُّهَدَاءُ عَلَى مَجَالِسِهِمْ وَقُرْبِهِمْ [ مِنَ اللَّهِ ] ؟ انْعَتْهُمْ لَنَا حُلَّهُمْ لَنَا - يَعْنِي صِفْهُمْ لَنَا - شَكِّلْهُمْ لَنَا ، فَسُرَّ وَجْهُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسُؤَالِ الْأَعْرَابِيِّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هُمْ نَاسٌ مِنْ أَفْنَاءِ النَّاسِ ، وَنَوَازِعِ الْقَبَائِلِ ، لَمْ تَصِلْ بَيْنَهُمْ أَرْحَامٌ مُتَقَارِبَةٌ ، تَحَابُّوا فِي اللَّهِ وَتَصَافَوْا ، يَضَعُ اللَّهُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ ، فَيُجْلِسُهُمْ عَلَيْهَا ، فَيَجْعَلُ وُجُوهَهُمْ نُورًا ، وَثِيَابَهُمْ نُورًا ، يَفْزَعُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يَفْزَعُونَ ، وَهُمْ أَوْلِيَاءُ اللَّهِ الَّذِينَ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے اپنی قوم کو جمع کیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری روایت نقل کی ہے جس میں آگے چل کر وہ یہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف رخ کیا اور ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! سن لو اور سمجھ لو ! اور یہ بات جان لو کہ اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے بندے ہیں جو نہ انبیاء ہوں گے نہ شہداء ہوں گے لیکن انبیاء اور شہداء اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اُن کی قدر و منزلت اور ان کے قرب کے حوالے سے ان پر رشک کریں گے ، ایک دیہاتی شخص جو دور بیٹھا ہوا تھا وہ گھٹنوں کے بل اُٹھا اور اس نے اپنے ہاتھ کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ کیا اور گزارش کی : یا رسول اللہ ! کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو نہ انبیاء ہوں گے اور نہ شہداء ہوں گے لیکن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان کے بیٹھنے کے مقام اور ان کے قرب کے حوالے سے انبیاء اور شہداء ان پر رشک کریں گے ، آپ ان کا حلیہ ہمارے سامنے بیان کریں ، ان کی صفت ہمارے سامنے بیان کریں ، ان کی شکل و صورت ہمارے سامنے بیان کریں ، راوی بیان کرتے ہیں : اس دیہاتی کے سوال پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مسرور ہو گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ مختلف علاقوں اور مختلف قبائل سے تعلق رکھنے والے لوگ ہوں گے ، ان کے درمیان رشتہ داری کا کوئی تعلق نہیں ہو گا ، وہ اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھیں گے اور ایک دوسرے سے تعلق رکھیں گے ، قیامت کے دن اللہ تعالی ان کے لئے نور کے منبر رکھوائے گا اور انہیں ان پر بٹھائے گا ، وہ ان کے چہروں کو نور بنا دے گا ، ان کے کپڑوں کو نور بنا دے گا ، قیامت کے دن ( دوسرے ) لوگ گھبراہٹ کا شکار ہوں گے لیکن یہ لوگ گھبراہٹ کا شکار نہیں ہوں گے اور یہ اللہ کے وہ اولیاء ہوں گے ، جن پر کوئی خوف نہیں ہو گا اور وہ غمگین نہیں ہوں گے ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17996
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (343/5)»
وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَزَلَتْ عَلَيْهِ : " يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ " قَالَ : فَنَحْنُ نَسْأَلُهُ إِذْ قَالَ : " إِنَّ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - عِبَادًا لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ ، يَغْبِطُهُمُ النَّبِيُّونَ وَالشُّهَدَاءُ بِمَقْعَدِهِمْ ، وَقُرْبِهِمْ مِنَ اللَّهِ " . قَالَ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ . رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، وَزَادَ : " عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ مِنْ لُؤْلُؤٍ قُدَّامَ الرَّحْمَنِ " . وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ( راوی بیان کرتے ہیں ) میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ، آپ پر یہ آیت نازل ہوئی : ” اے ایمان والو ! ایسی چیزوں کے بارے میں دریافت نہ کرو کہ اگر وہ تمہارے سامنے ظاہر ہو جائیں تو تمہیں بری لگیں ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرنا شروع کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے بندے ہوں گے ، جو نہ انبیاء ہوں گے اور نہ شہداء ہوں گے ، لیکن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان کے بیٹھنے کے مقام اور ان کے قرب کے حوالے سے انبیاء اور شہداء ان پر رشک کریں گے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے طویل حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ تمام روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہیں اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” وہ رحمن کے آگے موتیوں سے بنے ہوئے نور کے منبروں پر ہوں گے ۔ “ اس روایت کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17997
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3433) اخرجه احمد فى المسند (341/5)»
وَعَنْ شَهْرِ بْنِ حَوَشْبٍ قَالَ : كَانَ فِينَا رَجُلٌ - مَعْشَرَ الْأَشْعَرِيِّينَ - قَدْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَشَهِدَ مَعَهُ مَشَاهِدَهُ الْحَسَنَةَ الْجَمِيلَةَ ، يُقَالُ لَهُ : مَالِكٌ ، أَوِ ابْنُ مَالِكٍ - شَكَّ عَوْفٌ - فَأَتَانَا يَوْمًا فَقَالَ : أَتَيْتُكُمْ لِأُعَلِّمَكُمْ وَأُصَلِّيَ بِكُمْ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي بِنَا ، فَدَعَا بِحَفْنَةٍ عَظِيمَةٍ ، فَجَعَلَ فِيهَا مِنَ الْمَاءِ ، ثُمَّ دَعَانَا بِإِنَاءٍ صَغِيرٍ فَجَعَلَ يُفْرِغُ مِنَ الْإِنَاءِ الصَّغِيرِ عَلَى أَيْدِينَا ، ثُمَّ قَالَ : أَسْبِغُوا الْآنَ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى بِنَا صَلَاةً تَامَّةً وَجِيزَةً ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ أَقْوَامًا لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ ، يَغْبِطُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ وَالشُّهَدَاءُ بِمَكَانِهِمْ مِنَ اللَّهِ " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ حُجْرَةِ الْقَوْمِ أَعْرَابِيٌّ قَالَ : وَكَانَ يُعْجِبُنَا إِذَا شَهِدْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَكُونَ فِينَا الْأَعْرَابِيُّ ; لِأَنَّهُمْ يَجْتَرِئُونَ أَنْ يَسْأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَا نَجْتَرِئُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سَمِّهِمْ لَنَا ، قَالَ : فَرَأَيْنَا وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَهَلَّلُ ، ثُمَّ قَالَ : " هُمْ نَاسٌ مِنْ قَبَائِلَ شَتَّى ، يَتَحَابُّونَ فِي اللَّهِ ، [ وَاللَّهِ ] إِنَّ وُجُوهَهُمْ لَنُورٌ ، وَإِنَّهُمْ لَعَلَى نُورٍ ، لَا يَخَافُونَ إِذَا خَافَ النَّاسُ ، وَلَا يَحْزَنُونَ إِذَا حَزِنُوا " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ حَوْشَبٍ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ . ¤
محمد محی الدین
شہر بن حوشب بیان کرتے ہیں : ہمارے درمیان ، یعنی اشعر قبیلے کے لوگوں کے درمیان ایک صاحب تھے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے تھے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوات میں عمدہ طور پر حصہ لیا تھا ، ان صاحب کا نام سیدنا مالک رضی اللہ عنہ یا شاید سیدنا ابن مالک رضی اللہ عنہ تھا ۔ یہ شک عوف نامی راوی کو ہے ۔ ایک دن وہ ہمارے پاس تشریف لائے اور انہوں نے ارشاد فرمایا : ” میں تمہارے پاس اس لیے آیا ہوں تاکہ تمہیں اس بات کی تعلیم دوں اور تمہیں نماز پڑھ کے دکھاؤں ، جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھایا کرتے تھے ، پھر انہوں نے ایک بڑا برتن منگوایا اس میں پانی ڈلوایا ، پھر انہوں نے ایک چھوٹا برتن منگوایا اور چھوٹے برتن کے ذریعے ہم پر پانی ڈالنا شروع کیا اور پھر یہ فرمایا : اب تم اچھی طرح وضو کرو ، پھر وہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے ہمیں مکمل ، لیکن مختصر نماز پڑھائی ، جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو انہوں نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : ” میں کچھ ایسے لوگوں کو جانتا ہوں ، جو نہ انبیاء ہیں اور نہ شہداء ہیں ، لیکن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان کے مرتبے کے حوالے سے انبیاء اور شہداء ان پر رشک کریں گے ۔ “ حاضرین میں سے ایک شخص ، جو ایک دیہاتی تھا ، اس نے کہا: ۔ راوی کہتے ہیں : ہمیں یہ بات پسند تھی کہ جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود ہوں ، تو ہمارے درمیان کوئی دیہاتی بھی موجود ہو ، کیونکہ دیہاتی لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنے کی جرأت کر لیتے تھے ، ہم سے یہ جرأت نہیں ہوتی تھی ، اس دیہاتی نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ ان کی صفت ہمارے سامنے بیان کیجیے ، راوی بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو دیکھا کہ وہ جگمگانے لگا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ مختلف قبائل سے تعلق رکھنے والے لوگ ہوں گے ، جو اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہوں گے ، ان کے چہرے نور ہوں گے ، وہ نور پر ہوں گے ، جب ( دوسرے ) لوگ خوف کا شکار ہوں گے تو وہ خوف کا شکار نہیں ہوں گے ، جب ( دوسرے ) لوگ غمگین ہوں گے تو وہ غمگین نہیں ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف شہر بن حوشب کا معاملہ مختلف ہے اور ایک سے زیادہ افراد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17998
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6842)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ لِلَّهِ جُلَسَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَنْ يَمِينِ الْعَرْشِ ، وَكِلْتَا يَدَيِ اللَّهِ يَمِينٌ ، عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ ، وُجُوهُهُمْ مِنْ نُورٍ ، لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ ، وَلَا شُهَدَاءَ ، وَلَا صِدِّيقِينَ " . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ هُمْ ؟ قَالَ : " هُمُ الْمُتَحَابُّونَ بِجَلَالِ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کو عرش کے دائیں طرف بٹھائے گا ، ویسے اللہ تعالیٰ کے دونوں طرف ہی ” دائیں“ ہیں ، وہ انہیں نور کے بنے ہوئے منبروں پر بٹھائے گا ، ان لوگوں کے چہرے نور ہوں گے ، وہ انبیاء یا شہداء یا صدیقین نہیں ہوں گے ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! وہ کون ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھنے والے لوگ ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17999
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12686)»
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ لِلَّهِ عِبَادًا لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ ، يَغْبِطُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ وَالشُّهَدَاءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے بندے ہیں ، جو نہ انبیاء ہوں گے اور نہ شہداء ہوں گے ، لیکن قیامت کے دن انبیاء اور شہداء ان پر رشک کریں گے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18000
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3593) أخرجه ابو يعلى فى المسند (6110)»
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْمُتَحَابُّونَ فِي اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فِي ظِلِّ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ ، عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ ، يَفْزَعُ النَّاسُ وَلَا يَفْزَعُونَ ، إِذَا أَرَادَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - بِأَهْلِ الْأَرْضِ عَذَابًا ، ذَكَرَهُمْ فَصَرَفَ عَنْهُمُ الْعَذَابَ بِذِكْرِهِ إِيَّاهُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اللہ تعالیٰ کی خاطر ، ایک دوسرے سے محبت رکھنے والے لوگ قیامت کے دن اللہ تعالی کے سائے میں ہوں گے ، جس دن اس کے سائے کے علاوہ اور کوئی سایہ نہیں ہو گا اور وہ لوگ نور کے بنے ہوئے منبروں پر ہوں گے ، جب ( دوسرے ) لوگ گھبراہٹ کا شکار ہوں گے تو وہ گھبراہٹ کا شکار نہیں ہوں گے ، جب اللہ تعالٰی اہل زمین کو عذاب دینے کا ارادہ کرتا ہے اور پھر ان ( اللہ تعالیٰ کی خاطر آپس میں محبت رکھنے والوں ) کا خیال کرتا ہے ، تو اُن کی وجہ سے اہل زمین سے عذاب کو پھیر دیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18001
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (1350)»
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ لِلَّهِ عِبَادًا يُجْلِسُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ ، يَغْشَى وُجُوهَهُمُ النُّورُ حَتَّى يَفْرَغَ مِنْ حِسَابِ الْخَلَائِقِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے بندے ہیں ، جنہیں وہ قیامت کے دن نور کے منبروں پر بٹھائے گا اور ان کے چہروں کو نور کے ذریعے ڈھانپ دے گا ایسا اس وقت تک رہے گا ، جب تک وہ مخلوق کے حساب سے فارغ نہیں ہو جاتا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18002
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7527)»
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْمُتَحَابُّونَ فِي اللَّهِ عَلَى كَرَاسِيَّ مِنْ يَاقُوتٍ حَوْلَ الْعَرْشِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ اللَّيْثِيُّ ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفٍ كَثِيرٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھنے والے لوگ عرش کے گرد یاقوت کی کرسیوں پر ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عبدالعزیز لیثی ہے ، جس کے بہت زیادہ ضعیف ہونے کے باوجود اُس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18003
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3973)»
وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا تَحَابَّ اثْنَانِ فِي اللَّهِ إِلَّا وُضِعَ لَهُمَا كُرْسِيَّانِ فَأُجْلِسَا عَلَيْهِ حَتَّى يَفْرَغَ اللَّهُ مِنَ الْحِسَابِ " . فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ : صَدَقَ أَبُو عُبَيْدَةَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو دَاوُدَ الْأَعْمَى ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب بھی دو آدمی اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہیں ، تو اللہ تعالیٰ ان دونوں کے لئے دو کرسیاں رکھوائے گا اور ان کرسیوں پر انہیں اس وقت تک بٹھا کے رکھا جائے گا ، جب تک اللہ تعالیٰ حساب سے فارغ نہیں ہو جاتا ۔ “ اس پر سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا : سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے سچ فرمایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوداؤد نابینا ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18004
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (36/20)»
وَعَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْمُتَحَابُّونَ فِي اللَّهِ عَلَى عَمُودٍ مِنْ يَاقُوتٍ ، لَهُ خَيْمَةٌ مِنْ يَاقُوتَةٍ مُجَوَّفَةٍ ، سِتِّينَ مِيلًا فِي السَّمَاءِ ، لَهُ فِي كُلِّ نَاحِيَةٍ مِنْهَا أَزْوَاجٌ ، لَا يَعْلَمُ بِهِ الْآخَرُونَ ، وَإِنَّ أَحَدَهُمْ لَيُشْرِفُ عَلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَمْلَأُ أَهْلَ الْجَنَّةِ نُورًا حَتَّى يَقُولَ أَهْلُ الْجَنَّةِ : مَا هَذَا الَّذِي قَدْ حَدَثَ ؟ ! فَيَقُولُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : مَا هَذَا الضَّوْءُ الَّذِي قَدْ حَدَثَ ؟ فَيَقُولُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : أَشْرَفَ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنَ الْمُتَحَابِّينَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے لوگ یاقوت کے ستون پر ہوں گے ان کا خیمہ کھوکھلے یاقوت سے بنا ہوا ہو گا جو ساٹھ میل اونچا ہو گا ، اس کے ہر ایک گوشے میں اس شخص کی بیویاں ہوں گی اور اس گوشے کے بارے میں دوسرے گوشے کے لوگ نہیں جانتے ہوں گے ، ان لوگوں میں سے کوئی ایک اہل جنت کی طرف جھانک کر دیکھے گا تو اہل جنت کو نور سے بھر دے گا یہاں تک کہ اہل جنت کہیں گے : یہ کیا چیز ہے ؟ جو سامنے آئی ہے ، تو ان میں سے کوئی ایک دوسرے سے دریافت کرے گا : یہ کیا روشنی ہے ؟ جو سامنے آئی ہے ، تو دوسرا جواب دے گا : ایک دوسرے سے ( اللہ تعالیٰ کی خاطر ) محبت رکھنے والوں میں سے ایک شخص نے تم کو جھانک کر دیکھا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18005
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَبِي بُرَيْدَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرَفًا يُرَى ظَوَاهِرُهَا مِنْ بَوَاطِنِهَا ، وَبَوَاطُنُهَا مِنْ ظَوَاهِرِهَا ، أَعَدَّهَا اللَّهُ لِلْمُتَحَابِّينَ فِيهِ ، وَالْمُتَزَاوِرِينَ فِيهِ ، وَالْمُتَبَاذِلِينَ فِيهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَيْفٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبریده رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جنت میں بالاخانے ہوں گے جن کا بیرونی حصہ اندر سے اور اندرونی حصہ باہر سے نظر آئے گا ، وہ اللہ تعالیٰ نے اللہ تعالی کی خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھنے والوں ، اس کے لیے ایک دوسرے سے ملاقات کرنے والوں اور اس کی خاطر ایک دوسرے پر خرچ کرنے والوں کے لیے تیار کیے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن سیف ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18006
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَعُمُدًا مِنْ يَاقُوتٍ ، عَلَيْهَا غُرَفٌ مِنْ زَبَرْجَدٍ ، لَهَا أَبْوَابٌ مُفَتَّحَةٌ ، تُضِيءُ كَمَا يُضِيءُ الْكَوْكَبُ الدُّرِّيُّ " . قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ يَسْكُنُهَا ؟ قَالَ : " الْمُتَحَابُّونَ فِي اللَّهِ ، وَالْمُتَبَاذِلُونَ فِي اللَّهِ ، وَالْمُتَلَاقُونَ فِي اللَّهِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جنت میں یاقوت کے ستون ہوں گے ، جن پر زبرجد کے بنے ہوئے بالاخانے ہوں گے ان کے کھلے ہوئے دروازے ہوں گے اور ان سے یوں روشنی باہر آئے گی جیسے چمکتے ہوئے ستارے کی روشنی ہوتی ہے راوی کہتے ہیں : ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ان میں کون ٹھہرے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے لوگ اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے پر خرچ کرنے والے لوگ ، اور اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے سے ملاقات کرنے والے لوگ ( ان میں ٹھہریں گے ) ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوحمید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18007
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1481)»
وَعَنْ أَبِي مُسْلِمٍ - يَعْنِي الْخَوْلَانِيَّ - قَالَ : دَخَلْتُ مَسْجِدَ حِمْصَ ، فَإِذَا فِيهِ حَلْقَةٌ فِيهَا اثْنَانِ وَثَلَاثُونَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِذَا فِيهِمْ شَابٌّ أَكْحَلُ ، بَرَّاقُ الثَّنَايَا ، مُحْتَبٍ ، فَإِذَا اخْتَلَفُوا فِي شَيْءٍ سَأَلُوهُ فَأَخْبَرَهُمْ فَانْتَهَوْا إِلَى قَوْلِهِ ، قُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ ! قَالُوا : [ هَذَا ] مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، فَقُمْتُ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَلْقَى بَعْضَهُمْ فَلَمْ أَقْدِرْ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمُ انْصَرَفُوا ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ دَخَلْتُ ، فَإِذَامُعَاذٌ يُصَلِّي إِلَى سَارِيَةٍ ، فَصَلَّيْتُ عِنْدَهُ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ جَلَسْتُ ، بَيْنِي وَبَيْنَهُ السَّارِيَةُ ، ثُمَّ احْتَبَيْتُ [ فَلَبِثْتُ ] سَاعَةً لَا أُكَلِّمُهُ وَلَا يُكَلِّمُنِي ، ثُمَّ قُلْتُ : وَاللَّهِ ، إِنِّي لَأُحِبُّكَ لِغَيْرِ دِينٍ أُصِيبُهَا مِنْكَ ، وَلَا قَرَابَةَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ . قَالَ : فَلِأَيِّ شَيْءٍ ؟ قُلْتُ : لِلَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - قَالَ : فَنَثَرَ حَبْوَتِي ، ثُمَّ قَالَ : فَأَبْشِرْ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْمُتَحَابُّونَ فِي اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فِي ظِلِّ اللَّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ ، يَغْبِطُهُمْ بِمَكَانِهِمُ النَّبِيُّونَ وَالشُّهَدَاءُ " . ثُمَّ خَرَجْتُ فَأَلْقَى عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتٍ ، فَحَدَّثْتُهُ بِالَّذِي حَدَّثَنِي مُعَاذٌ فَقَالَ عُبَادَةُ رَحِمَ اللَّهُ مُعَاذًا : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - أَنَّهُ قَالَ : " حَقَّتْ مَحَبَّتِي عَلَى الْمُتَحَابِّينَ فِيَّ - يَعْنِي نَفْسَهُ - وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَنَاصِحِينَ فِيَّ ، وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي عَلَى الْمُتَزَاوِرِينَ فِيَّ ، وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي عَلَى الْمُتَبَاذِلِينَ فِيَّ ، عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ ، يَغْبِطُهُمْ بِمَكَانِهِمُ النَّبِيُّونَ وَالصِّدِّيقُونَ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ طَرَفًا مِنْ حَدِيثِ مُعَاذٍ وَحْدَهُ . رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَالْبَزَّارُ بَعْضَ حَدِيثِ عُبَادَةَ فَقَطْ ، وَرِجَالُ عَبْدِ اللَّهِ وَالطَّبَرَانِيُّ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
ابومسلم خولانی بیان کرتے ہیں : میں ”حمص“ کی مسجد میں داخل ہوا تو وہاں ایک حلقہ موجود تھا ، جس میں بتیس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم موجود تھے اور ان کے درمیان سرمگیں آنکھوں کے مالک ایک نوجوان فرد موجود تھے ، جن کے دانت چمکدار تھے ، وہ احتباء کے طور پر بیٹھے ہوئے تھے ، جب ان لوگوں کے درمیان کسی معاملے کے بارے میں اختلاف ہوتا تھا ، تو لوگ ان سے دریافت کرتے تھے اور وہ نوجوان صاحب انہیں بتاتے تھے ، سب لوگ ان کے قول کی طرف رجوع کر لیتے تھے ، میں نے دریافت کیا : یہ صاحب کون ہیں ؟ تو لوگوں نے بتایا : یہ سیدنا معاذ بن جبل ہیں ؟ میں نماز ادا کرنے کے لئے چلا گیا ، میرا ارادہ تھا کہ میں ان میں سے کسی سے ملاقات کروں گا ، لیکن میری ان میں سے کسی سے بھی ملاقات نہیں ہو سکی ، وہ سب لوگ واپس چلے گئے ، اگلے دن میں مسجد میں آیا تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ ایک ستون کے پاس نماز ادا کر رہے تھے ، میں نے ان کے پاس نماز ادا کی ، جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو میں بیٹھ گیا ، میرے اور ان کے درمیان ستون حائل تھا ، پھر میں احتباء کے طور پر بیٹھ گیا تھوڑی دیر گزر گئی ، اس دوران نہ میں نے ان سے کوئی بات کی ، نہ انہوں نے میرے ساتھ کوئی بات کی ، پھر میں نے کہا: اللہ کی قسم ! میں آپ سے محبت رکھتا ہوں اور یہ کسی دنیاوی مقصد کی وجہ سے نہیں ہے ، جس کے بارے میں مجھے یہ امید ہو کہ میں آپ سے وہ چیز پا لوں گا اور نہ ہی میرے اور آپ کے درمیان کوئی رشتہ داری ہے ، انہوں نے دریافت کیا : پھر ( یہ محبت ) کس وجہ سے ہے ؟ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ کی خاطر انہوں نے احتباء کو ختم کیا اور پھر فرمایا : اگر تم سچ کہہ رہے ہو ، تو تم یہ خوشخبری قبول کرو : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے لوگ اس دن عرش کے سائے میں ہوں گے ، جب اس کے سائے کے علاوہ اور کوئی سایہ نہیں ہو گا اور انبیائے کرام اور شہداء ان لوگوں کے مقام کے حوالے سے ان پر رشک کریں گے ۔ “ راوی کہتے ہیں : وہ وہاں سے نکلا ، میری ملاقات سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، میں نے انہیں وہ حدیث بیان کی جو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کی تھی ، تو سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ پر رحم کرے ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پروردگار کے حوالے سے یہ بات روایت کرتے ہوئے سنا ہے : پروردگار فرماتا ہے : ” میری محبت میری خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھنے والوں کے لیے ثابت ہو گئی ، راوی کہتے ہیں : یعنی اللہ تعالیٰ کی خاطر ( محبت رکھنے والوں کے لیے ثابت ہو گئی ) اور میری محبت میری خاطر ایک دوسرے کی خیرخواہی کرنے والوں کے لیے ثابت ہو گئی اور میری محبت میری خاطر ایک دوسرے سے ملاقات کرنے والوں کے لیے ثابت ہو گئی اور میری محبت میری خاطر ایک دوسرے پر خرچ کرنے والوں کے لیے ثابت ہو گئی یہ لوگ نور کے بنے ہوئے منبروں پر موجود ہوں گے اور ان کے مقام کے حوالے سے انبیاء اور صدیقین ان پر رشک کریں گے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے صرف سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے اور طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے امام بزار نے صرف سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، عبداللہ اور طبرانی کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18008
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3594)»
عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ قَالَ : جَلَسْتُ مَجْلِسًا فِيهِ عِشْرُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا فِيهِمْ شَابٌّ حَدِيثُ السِّنِّ ، حَسَنُ الْوَجْهِ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ بِاخْتِصَارٍ . وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

یہ روایت امام أحمد نے اختصار کے ساتھ ابوادریس کے حوالے سے نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : میں ایک محفل میں موجود تھا جس میں بیس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی موجود تھے ان میں ایک نوجوان تھے جن کی عمر کم تھی اور چہرہ خوبصورت تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18009
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (229/5)»
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ : " وَالْمُتَجَالِسِينَ فِيَّ " . ¤
محمد محی الدین
ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” میری خاطر ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے والوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18010
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (233/5)»
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ رِجَالًا لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ ، يُوضَعُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنَابِرُ مِنْ نُورِ ، وُجُوهِهِمْ مِنْ نُورِ ، يُؤَمَّنُونَ مِنَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ " . فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَنْ أُولَئِكَ ؟ قَالَ : " نُزَّاعُ الْقَبَائِلِ يَتَحَابُّونَ فِي اللَّهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” کچھ لوگ ایسے ہیں ، جو نہ انبیاء ہوں گے اور نہ شہداء ہوں گے ، قیامت کے دن ان کے لیے نور کے منبر رکھے جائیں گے ان کے چہرے نور کے ہوں گے اور وہ لوگ بڑی گھبراہٹ سے محفوظ ہوں گے ، ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ لوگ کون ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ مختلف قبائل سے تعلق رکھنے والے وہ لوگ ہوں گے ، جو اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18011
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (168/20)»
وَعَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : الْمُتَحَابُّونَ لِجَلَالِي فِي ظِلِّ عَرْشِي يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلِّي " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُمَا جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” میرے جلال کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے لوگ ، اس دن میرے عرش کے سائے میں ہوں گے ، جب میرے سائے کے علاوہ اور کوئی سایہ نہیں ہو گا“ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان دونوں کی سند عمدہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18012
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (128/4)»
وَعَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ عَبْسَةَ : هَلْ أَنْتَ مُحَدِّثِي حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْسَ فِيهِ نِسْيَانٌ ، وَلَا كَذِبٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ . سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : قَدْ حَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينِ يَتَحَابُّونَ مِنْ أَجْلِي ، وَقَدْ حَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينِ يَتَزَاوَرُونَ مِنْ أَجْلِي ، وَقَدْ حَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينِ يَتَبَاذَلُونَ مِنْ أَجْلِي ، وَقَدْ حَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينِ يَتَصَادَقُونَ مِنْ أَجْلِي ، مَا مِنْ مُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ يُقَدِّمُ اللَّهُ لَهُ ثَلَاثَةَ أَوْلَادٍ مِنْ صُلْبِهِ ، لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا أَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ " . ¤
محمد محی الدین
شرحبیل بن سمط کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ مجھے کوئی ایسی حدیث بیان کریں گے ، جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو اور اس میں کوئی بھول یا غلط بیانی نہ ہو ؟ سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میری محبت ان لوگوں کے لیے ثابت ہو گئی جو میری خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں میری محبت ان لوگوں کے لیے ثابت ہو گئی جو میری خاطر ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں میری محبت ان لوگوں کے لیے ثابت ہو گئی جو میری خاطر ایک دوسرے پر خرچ کرتے ہیں میری محبت ان لوگوں کے لیے ثابت ہو گئی جو میری خاطر ایک دوسرے سے خلوص رکھتے ہیں ، جس بھی مومن مرد یا مومن عورت کی سگی اولاد میں سے تین بچے بالغ ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں چلے جائیں ( یعنی فوت ہو جائیں ) تو ان بچوں پر اپنی رحمت کے فضل کی وجہ سے اللہ تعالی اس ( مومن مرد یا مومن عورت ) کو جنت میں داخل کر دے گا ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18013
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (386/4)»
وَفِي رِوَايَةٍ : " وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينِ يَتَصَادَقُونَ مِنْ أَجْلِي ، وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينِ يَتَصَادَقُونَ مِنْ أَجْلِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : میری محبت ان لوگوں کے لیے ثابت ہو گئی جو میری خاطر ایک دوسرے سے خلوص رکھتے ہیں اور میری محبت ان لوگوں کے لیے ثابت ہو گئی جو میری خاطر ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے اور امام أحمد نے اس کی مانند نقل کی ہے امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18014
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1095)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَحَبَّ رَجُلًا لِلَّهِ فَقَدْ أَحَبَّهُ اللَّهُ ، فَدَخَلَا جَمِيعًا الْجَنَّةَ ، وَكَانَ الَّذِي أَحَبَّهُ لِلَّهِ أَرْفَعَ مَنْزِلَةً ، أَلْحَقَ الَّذِي أَحَبَّهُ لِلَّهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ وَلَفْظُهُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَحَبَّ رَجُلًا لِلَّهِ فَقَالَ : إِنِّي أُحِبُّكَ لِلَّهِ ، فَدَخَلَا جَمِيعًا الْجَنَّةَ ، فَكَانَ الَّذِي أَحَبَّ أَرْفَعَ مَنْزِلَةً مِنَ الْآخَرِ أُلْحِقَ بِالَّذِي أَحَبَّ لِلَّهِ " . وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : “” “” جو شخص اللہ تعالیٰ کی خاطر کسی شخص سے محبت رکھتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے محبت رکھتا ہے اور وہ دونوں جنت میں داخل ہوں گے ، جو شخص دوسرے سے اللہ تعالیٰ کی خاطر محبت رکھتا ہے ، وہ زیادہ بلند مرتبے میں ہو گا اور جس سے وہ محبت رکھتا ہے ، اس کا مرتبہ بعد کا ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے
یہ روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے اور ان کے الفاظ یہ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اللہ تعالی کی خاطر کسی شخص سے محبت رکھتا ہے اور یہ کہتا ہے : میں اللہ تعالیٰ کے لیے تم سے محبت رکھتا ہوں ، تو وہ دونوں جنت میں داخل ہوں گے اور محبت رکھنے والا شخص دوسرے کے مقابلے میں زیادہ بلند مرتبے پر ہو گا ، اور اس کے بعد اس شخص کا مرتبہ ہو گا ، جس سے وہ اللہ تعالیٰ کی خاطر محبت رکھتا ہے ۔ “ اس روایت کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18015
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3599)»
قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَتَزَاوَرُ أَهْلُ الْجَنَّةِ عَلَى نُوقٍ عَلَيْهَا الْحَشَايَا ، فَيَزُورُ أَهْلُ عِلِّيِّينَ مَنْ أَسْفَلَ مِنْهُمْ ، وَلَا يَزُورُ مَنْ أَسْفَلَ مِنْهُمْ أَهْلَ عِلِّيِّينَ إِلَّا الْمُتَحَابِّينَ فِي اللَّهِ [ فَإِنَّهُمْ ] يَتَزَاوَرُونَ حَيْثُ شَاءُوا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اہل جنت اونٹنیوں پر بیٹھ کر ایک دوسرے سے ملاقات کے لیے جائیں گے ، ان اونٹیوں پر پالان ہوں گے ، تو بلند مرتبہ کے لوگ نیچے والے مرتبے کے لوگوں سے ملاقات کے لیے جائیں گے ، لیکن نیچے کے مرتبے والے لوگ اوپر کے مرتبے والے لوگوں سے ملاقات کے لیے نہیں جائیں گے ، البتہ ان لوگوں کا معاملہ مختلف ہے جو اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہوں ، کیونکہ وہ جنت میں جہاں چاہیں گے ، ایک دوسرے سے ملاقات کریں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بشر بن نمیر ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18016
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7936)»
وَبِسَنَدِهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ثَلَاثَةٌ فِي ظِلِّ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ : رَجُلٌ حَيْثُ تَوَجَّهَ عَلِمَ أَنَّ اللَّهَ مَعَهُ ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ إِلَى نَفْسِهَا فَتَرَكَهَا مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ ، وَرَجُلٌ أَحَبَّ لِجَلَالِ اللَّهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِسَنَدِ الَّذِي قَبْلَهُ . ¤
محمد محی الدین
اسی سند کے ساتھ یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن تین لوگ اللہ تعالی کے سائے میں ہوں گے ، جس دن اس کے سائے کے کے علاوہ اور کوئی سایہ نہیں ہو گا ، ایک وہ شخص جو جہاں بھی ہو ، وہ اس بات کو جانتا ہو ( یعنی اس پر ایمان رکھتا ہو ) کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہے ، ایک وہ شخص جسے کوئی عورت اپنی طرف بلائے اور وہ اللہ تعالی کے خوف سے اس عورت کو چھوڑ دے ، اور ایک وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی عظمت کی خاطر کسی ( دوسرے شخص ) سے محبت رکھتا ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اس سے پہلی والی روایت کی سند کے ہمراہ نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18017
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدا, قال الهيثمي: فيه بشر بن نمير وهو متروك ، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: (10 / 279)
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7935)»