حدیث نمبر: 18005
وَعَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْمُتَحَابُّونَ فِي اللَّهِ عَلَى عَمُودٍ مِنْ يَاقُوتٍ ، لَهُ خَيْمَةٌ مِنْ يَاقُوتَةٍ مُجَوَّفَةٍ ، سِتِّينَ مِيلًا فِي السَّمَاءِ ، لَهُ فِي كُلِّ نَاحِيَةٍ مِنْهَا أَزْوَاجٌ ، لَا يَعْلَمُ بِهِ الْآخَرُونَ ، وَإِنَّ أَحَدَهُمْ لَيُشْرِفُ عَلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَمْلَأُ أَهْلَ الْجَنَّةِ نُورًا حَتَّى يَقُولَ أَهْلُ الْجَنَّةِ : مَا هَذَا الَّذِي قَدْ حَدَثَ ؟ ! فَيَقُولُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : مَا هَذَا الضَّوْءُ الَّذِي قَدْ حَدَثَ ؟ فَيَقُولُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : أَشْرَفَ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنَ الْمُتَحَابِّينَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے لوگ یاقوت کے ستون پر ہوں گے ان کا خیمہ کھوکھلے یاقوت سے بنا ہوا ہو گا جو ساٹھ میل اونچا ہو گا ، اس کے ہر ایک گوشے میں اس شخص کی بیویاں ہوں گی اور اس گوشے کے بارے میں دوسرے گوشے کے لوگ نہیں جانتے ہوں گے ، ان لوگوں میں سے کوئی ایک اہل جنت کی طرف جھانک کر دیکھے گا تو اہل جنت کو نور سے بھر دے گا یہاں تک کہ اہل جنت کہیں گے : یہ کیا چیز ہے ؟ جو سامنے آئی ہے ، تو ان میں سے کوئی ایک دوسرے سے دریافت کرے گا : یہ کیا روشنی ہے ؟ جو سامنے آئی ہے ، تو دوسرا جواب دے گا : ایک دوسرے سے ( اللہ تعالیٰ کی خاطر ) محبت رکھنے والوں میں سے ایک شخص نے تم کو جھانک کر دیکھا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18005
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف