حدیث نمبر: 18008
وَعَنْ أَبِي مُسْلِمٍ - يَعْنِي الْخَوْلَانِيَّ - قَالَ : دَخَلْتُ مَسْجِدَ حِمْصَ ، فَإِذَا فِيهِ حَلْقَةٌ فِيهَا اثْنَانِ وَثَلَاثُونَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِذَا فِيهِمْ شَابٌّ أَكْحَلُ ، بَرَّاقُ الثَّنَايَا ، مُحْتَبٍ ، فَإِذَا اخْتَلَفُوا فِي شَيْءٍ سَأَلُوهُ فَأَخْبَرَهُمْ فَانْتَهَوْا إِلَى قَوْلِهِ ، قُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ ! قَالُوا : [ هَذَا ] مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، فَقُمْتُ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَلْقَى بَعْضَهُمْ فَلَمْ أَقْدِرْ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمُ انْصَرَفُوا ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ دَخَلْتُ ، فَإِذَامُعَاذٌ يُصَلِّي إِلَى سَارِيَةٍ ، فَصَلَّيْتُ عِنْدَهُ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ جَلَسْتُ ، بَيْنِي وَبَيْنَهُ السَّارِيَةُ ، ثُمَّ احْتَبَيْتُ [ فَلَبِثْتُ ] سَاعَةً لَا أُكَلِّمُهُ وَلَا يُكَلِّمُنِي ، ثُمَّ قُلْتُ : وَاللَّهِ ، إِنِّي لَأُحِبُّكَ لِغَيْرِ دِينٍ أُصِيبُهَا مِنْكَ ، وَلَا قَرَابَةَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ . قَالَ : فَلِأَيِّ شَيْءٍ ؟ قُلْتُ : لِلَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - قَالَ : فَنَثَرَ حَبْوَتِي ، ثُمَّ قَالَ : فَأَبْشِرْ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْمُتَحَابُّونَ فِي اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فِي ظِلِّ اللَّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ ، يَغْبِطُهُمْ بِمَكَانِهِمُ النَّبِيُّونَ وَالشُّهَدَاءُ " . ثُمَّ خَرَجْتُ فَأَلْقَى عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتٍ ، فَحَدَّثْتُهُ بِالَّذِي حَدَّثَنِي مُعَاذٌ فَقَالَ عُبَادَةُ رَحِمَ اللَّهُ مُعَاذًا : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - أَنَّهُ قَالَ : " حَقَّتْ مَحَبَّتِي عَلَى الْمُتَحَابِّينَ فِيَّ - يَعْنِي نَفْسَهُ - وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَنَاصِحِينَ فِيَّ ، وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي عَلَى الْمُتَزَاوِرِينَ فِيَّ ، وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي عَلَى الْمُتَبَاذِلِينَ فِيَّ ، عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ ، يَغْبِطُهُمْ بِمَكَانِهِمُ النَّبِيُّونَ وَالصِّدِّيقُونَ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ طَرَفًا مِنْ حَدِيثِ مُعَاذٍ وَحْدَهُ . رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَالْبَزَّارُ بَعْضَ حَدِيثِ عُبَادَةَ فَقَطْ ، وَرِجَالُ عَبْدِ اللَّهِ وَالطَّبَرَانِيُّ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین

ابومسلم خولانی بیان کرتے ہیں : میں ”حمص“ کی مسجد میں داخل ہوا تو وہاں ایک حلقہ موجود تھا ، جس میں بتیس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم موجود تھے اور ان کے درمیان سرمگیں آنکھوں کے مالک ایک نوجوان فرد موجود تھے ، جن کے دانت چمکدار تھے ، وہ احتباء کے طور پر بیٹھے ہوئے تھے ، جب ان لوگوں کے درمیان کسی معاملے کے بارے میں اختلاف ہوتا تھا ، تو لوگ ان سے دریافت کرتے تھے اور وہ نوجوان صاحب انہیں بتاتے تھے ، سب لوگ ان کے قول کی طرف رجوع کر لیتے تھے ، میں نے دریافت کیا : یہ صاحب کون ہیں ؟ تو لوگوں نے بتایا : یہ سیدنا معاذ بن جبل ہیں ؟ میں نماز ادا کرنے کے لئے چلا گیا ، میرا ارادہ تھا کہ میں ان میں سے کسی سے ملاقات کروں گا ، لیکن میری ان میں سے کسی سے بھی ملاقات نہیں ہو سکی ، وہ سب لوگ واپس چلے گئے ، اگلے دن میں مسجد میں آیا تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ ایک ستون کے پاس نماز ادا کر رہے تھے ، میں نے ان کے پاس نماز ادا کی ، جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو میں بیٹھ گیا ، میرے اور ان کے درمیان ستون حائل تھا ، پھر میں احتباء کے طور پر بیٹھ گیا تھوڑی دیر گزر گئی ، اس دوران نہ میں نے ان سے کوئی بات کی ، نہ انہوں نے میرے ساتھ کوئی بات کی ، پھر میں نے کہا: اللہ کی قسم ! میں آپ سے محبت رکھتا ہوں اور یہ کسی دنیاوی مقصد کی وجہ سے نہیں ہے ، جس کے بارے میں مجھے یہ امید ہو کہ میں آپ سے وہ چیز پا لوں گا اور نہ ہی میرے اور آپ کے درمیان کوئی رشتہ داری ہے ، انہوں نے دریافت کیا : پھر ( یہ محبت ) کس وجہ سے ہے ؟ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ کی خاطر انہوں نے احتباء کو ختم کیا اور پھر فرمایا : اگر تم سچ کہہ رہے ہو ، تو تم یہ خوشخبری قبول کرو : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے لوگ اس دن عرش کے سائے میں ہوں گے ، جب اس کے سائے کے علاوہ اور کوئی سایہ نہیں ہو گا اور انبیائے کرام اور شہداء ان لوگوں کے مقام کے حوالے سے ان پر رشک کریں گے ۔ “ راوی کہتے ہیں : وہ وہاں سے نکلا ، میری ملاقات سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، میں نے انہیں وہ حدیث بیان کی جو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کی تھی ، تو سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ پر رحم کرے ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پروردگار کے حوالے سے یہ بات روایت کرتے ہوئے سنا ہے : پروردگار فرماتا ہے : ” میری محبت میری خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھنے والوں کے لیے ثابت ہو گئی ، راوی کہتے ہیں : یعنی اللہ تعالیٰ کی خاطر ( محبت رکھنے والوں کے لیے ثابت ہو گئی ) اور میری محبت میری خاطر ایک دوسرے کی خیرخواہی کرنے والوں کے لیے ثابت ہو گئی اور میری محبت میری خاطر ایک دوسرے سے ملاقات کرنے والوں کے لیے ثابت ہو گئی اور میری محبت میری خاطر ایک دوسرے پر خرچ کرنے والوں کے لیے ثابت ہو گئی یہ لوگ نور کے بنے ہوئے منبروں پر موجود ہوں گے اور ان کے مقام کے حوالے سے انبیاء اور صدیقین ان پر رشک کریں گے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے صرف سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے اور طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے امام بزار نے صرف سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، عبداللہ اور طبرانی کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18008
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3594)»