حدیث نمبر: 18001
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْمُتَحَابُّونَ فِي اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فِي ظِلِّ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ ، عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ ، يَفْزَعُ النَّاسُ وَلَا يَفْزَعُونَ ، إِذَا أَرَادَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - بِأَهْلِ الْأَرْضِ عَذَابًا ، ذَكَرَهُمْ فَصَرَفَ عَنْهُمُ الْعَذَابَ بِذِكْرِهِ إِيَّاهُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اللہ تعالیٰ کی خاطر ، ایک دوسرے سے محبت رکھنے والے لوگ قیامت کے دن اللہ تعالی کے سائے میں ہوں گے ، جس دن اس کے سائے کے علاوہ اور کوئی سایہ نہیں ہو گا اور وہ لوگ نور کے بنے ہوئے منبروں پر ہوں گے ، جب ( دوسرے ) لوگ گھبراہٹ کا شکار ہوں گے تو وہ گھبراہٹ کا شکار نہیں ہوں گے ، جب اللہ تعالٰی اہل زمین کو عذاب دینے کا ارادہ کرتا ہے اور پھر ان ( اللہ تعالیٰ کی خاطر آپس میں محبت رکھنے والوں ) کا خیال کرتا ہے ، تو اُن کی وجہ سے اہل زمین سے عذاب کو پھیر دیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18001
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (1350)»