مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ الْمُتَحَابِّينَ فِي اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - . باب: اللہ تعالیٰ کی خاطر ، ایک دوسرے سے محبت کرنے والے افراد
وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَزَلَتْ عَلَيْهِ : " يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ " قَالَ : فَنَحْنُ نَسْأَلُهُ إِذْ قَالَ : " إِنَّ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - عِبَادًا لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ ، يَغْبِطُهُمُ النَّبِيُّونَ وَالشُّهَدَاءُ بِمَقْعَدِهِمْ ، وَقُرْبِهِمْ مِنَ اللَّهِ " . قَالَ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ . رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، وَزَادَ : " عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ مِنْ لُؤْلُؤٍ قُدَّامَ الرَّحْمَنِ " . وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا . ¤ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ( راوی بیان کرتے ہیں ) میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ، آپ پر یہ آیت نازل ہوئی : ” اے ایمان والو ! ایسی چیزوں کے بارے میں دریافت نہ کرو کہ اگر وہ تمہارے سامنے ظاہر ہو جائیں تو تمہیں بری لگیں ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرنا شروع کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے بندے ہوں گے ، جو نہ انبیاء ہوں گے اور نہ شہداء ہوں گے ، لیکن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان کے بیٹھنے کے مقام اور ان کے قرب کے حوالے سے انبیاء اور شہداء ان پر رشک کریں گے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے طویل حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ تمام روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہیں اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” وہ رحمن کے آگے موتیوں سے بنے ہوئے نور کے منبروں پر ہوں گے ۔ “ اس روایت کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔