کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: آپس میں محبت رکھنے والے دو افراد میں سے ، اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون زیادہ فضلیت والا اور زیادہ محبوب ہوتا ہے ؟
حدیث نمبر: 17994
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا تَحَابَّ رَجُلَانِ فِي اللَّهِ إِلَّا كَانَ أَحَبُّهُمَا إِلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - أَشَدَّهُمَا حُبًّا لِصَاحِبِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى ، وَالْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَلَى ضَعْفٍ فِيهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب بھی دو آدمی اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہیں ، تو ان دونوں میں سے اللہ تعالی کے نزدیک زیادہ محبوب وہ ہوتا ہے جو اپنے ساتھی سے زیادہ محبت رکھتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ابویعلیٰ اور بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف مبارک بن فضالہ کا معاملہ مختلف ہے اس میں موجود ضعف کے باوجود ، ایک سے زیادہ افراد نے اس کی توثیق کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17994
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3600) اخرجه ابو يعلى فى المسند (3419)»
حدیث نمبر: 17995
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ - يَرْفَعُهُ - قَالَ : " مَا مِنْ رَجُلَيْنِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ إِلَّا كَانَ أَحَبُّهُمَا إِلَى اللَّهِ أَشَدَّهُمَا حُبًّا لِصَاحِبِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْمُعَافَى بْنِ سُلَيْمَانَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ ” مرفوع “ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) جب بھی دو آدمی غیر موجودگی میں ایک دوسرے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی خاطر محبت رکھتے ہیں ، تو ان دونوں میں سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ محبوب وہ ہوتا ہے جو اپنے ساتھی سے زیادہ محبت رکھتا ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف معافی بن سلیمان کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17995
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح