حدیث نمبر: 167
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ مَعَكَ عَلَى هَذَا الْأَمْرِ ؟ قَالَ : " حُرٌّ وَعَبْدٌ " قُلْتُ : مَا الْإِسْلَامُ ؟ قَالَ : " طِيبُ الْكَلَامِ ، وَإِطْعَامُ الطَّعَامِ " . قُلْتُ : مَا الْإِيمَانُ ؟ قَالَ : " الصَّبْرُ وَالسَّمَاحَةُ " . قَالَ : قُلْتُ : أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ " قُلْتُ : أَيُّ الْإِيمَانِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " خُلُقٌ حَسَنٌ " . قُلْتُ : أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " طُولُ الْقُنُوتِ " . قُلْتُ : أَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : أَنْ تَهْجُرَ مَا كَرِهَ رَبُّكَ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى مُسْلِمٌ مِنْهُ : مَنْ مَعَكَ عَلَى هَذَا الْأَمْرِ ؟ قَالَ : حُرٌّ وَعَبْدٌ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِي إِسْنَادِهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفٍ فِيهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ میں اللہ کے رسول کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے دریافت کیا : دین میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دینے والے کون ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : ایک آزاد شخص اور ایک غلام ، میں نے دریافت کیا : اسلام سے مراد کیا ہے ؟ ( یعنی اسلام کی بنیادی تعلیمات کیا ہیں ؟ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اچھی گفتگو کرنا اور کھانا کھلانا ، میں نے دریافت کیا : ایمان سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم نے جواب دیا : صبر اور نرمی ، میں نے دریافت کیا : اسلام میں ( کون سا شخص ) سب سے بہتر ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس کی زبان اور ہاتھ سے ( دوسرے ) مسلمان سلامت رہیں ، میں نے دریافت کیا : ایمان ( یعنی مؤمن کی ) کون کسی چیز سب سے زیادہ فضیلت رکھتی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اچھے اخلاق ، میں نے دریافت کیا : کون سی نماز زیادہ فضیلت رکھتی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : طویل قیام والی ، میں نے دریافت کیا : کون سی ہجرت زیادہ فضیلت رکھتی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ کہ تم اس چیز سے لاتعلق ہو جاؤ ، جو تمہارے پروردگار کو ناپسند ہو ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : کہ امام مسلم نے اس روایت میں سے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اس دین میں آپ کے ساتھ کون ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک آزاد شخص اور ایک غلام “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، اس میں موجود ضعف کے باوجود اس کو ثقہ قرار دیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 167
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 385/4 اورده المؤلف فى زوائد المسند 76»