حدیث نمبر: 166
وَعَنْ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ يُحْيِي اللَّهُ الْمَوْتَى ؟ قَالَ : " أَمَرَرْتَ بِأَرْضٍ مِنْ أَرْضِكَ مُجْدِبَةً ، ثُمَّ مَرَرْتَ بِهَا مُخْصِبَةً ؟ " قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " كَذَلِكَ النُّشُورُ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الْإِيمَانُ ؟ قَالَ : " أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، وَأَنْ يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْكَ مِمَّا سِوَاهُمَا ، وَأَنْ تَحْتَرِقَ فِي النَّارِ أَحَبُّ إِلَيْكَ مِنْ أَنْ تُشْرِكَ بِاللَّهِ ، وَأَنْ تُحِبَّ غَيْرَ ذِي نَسَبٍ لَا تُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ ، فَإِذَا كُنْتَ كَذَلِكَ فَقَدْ دَخَلَ حُبُّ الْإِيمَانِ فِي قَلْبِكَ كَمَا دَخَلَ حُبُّ الْمَاءِ لِلظَّمْآنِ فِي الْيَوْمِ الْقَائِظِ . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ لِي بِأَنْ أَعْلَمَ أَنِّي مُؤْمِنٌ ؟ قَالَ : " مَا مِنْ أُمَّتِي - أَوْ هَذِهِ الْأُمَّةِ - عَبْدٌ يَعْمَلُ حَسَنَةً فَيَعْلَمُ أَنَّهَا حَسَنَةً ، وَأَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - جَازِيهِ بِهَا خَيْرًا ، وَلَا يَعْمَلُ سَيِّئَةً وَيَسْتَغْفِرُ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - مِنْهَا ، وَيَعْلَمُ أَنَّهُ يَغْفِرُ - إِلَّا وَهُوَ مُؤْمِنٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِي إِسْنَادِهِ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو حَاتِمٍ ، وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابورزین عقیلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ مردوں کو کیسے زندہ کرے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا کبھی تمہارا گزر ، اپنے علاقے میں کسی ایسی زمین کے پاس سے ہوا ہے ؟ جو پہلے بنجر تھی اور پھر جب تم اُس کے پاس سے گزرے ، تو وہ سرسبز و شاداب ہو چکی ہو ؟ سیدنا ابورزین رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسی طرح ( انسانوں کو ) دوبارہ زندہ کیا جائے گا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایمان سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی معبود ہے ، اُس کا کوئی شریک نہیں ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اُس کے رسول ہیں ، اور یہ کہ اللہ اور اُس کا رسول ، تمہارے نزدیک ان دونوں کے علاوہ ، ہر ایک سے زیادہ محبوب ہوں ، اور یہ کہ تم آگ میں جل جاؤ یہ تمہارے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو ، کہ تم کسی کو اللہ کا شریک قرار دو ، اور یہ کہ تم کسی ایسے شخص کے ساتھ محبت رکھو ، جو نسب والا نہ ہو ( یعنی جس کے ساتھ کوئی نسبی تعلق نہ ہو ) تم صرف اللہ تعالیٰ کی خاطر ، اُس سے محبت رکھو ! جب تم ایسے ہو جاؤ گے ، تو ایمان کی محبت تمہارے دل میں یوں داخل ہو جائے گی ، جیسے سخت گرم دن میں ، پانی کی محبت پیاسے شخص ( کے دل میں ) داخل ہو جاتی ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں یہ بات کیسے جان سکتا ہوں کہ میں مؤمن ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری امت کا ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس امت کا جو بھی شخص نیکی کرے ، اور وہ یہ جانتا ہو کہ یہ نیکی ہے ، اور اللہ تعالیٰ اُسے اس کی جزائے خیر عطا کرے گا ، یا جو شخص کسی برائی کا ارتکاب کرے اور پھر اُس کے حوالے سے ، اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرے ، اور وہ یہ بات جانتا ہو کہ اللہ تعالیٰ ہی مغفرت کر سکتا ہے ، تو ایسا شخص مؤمن ہو گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن موسیٰ ہے ، جسے یحییٰ بن معین اور ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 166
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «أورده المؤلف فى زوائد المسند 81»