مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ الْمُتَحَابِّينَ فِي اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - . باب: اللہ تعالیٰ کی خاطر ، ایک دوسرے سے محبت کرنے والے افراد
وَعَنْ شَهْرِ بْنِ حَوَشْبٍ قَالَ : كَانَ فِينَا رَجُلٌ - مَعْشَرَ الْأَشْعَرِيِّينَ - قَدْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَشَهِدَ مَعَهُ مَشَاهِدَهُ الْحَسَنَةَ الْجَمِيلَةَ ، يُقَالُ لَهُ : مَالِكٌ ، أَوِ ابْنُ مَالِكٍ - شَكَّ عَوْفٌ - فَأَتَانَا يَوْمًا فَقَالَ : أَتَيْتُكُمْ لِأُعَلِّمَكُمْ وَأُصَلِّيَ بِكُمْ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي بِنَا ، فَدَعَا بِحَفْنَةٍ عَظِيمَةٍ ، فَجَعَلَ فِيهَا مِنَ الْمَاءِ ، ثُمَّ دَعَانَا بِإِنَاءٍ صَغِيرٍ فَجَعَلَ يُفْرِغُ مِنَ الْإِنَاءِ الصَّغِيرِ عَلَى أَيْدِينَا ، ثُمَّ قَالَ : أَسْبِغُوا الْآنَ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى بِنَا صَلَاةً تَامَّةً وَجِيزَةً ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ أَقْوَامًا لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ ، يَغْبِطُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ وَالشُّهَدَاءُ بِمَكَانِهِمْ مِنَ اللَّهِ " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ حُجْرَةِ الْقَوْمِ أَعْرَابِيٌّ قَالَ : وَكَانَ يُعْجِبُنَا إِذَا شَهِدْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَكُونَ فِينَا الْأَعْرَابِيُّ ; لِأَنَّهُمْ يَجْتَرِئُونَ أَنْ يَسْأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَا نَجْتَرِئُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سَمِّهِمْ لَنَا ، قَالَ : فَرَأَيْنَا وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَهَلَّلُ ، ثُمَّ قَالَ : " هُمْ نَاسٌ مِنْ قَبَائِلَ شَتَّى ، يَتَحَابُّونَ فِي اللَّهِ ، [ وَاللَّهِ ] إِنَّ وُجُوهَهُمْ لَنُورٌ ، وَإِنَّهُمْ لَعَلَى نُورٍ ، لَا يَخَافُونَ إِذَا خَافَ النَّاسُ ، وَلَا يَحْزَنُونَ إِذَا حَزِنُوا " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ حَوْشَبٍ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ . ¤شہر بن حوشب بیان کرتے ہیں : ہمارے درمیان ، یعنی اشعر قبیلے کے لوگوں کے درمیان ایک صاحب تھے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے تھے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوات میں عمدہ طور پر حصہ لیا تھا ، ان صاحب کا نام سیدنا مالک رضی اللہ عنہ یا شاید سیدنا ابن مالک رضی اللہ عنہ تھا ۔ یہ شک عوف نامی راوی کو ہے ۔ ایک دن وہ ہمارے پاس تشریف لائے اور انہوں نے ارشاد فرمایا : ” میں تمہارے پاس اس لیے آیا ہوں تاکہ تمہیں اس بات کی تعلیم دوں اور تمہیں نماز پڑھ کے دکھاؤں ، جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھایا کرتے تھے ، پھر انہوں نے ایک بڑا برتن منگوایا اس میں پانی ڈلوایا ، پھر انہوں نے ایک چھوٹا برتن منگوایا اور چھوٹے برتن کے ذریعے ہم پر پانی ڈالنا شروع کیا اور پھر یہ فرمایا : اب تم اچھی طرح وضو کرو ، پھر وہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے ہمیں مکمل ، لیکن مختصر نماز پڑھائی ، جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو انہوں نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : ” میں کچھ ایسے لوگوں کو جانتا ہوں ، جو نہ انبیاء ہیں اور نہ شہداء ہیں ، لیکن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان کے مرتبے کے حوالے سے انبیاء اور شہداء ان پر رشک کریں گے ۔ “ حاضرین میں سے ایک شخص ، جو ایک دیہاتی تھا ، اس نے کہا: ۔ راوی کہتے ہیں : ہمیں یہ بات پسند تھی کہ جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود ہوں ، تو ہمارے درمیان کوئی دیہاتی بھی موجود ہو ، کیونکہ دیہاتی لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنے کی جرأت کر لیتے تھے ، ہم سے یہ جرأت نہیں ہوتی تھی ، اس دیہاتی نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ ان کی صفت ہمارے سامنے بیان کیجیے ، راوی بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو دیکھا کہ وہ جگمگانے لگا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ مختلف قبائل سے تعلق رکھنے والے لوگ ہوں گے ، جو اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہوں گے ، ان کے چہرے نور ہوں گے ، وہ نور پر ہوں گے ، جب ( دوسرے ) لوگ خوف کا شکار ہوں گے تو وہ خوف کا شکار نہیں ہوں گے ، جب ( دوسرے ) لوگ غمگین ہوں گے تو وہ غمگین نہیں ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف شہر بن حوشب کا معاملہ مختلف ہے اور ایک سے زیادہ افراد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔