مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ الْمُتَحَابِّينَ فِي اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - . باب: اللہ تعالیٰ کی خاطر ، ایک دوسرے سے محبت کرنے والے افراد
حدیث نمبر: 17999
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ لِلَّهِ جُلَسَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَنْ يَمِينِ الْعَرْشِ ، وَكِلْتَا يَدَيِ اللَّهِ يَمِينٌ ، عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ ، وُجُوهُهُمْ مِنْ نُورٍ ، لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ ، وَلَا شُهَدَاءَ ، وَلَا صِدِّيقِينَ " . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ هُمْ ؟ قَالَ : " هُمُ الْمُتَحَابُّونَ بِجَلَالِ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کو عرش کے دائیں طرف بٹھائے گا ، ویسے اللہ تعالیٰ کے دونوں طرف ہی ” دائیں“ ہیں ، وہ انہیں نور کے بنے ہوئے منبروں پر بٹھائے گا ، ان لوگوں کے چہرے نور ہوں گے ، وہ انبیاء یا شہداء یا صدیقین نہیں ہوں گے ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! وہ کون ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھنے والے لوگ ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔