کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اسلام اور ایمان کا بیان
عَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْإِسْلَامُ عَلَانِيَةٌ ، وَالْإِيمَانُ فِي الْقَلْبِ " . قَالَ : ثُمَّ يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَى صَدْرِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . قَالَ : ثُمَّ يَقُولُ : " التَّقْوَى هَا هُنَا ، التَّقْوَى هَا هُنَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى بِتَمَامِهِ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ مَا خَلَا عَلِيَّ بْنَ مَسْعَدَةَ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَأَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ وَأَبُو حَاتِمٍ وَابْنُ مَعِينٍ ، وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تھے : ” اسلام علانیہ ہوتا ہے ، اور ایمان دل میں ہوتا ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سینے کی طرف اپنے دست مبارک کے ذریعے تین مرتبہ اشارہ کیا ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : تقویٰ یہاں ہے ، تقویٰ یہاں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے مکمل روایت کے طور پر نقل کی ہے ، جبکہ امام بزار نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے علی بن مسعدہ نامی راوی کے علاوہ ، اس کے تمام رجال صحیح کے رجال ہیں ، اور اُسے بھی ابن حبان ، ابوداؤد طیالسی ، ابوحاتم اور ابن معین نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 160
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 134/3135 اخرجه أبو يعلى فى مسنده 2916 أورده المؤلف فى زوائد المسند 73 اورده المؤلف فى كشف الاستار 20 أورده المؤلف فى المقصد العلى 9»
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْمُؤْمِنُونَ فِي الدُّنْيَا ثَلَاثَةُ أَجْزَاءٍ : الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَالَّذِي يَأْمَنُهُ النَّاسُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ ، ثُمَّ الَّذِي إِذَا أَشْرَفَ لَهُ طَمَعٌ تَرَكَهُ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ دَرَّاجٌ وَقَدْ وُثِّقَ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل کرتے ہیں : ” دنیا میں ایمان والے تین قسم کے ہیں ، وہ لوگ ، جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور پھر کسی شک کا شکار نہیں ہوئے ، اور انہوں نے اپنے اموال اور اپنی جانوں کے ہمراہ ، اللہ کی راہ میں جہاد کیا ( اور دوسری قسم ، وہ اہل ایمان ہیں ) کہ دوسرے لوگ اپنے اموال اور اپنی جانوں کے حوالے سے اُن سے محفوظ ہوں ( اور تیسری قسم ، وہ اہل ایمان ہیں ) کہ جب کوئی لالچ کی چیز ، ان کے سامنے آئے ، تو وہ اللہ کی رضا کے لیے اُسے ترک کر دیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ” دراج “ ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے ، تاہم ایک سے زیادہ افراد نے اسے ضعیف قرار دیا
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 161
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 8/3 اورده المؤلف فى زوائد المسند 74»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الْإِيمَانِ أَنْ يَقُولَ : رَضِيتُ بِاللَّهِ رِبًّا ، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا ، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَقَالَ : لَمْ يَرْوِهِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ إِلَّا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَيْرٍ . ¤ قُلْتُ : ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” ایمان کے حوالے سے آدمی کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ یہ کہے : کہ میں اللہ تعالٰی کے پروردگار ہونے ، سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے رسول ہونے اور اسلام کے دین ہونے سے راضی ہوں ( یعنی ان پر ایمان رکھتا ہوں ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : یہ روایت ہشام بن عروہ کے حوالے سے صرف محمد بن عمیر نے نقل کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی کہتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ابن حبان نے اس راوی کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 162
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 310/3 ح 13673 ، 13674 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 2698»
وَعَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : أَمَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُحَيْمًا أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ أَنْ " لَا يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سحیم رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا : کہ وہ لوگوں کے درمیان یہ اعلان کر دیں : ” جنت میں ، صرف مؤمن ہی داخل ہو گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 163
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى زوائد المسند 94»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَسَّمَ بَيْنَكُمْ أَخْلَاقَكُمْ كَمَا قَسَّمَ بَيْنَكُمْ أَرْزَاقَكُمْ ، وَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يُعْطِي الدُّنْيَا مَنْ يُحِبُّ وَمَنْ لَا يُحِبُّ ، وَلَا يُعْطِي الدِّينَ إِلَّا مَنْ أَحَبَّ ، فَمَنْ أَعْطَاهُ الدِّينَ فَقَدْ أَحَبَّهُ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يُسْلِمُ عَبْدٌ حَتَّى يُسْلِمَ قَلْبُهُ وَلِسَانُهُ ، وَلَا يُؤْمِنُ حَتَّى يَأْمَنَ جَارُهُ بَوَائِقَهُ " . قُلْتُ : وَمَا بَوَائِقُهُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ قَالَ : " غِشُّهُ وَظُلْمُهُ ، وَلَا يَكْسِبُ مَالًا مِنْ حَرَامٍ فَيُنْفِقُ مِنْهُ فَيُبَارَكُ لَهُ فِيهِ ، وَلَا يَتَصَدَّقُ مِنْهُ فَيُقْبَلُ مِنْهُ ، وَلَا يَتْرُكُهُ خَلْفَ ظَهْرِهِ إِلَّا كَانَ زَادَهُ إِلَى النَّارِ ، إِنَّ اللَّهَ لَا يَمْحُو السَّيِّئَ بِالسَّيِّئِ ، وَلَكِنَّهُ يَمْحُو السَّيِّئَ بِالْحَسَنِ ، إِنَّ الْخَبِيثَ لَا يَمْحُو الْخَبِيثَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُ إِسْنَادِهِ بَعْضُهُمْ مَسْتُورٌ ، وَأَكْثَرُهُمْ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان تمہارے اخلاق اُسی طرح تقسیم کیے ہیں ، جس طرح اُس نے تمہارے درمیان تمہارا رزق تقسیم کیا ہے ، بے شک اللہ تعالیٰ دنیا اسے بھی عطا کرتا ہے ، جسے وہ پسند کرتا ہے اور اُسے بھی عطا کرتا ہے ، جسے وہ پسند نہیں کرتا ہے ، لیکن وہ دین صرف اُسے عطا کرتا ہے ، جسے وہ پسند کرتا ہے ، تو جس شخص کو وہ دین عطا کر دے ( تو اس کا مطلب یہ ہو گا : ) کہ وہ اُسے پسند کرتا ہے ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، کوئی بندہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوتا ، جب تک اُس کا دل اور زبان مسلمان نہیں ہوتے ( یا سلامت نہیں رہتے ) اور وہ اُس وقت تک مؤمن نہیں ہوتا ، جب تک اُس کا پڑوی اُس کی زیادتی سے محفوظ نہ ہو ، میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! اُس کی زیادتیوں سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کا دھوکہ دینا اور ظلم کرنا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید ارشاد فرمایا : ) ایسا نہیں ہوتا کہ آدمی نے حرام طور پر مال کمایا ہو ، اور پھر اس میں سے ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کیا ہو ، تو اس کے لیے اُس مال میں برکت ڈال دی گئی ہو ، یا اُس شخص نے اُس مال میں سے صدقہ کیا ہو ، تو وہ اُس کی طرف سے قبول ہو جائے ، اگر وہ ایسا مال اپنے پیچھے چھوڑ کر جاتا ہے ، تو وہ مال جہنم کی طرف جانے کے لیے اُس کا زاد سفر ہو گا ، بے شک اللہ تعالٰی برائی کو برائی کے ذریعے نہیں مٹاتا ہے ، بلکہ وہ برائی کو ، اچھائی کے ذریعے مٹاتا ہے ، کیونکہ خبیث چیز کسی خبیث چیز کو نہیں مٹاتی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند کے بعض راوی مستور ہیں ، جبکہ زیادہ تر ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 164
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 387/1 اورده المؤلف فى زوائد المسند 75»
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَسْتَقِيمُ إِيمَانُ عَبْدٍ حَتَّى يَسْتَقِيمَ قَلْبُهُ ، وَلَا يَسْتَقِيمُ قَلْبُهُ حَتَّى يَسْتَقِيمَ لِسَانُهُ ، وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ حَتَّى يَأْمَنَ جَارُهُ بَوَائِقَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِي إِسْنَادِهِ عَلِيُّ بْنُ مَسْعَدَةَ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ ، وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بندے کا ایمان اُس وقت تک ٹھیک نہیں ہوتا ، جب تک اُس کا دل ٹھیک نہ ہو ، اور اُس کا دل اُس وقت تک ٹھیک نہیں ہوتا ، جب تک اُس کی زبان ٹھیک نہ ہو ، اور آدمی اُس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو گا ، جب تک اُس کا پڑوسی اُس کی زیادتیوں سے محفوظ نہ ہو “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن مسعدہ ہے ، جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 165
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 198/3 اورده المؤلف فى زوائد المسند 77»
وَعَنْ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ يُحْيِي اللَّهُ الْمَوْتَى ؟ قَالَ : " أَمَرَرْتَ بِأَرْضٍ مِنْ أَرْضِكَ مُجْدِبَةً ، ثُمَّ مَرَرْتَ بِهَا مُخْصِبَةً ؟ " قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " كَذَلِكَ النُّشُورُ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الْإِيمَانُ ؟ قَالَ : " أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، وَأَنْ يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْكَ مِمَّا سِوَاهُمَا ، وَأَنْ تَحْتَرِقَ فِي النَّارِ أَحَبُّ إِلَيْكَ مِنْ أَنْ تُشْرِكَ بِاللَّهِ ، وَأَنْ تُحِبَّ غَيْرَ ذِي نَسَبٍ لَا تُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ ، فَإِذَا كُنْتَ كَذَلِكَ فَقَدْ دَخَلَ حُبُّ الْإِيمَانِ فِي قَلْبِكَ كَمَا دَخَلَ حُبُّ الْمَاءِ لِلظَّمْآنِ فِي الْيَوْمِ الْقَائِظِ . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ لِي بِأَنْ أَعْلَمَ أَنِّي مُؤْمِنٌ ؟ قَالَ : " مَا مِنْ أُمَّتِي - أَوْ هَذِهِ الْأُمَّةِ - عَبْدٌ يَعْمَلُ حَسَنَةً فَيَعْلَمُ أَنَّهَا حَسَنَةً ، وَأَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - جَازِيهِ بِهَا خَيْرًا ، وَلَا يَعْمَلُ سَيِّئَةً وَيَسْتَغْفِرُ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - مِنْهَا ، وَيَعْلَمُ أَنَّهُ يَغْفِرُ - إِلَّا وَهُوَ مُؤْمِنٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِي إِسْنَادِهِ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو حَاتِمٍ ، وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورزین عقیلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ مردوں کو کیسے زندہ کرے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا کبھی تمہارا گزر ، اپنے علاقے میں کسی ایسی زمین کے پاس سے ہوا ہے ؟ جو پہلے بنجر تھی اور پھر جب تم اُس کے پاس سے گزرے ، تو وہ سرسبز و شاداب ہو چکی ہو ؟ سیدنا ابورزین رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسی طرح ( انسانوں کو ) دوبارہ زندہ کیا جائے گا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایمان سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی معبود ہے ، اُس کا کوئی شریک نہیں ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اُس کے رسول ہیں ، اور یہ کہ اللہ اور اُس کا رسول ، تمہارے نزدیک ان دونوں کے علاوہ ، ہر ایک سے زیادہ محبوب ہوں ، اور یہ کہ تم آگ میں جل جاؤ یہ تمہارے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو ، کہ تم کسی کو اللہ کا شریک قرار دو ، اور یہ کہ تم کسی ایسے شخص کے ساتھ محبت رکھو ، جو نسب والا نہ ہو ( یعنی جس کے ساتھ کوئی نسبی تعلق نہ ہو ) تم صرف اللہ تعالیٰ کی خاطر ، اُس سے محبت رکھو ! جب تم ایسے ہو جاؤ گے ، تو ایمان کی محبت تمہارے دل میں یوں داخل ہو جائے گی ، جیسے سخت گرم دن میں ، پانی کی محبت پیاسے شخص ( کے دل میں ) داخل ہو جاتی ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں یہ بات کیسے جان سکتا ہوں کہ میں مؤمن ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری امت کا ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس امت کا جو بھی شخص نیکی کرے ، اور وہ یہ جانتا ہو کہ یہ نیکی ہے ، اور اللہ تعالیٰ اُسے اس کی جزائے خیر عطا کرے گا ، یا جو شخص کسی برائی کا ارتکاب کرے اور پھر اُس کے حوالے سے ، اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرے ، اور وہ یہ بات جانتا ہو کہ اللہ تعالیٰ ہی مغفرت کر سکتا ہے ، تو ایسا شخص مؤمن ہو گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن موسیٰ ہے ، جسے یحییٰ بن معین اور ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 166
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «أورده المؤلف فى زوائد المسند 81»
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ مَعَكَ عَلَى هَذَا الْأَمْرِ ؟ قَالَ : " حُرٌّ وَعَبْدٌ " قُلْتُ : مَا الْإِسْلَامُ ؟ قَالَ : " طِيبُ الْكَلَامِ ، وَإِطْعَامُ الطَّعَامِ " . قُلْتُ : مَا الْإِيمَانُ ؟ قَالَ : " الصَّبْرُ وَالسَّمَاحَةُ " . قَالَ : قُلْتُ : أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ " قُلْتُ : أَيُّ الْإِيمَانِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " خُلُقٌ حَسَنٌ " . قُلْتُ : أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " طُولُ الْقُنُوتِ " . قُلْتُ : أَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : أَنْ تَهْجُرَ مَا كَرِهَ رَبُّكَ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى مُسْلِمٌ مِنْهُ : مَنْ مَعَكَ عَلَى هَذَا الْأَمْرِ ؟ قَالَ : حُرٌّ وَعَبْدٌ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِي إِسْنَادِهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفٍ فِيهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ میں اللہ کے رسول کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے دریافت کیا : دین میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دینے والے کون ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : ایک آزاد شخص اور ایک غلام ، میں نے دریافت کیا : اسلام سے مراد کیا ہے ؟ ( یعنی اسلام کی بنیادی تعلیمات کیا ہیں ؟ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اچھی گفتگو کرنا اور کھانا کھلانا ، میں نے دریافت کیا : ایمان سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم نے جواب دیا : صبر اور نرمی ، میں نے دریافت کیا : اسلام میں ( کون سا شخص ) سب سے بہتر ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس کی زبان اور ہاتھ سے ( دوسرے ) مسلمان سلامت رہیں ، میں نے دریافت کیا : ایمان ( یعنی مؤمن کی ) کون کسی چیز سب سے زیادہ فضیلت رکھتی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اچھے اخلاق ، میں نے دریافت کیا : کون سی نماز زیادہ فضیلت رکھتی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : طویل قیام والی ، میں نے دریافت کیا : کون سی ہجرت زیادہ فضیلت رکھتی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ کہ تم اس چیز سے لاتعلق ہو جاؤ ، جو تمہارے پروردگار کو ناپسند ہو ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : کہ امام مسلم نے اس روایت میں سے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اس دین میں آپ کے ساتھ کون ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک آزاد شخص اور ایک غلام “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، اس میں موجود ضعف کے باوجود اس کو ثقہ قرار دیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 167
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 385/4 اورده المؤلف فى زوائد المسند 76»
وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ ، وَالْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ ، وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ السُّوءَ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَبْدٌ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا عَلِيَّ بْنَ زَيْدٍ ، وَقَدْ شَارَكَهُ فِيهِ حُمَيْدٌ وَيُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مومن وہ ہے ، جس سے لوگ امان میں ہوں ، اور مسلمان وہ ہے ، جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان سلامت ( یعنی محفوظ ، رہیں ) ، اور مہاجر وہ ہے ، جو برائی سے لاتعلق ہو جائے ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، ایسا بندہ جنت میں داخل نہیں ہو گا ، جس کا پڑوسی اُس کی زیادتیوں سے محفوظ نہ ہو “ ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف علی بن زید کا معاملہ مختلف ہے ، اس روایت کے بارے میں حمید اور یونس بن عبید نے اس کی مشارکت کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 168
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 154/3 اخرجه الامام ابو يعلى فى مسنده 4171 أورده المؤلف فى زوائد المسند 79 اورده المؤلف فى كشف الاستار 21»
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ السَّالِمَ مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ زَبَّانَ ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وَثَّقَ زَبَّانَ أَبُو حَاتِمٍ ، وَرَوَاهُ زَبَّانُ أَيْضًا فَقَالَ : الْمُسْلِمُ ، بَدَلَ : السَّالِمِ . وَلَيْسَ فِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ . ¤
محمد محی الدین
سہل بن معاذ ، اپنے والد کے حوالے سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سلامتی والا وہ ہے ، جس کی زبان اور ہاتھ سے لوگ محفوظ رہیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے کہ اسے ابن لبیعہ نے زبان سے روایت کیا ہے اور یہ دونوں ضعیف ہیں ، زبان کو ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے ، زبان نے ہی یہ روایت لفظ ” سالم “ کی جگہ لفظ ” مسلم “ کے ساتھ نقل کی ہے ، لیکن اس روایت کی سند میں ابن لہیعہ نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 169
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى زوائد المسند 78»
وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ عَنِ الْمُؤْمِنِ قَالَ : " مَنْ أَمِنَهُ جَارُهُ ، وَلَا يَخَافُ بَوَائِقَهُ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَوْثِيقِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مؤمن کے بارے میں سوال کیا گیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : جس سے اُس کا پڑوسی محفوظ ہو اور جس کی زیادتی کا ( اُس کے پڑوسی کو ) خوف نہ ہو ۔
اس کے بعد راوی نے پوری حدیث نقل کی ہے ، اسے امام ابویعلیٰ نے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے ، اکثر حضرات نے اُس کی توثیق کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 170
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اخرجه الامام ابو يعلى فى مسنده 3897 أورده المؤلف فى المقصد العلى 1»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى عُمَرَ وَمَعَهُ أُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : " أَمُؤْمِنُونَ أَنْتُمْ ؟ " فَسَكَتُوا ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَقَالَ عُمَرُ فِي آخِرِهِمْ : نَعَمْ نُؤْمِنُ عَلَى مَا أَتَيْتَنَا بِهِ ، وَنَحْمَدُ اللَّهَ فِي الرَّخَاءِ ، وَنَصْبِرُ عَلَى الْبَلَاءِ ، وَنُؤْمِنُ بِالْقَضَاءِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مُؤْمِنُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَلَهُ فِي الْكَبِيرِ : فَقَالَ عُمَرُ فِي آخِرِهِمْ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَمِمَّ ذَاكَ ؟ " فَقَالَ عُمَرُ : نَرْجُو ثَوَابًا مِنَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مُؤْمِنُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ " . وَفِي إِسْنَادِهِ يُوسُفُ بْنُ مَيْمُونٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَضْعِيفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس : بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب بھی تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم لوگ مؤمن ہو ؟ تو وہ لوگ خاموش رہے ، ایسا تین مرتبہ ہوا ، آخری مرتبہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں ! اہم اس چیز پر ایمان رکھتے ہیں ، جو آپ ہمارے پاس لے کر آئے ہیں ، ہم خوشحالی پر اللہ کی حمد بیان کرتے ہیں اور آزمائش پر صبر سے کام لیتے ہیں اور تقدیر کے فیصلے پر ایمان رکھتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ( تم لوگ ) مؤمن ہو رب کعبہ کی قسم ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، جبکہ معجم کبیر کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اُن میں سے آخری مرتبہ میں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ کیسے ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : ہم اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید رکھتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( تم لوگ ) مؤمن ہو رب کعبہ کی قسم ! ۔
اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن میمون ہے اسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اکثر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 171
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الأوسط 9427»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا سُئِلَ أَحَدُكُمْ : أَمُؤْمِنٌ ؟ فَلَا يَشُكَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ أَحْمَدُ بْنُ بُدَيْلٍ ، وَثَّقَهُ النَّسَائِيُّ وَأَبُو حَاتِمٍ ، وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب تم میں کسی سے یہ پوچھا: جائے : کیا تم مومن ہو ؟ تو وہ شخص شک کا اظہار نہ کرے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن بدیل ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ اور ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 172
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
وَعَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ : إِنِّي مُؤْمِنٌ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : قُلْ إِنِّي فِي الْجَنَّةِ ، لَكِنَّا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
علقمہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں ، ایک شخص نے یہ کہہ دیا : بے شک میں مومن ہوں سیدنا عبداللہ نے فرمایا : تم یہ بھی کہہ دو : بے شک میں جنتی ہوں ، لیکن ہم ( تو یہ کہتے ہیں : ) ہم اللہ تعالی اس کے فرشتوں اُس کی کتابوں ، اور اُس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 173
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَ أَنْ يَقْدُمَ مِنْ مَكَّةَ يَدْعُو النَّاسَ إِلَى الْإِيمَانِ بِاللَّهِ وَتَصْدِيقًا بِهِ قَوْلًا بِلَا عَمَلٍ ، وَالْقِبْلَةُ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ ، فَلَمَّا هَاجَرَ إِلَيْنَا نَزَلَتِ الْفَرَائِضُ وَنَسَخَتِ الْمَدِينَةُ مَكَّةَ ، وَالْقَوْلَ فِيهَا ، وَنَسَخَ الْبَيْتُ الْحَرَامُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ ، فَصَارَ الْإِيمَانُ قَوْلًا وَعَمَلًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان بن سہیل بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ سے ( مدینہ منورہ ) تشریف لانے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو اللہ پر ایمان لانے کی دعوت دیتے تھے اور قول کے ذریعے اُس کی تصدیق کرنے ( کی دعوت دیتے تھے ) اس میں عمل کی شرط نہیں ہوتی تھی ، اس وقت قبلہ ، بیت المقدس تھا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے ہماری طرف تشریف لے آئے ، اور فرائض کے احکام نازل ہو گئے ، تو مدینہ نے مکہ ( یعنی وہاں کے احکام ) کو منسوخ کر دیا اور اس بارے میں قول ( یعنی ایمان کے لیے عمل کی شرط کے بغیر ، صرف زبانی اقرار کافی ہونے کے حکم کو منسوخ کر دیا گیا ) اور بیت الحرام ( کے قبلہ ہونے کے حکم نے ) بیت المقدس کو منسوخ کر دیا ، تو ایمان ، قول اور عمل ( کے مجموعہ کا نام ) ہو گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ( راویوں کی ) ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 174
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 8312»
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ : أَنْ يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا ، وَأَنْ يُحِبَّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ ، وَأَنْ لَا يَرْجِعُ فِي الْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنْقَذَهُ اللَّهُ مِنْهُ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُلْقَى فِي النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ فَضَالُ بْنُ جُبَيْرٍ ، لَا يَحِلُّ الِاحْتِجَاجُ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تین چیزیں ، جس شخص میں موجود ہوں گی ، وہ ایمان کی حلاوت کو پا لے گا ، ایک یہ کہ اللہ اور اس کا رسول اس کے نزدیک ، ان دونوں کے علاوہ ، ہر ایک سے زیادہ محبوب ہوں ، اور یہ کہ وہ کسی شخص کے ساتھ صرف ، اللہ تعالی کی خاطر محبت رکھے ، اور یہ کہ جب اللہ تعالٰی نے اُسے کفر سے بچا لیا ہے ، تو وہ کفر کی طرف واپس نہ جائے ( وہ کفر کی طرف واپس جانے کو ) اسی طرح ناپسند کرے ، جس طرح وہ آگ میں ڈالے جانے کو ناپسند کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی فضال بن جبیر ہے ، جس سے استدلال کرنا جائز نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 175
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 8019»
وَعَنْ قَتَادَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ يَجِدُ بِهِنَّ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ : تَرْكُ الْمِرَاءِ فِي الْحَقِّ ، وَالْكَذِبِ فِي الْمِزَاحِةِ ، وَيَعْلَمُ أَنَّ مَا أَصَابَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَهُ ، وَأَنَّ مَا أَخْطَأَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَقَتَادَةُ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ ابْنِ مَسْعُودٍ . . ¤
محمد محی الدین
قتادہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” تین چیزیں جس میں ہوں گی ، وہ اُن کی وجہ سے ایمان کی حلاوت پا لے گا حق کے بارے میں بحث ( کو ترک کرنا ) مذاق کے طور پر جھوٹ بولنے کو ترک کرنا اور اس بات کا یقین رکھنا کہ جو چیز آدمی کو ملنی ہے ، وہ اُسے ملے بغیر نہیں رہے گی ، اور جو چیز اسے نہیں ملنی ہے ، وہ ( کسی صورت میں ) نہیں ملے گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور قتادہ نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 176
درجۂ حدیث محدثین: منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 8790»
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ نَوْفَلِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَقُلْنَا : حَدِّثْنَا بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ حُرِّمَ عَلَى النَّارِ وَحُرِّمَتِ النَّارُ عَلَيْهِ : إِيمَانٌ بِاللَّهِ ، وَحُبُّ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَأَنْ يُلْقَى فِي النَّارِ فَيَحْتَرِقَ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الْكُفْرِ " . ¤ قُلْتُ : لَهُ فِي الصَّحِيحِ حَدِيثٌ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَنَوْفَلُ بْنُ مَسْعُودٍ لَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَ لَهُ تَرْجَمَةً ، إِلَّا أَنَّ الْمِزِّيَّ قَالَ فِي تَرْجَمَةِ يَحْيَى الْقَطَّانِ : رَوَى عَنْ نَوْفَلِ بْنِ مَسْعُودٍ صَاحِبِ أَنَسٍ . ¤
محمد محی الدین
یحییٰ بن سعید نے نوفل بن مسعود کا یہ بیان نقل کیا ہے : ہم لوگ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم نے کہا: آپ ہمیں کوئی ایسی حدیث بیان کیجیے ! جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو ، تو انہوں نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تین چیزیں ، جس شخص میں ہوں گی ، اُسے آگ پر حرام قرار دیدیا جائے گا ، اور آگ کو اُس پر حرام قرار دیدیا جائے گا اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنا ، اللہ تعالیٰ سے محبت رکھنا ، اور آگ میں ڈالے جا کر جل جانا ، اُس کے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو ، کہ وہ کفر کی طرف واپس چلا جائے “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اُن کے حوالے سے ” صحیح “ میں یہ حدیث مذکور ہے ، لیکن وہ اس سیاق کے بغیر ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور نوفل بن مسعود کے بارے میں ، میں نے کسی کو نہیں دیکھا ، کہ کسی نے اُس کے حالات ذکر کئے ہوں ، صرف امام مزی نے یحییٰ القطان کے حالات میں یہ بات کہی ہے : انہوں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے شاگرد نوفل بن مسعود سے روایات نقل کی ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 177
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 113/3 أخرجه الامام ابو يعلى فى مسنده 4266 أورده المؤلف فى زوائد المسند 95 أورده المؤلف فى المقصد العلى 30»
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ فَقَدْ ذَاقَ طَعْمَ الْإِيمَانِ : مَنْ كَانَ لَا شَيْءَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، وَمَنْ كَانَ أَنْ يُحْرَقَ فِي النَّارِ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَرْتَدَّ عَنْ دِينِهِ ، وَمَنْ كَانَ يُحِبُّ لِلَّهِ وَيُبْغِضُ لِلَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ ، وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلِهِ : " وَيُبْغِضُ لِلَّهِ " ، وَفِي إِسْنَادِهِ أَبُو الْحُوَيْرِثِ ، ضَعَّفَهُ مَالِكٌ وَابْنُ مَعِينٍ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تین چیزیں ، جس شخص میں ہوں گی ، وہ ایمان کا ذائقہ چکھ لے گا ، وہ شخص کہ کوئی بھی چیز اُس کے نزدیک ، اللہ اور اُس کے رسول سے زیادہ محبوب نہ ہو ، اور وہ شخص کہ جس کے نزدیک آگ میں جل جانا اس سے زیادہ محبوب ہو کہ وہ اپنے دین ( یعنی اسلام ) کو چھوڑ دے ، اور وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی خاطر ( کسی سے ) محبت رکھتا ہو اور اللہ تعالٰی کی خاطر ( کسی سے ) بغض رکھتا ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور یہ ” صحیح “ میں بھی منقول ہے ، صرف یہ الفاظ نہیں ہیں : ” وہ اللہ تعالیٰ کی خاطر بغض رکھتا ہو “ اس کی سند میں ایک راوی ابوحویرث ہے ، جسے امام مالک اور یحییٰ بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ، جبکہ ابن حبان نے اُسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 178
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 103/3172174230 ، 24827 ، 5288 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 724، اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الصغير 258/1»
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنِ الْمُسْلِمُ ؟ قَالَ : " مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ فَضَالُ بْنُ جُبَيْرٍ لَا يَحِلُّ الِاحْتِجَاجُ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! مسلمان کون ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ جس کی زبان اور ہاتھ سے ( دوسرے ) مسلمان سلامت ( یعنی محفوظ ) رہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فضال بن جبیر ہے ، جس سے استدلال کرنا جائز نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 179
درجۂ حدیث محدثین: إسناده موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 8021 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 2543»
وَعَنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنِيِّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مسلمان وہ ہے ، جس کی زبان اور ہاتھ سے ، ( دوسرے ) مسلمان محفوظ رہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 180
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الأوسط 3745»
وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حِجَّةِ الْوَدَاعِ : " وَالْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : حجتہ الوداع کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اور مسلمان وہ ہے ، جس کی زبان اور ہاتھ سے ( دوسرے ) مسلمان محفوظ رہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہو گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 181
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن