مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ الْمُتَحَابِّينَ فِي اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - . باب: اللہ تعالیٰ کی خاطر ، ایک دوسرے سے محبت کرنے والے افراد
عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ : أَنَّهُ جَمَعَ قَوْمَهُ - قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ : - ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، اسْمَعُوا وَاعْقِلُوا ، وَاعْلَمُوا أَنَّ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - عِبَادًا لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ ، يَغْبِطُهُمُ النَّبِيُّونَ وَالشُّهَدَاءُ عَلَى مَنَازِلِهِمْ ، وَقُرْبِهِمْ مِنَ اللَّهِ " . فَجَثَا رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَابِ مِنْ قَاصِيَةِ النَّاسِ ، وَأَلْوَى بِيَدِهِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَاسٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ ، يَغْبِطُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ وَالشُّهَدَاءُ عَلَى مَجَالِسِهِمْ وَقُرْبِهِمْ [ مِنَ اللَّهِ ] ؟ انْعَتْهُمْ لَنَا حُلَّهُمْ لَنَا - يَعْنِي صِفْهُمْ لَنَا - شَكِّلْهُمْ لَنَا ، فَسُرَّ وَجْهُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسُؤَالِ الْأَعْرَابِيِّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هُمْ نَاسٌ مِنْ أَفْنَاءِ النَّاسِ ، وَنَوَازِعِ الْقَبَائِلِ ، لَمْ تَصِلْ بَيْنَهُمْ أَرْحَامٌ مُتَقَارِبَةٌ ، تَحَابُّوا فِي اللَّهِ وَتَصَافَوْا ، يَضَعُ اللَّهُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ ، فَيُجْلِسُهُمْ عَلَيْهَا ، فَيَجْعَلُ وُجُوهَهُمْ نُورًا ، وَثِيَابَهُمْ نُورًا ، يَفْزَعُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يَفْزَعُونَ ، وَهُمْ أَوْلِيَاءُ اللَّهِ الَّذِينَ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ " . ¤سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے اپنی قوم کو جمع کیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری روایت نقل کی ہے جس میں آگے چل کر وہ یہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف رخ کیا اور ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! سن لو اور سمجھ لو ! اور یہ بات جان لو کہ اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے بندے ہیں جو نہ انبیاء ہوں گے نہ شہداء ہوں گے لیکن انبیاء اور شہداء اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اُن کی قدر و منزلت اور ان کے قرب کے حوالے سے ان پر رشک کریں گے ، ایک دیہاتی شخص جو دور بیٹھا ہوا تھا وہ گھٹنوں کے بل اُٹھا اور اس نے اپنے ہاتھ کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ کیا اور گزارش کی : یا رسول اللہ ! کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو نہ انبیاء ہوں گے اور نہ شہداء ہوں گے لیکن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان کے بیٹھنے کے مقام اور ان کے قرب کے حوالے سے انبیاء اور شہداء ان پر رشک کریں گے ، آپ ان کا حلیہ ہمارے سامنے بیان کریں ، ان کی صفت ہمارے سامنے بیان کریں ، ان کی شکل و صورت ہمارے سامنے بیان کریں ، راوی بیان کرتے ہیں : اس دیہاتی کے سوال پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مسرور ہو گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ مختلف علاقوں اور مختلف قبائل سے تعلق رکھنے والے لوگ ہوں گے ، ان کے درمیان رشتہ داری کا کوئی تعلق نہیں ہو گا ، وہ اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھیں گے اور ایک دوسرے سے تعلق رکھیں گے ، قیامت کے دن اللہ تعالی ان کے لئے نور کے منبر رکھوائے گا اور انہیں ان پر بٹھائے گا ، وہ ان کے چہروں کو نور بنا دے گا ، ان کے کپڑوں کو نور بنا دے گا ، قیامت کے دن ( دوسرے ) لوگ گھبراہٹ کا شکار ہوں گے لیکن یہ لوگ گھبراہٹ کا شکار نہیں ہوں گے اور یہ اللہ کے وہ اولیاء ہوں گے ، جن پر کوئی خوف نہیں ہو گا اور وہ غمگین نہیں ہوں گے ۔ “