مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْإِسْلَامِ وَالْإِيمَانِ . باب: اسلام اور ایمان کا بیان
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَ أَنْ يَقْدُمَ مِنْ مَكَّةَ يَدْعُو النَّاسَ إِلَى الْإِيمَانِ بِاللَّهِ وَتَصْدِيقًا بِهِ قَوْلًا بِلَا عَمَلٍ ، وَالْقِبْلَةُ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ ، فَلَمَّا هَاجَرَ إِلَيْنَا نَزَلَتِ الْفَرَائِضُ وَنَسَخَتِ الْمَدِينَةُ مَكَّةَ ، وَالْقَوْلَ فِيهَا ، وَنَسَخَ الْبَيْتُ الْحَرَامُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ ، فَصَارَ الْإِيمَانُ قَوْلًا وَعَمَلًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤سیدنا عثمان بن سہیل بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ سے ( مدینہ منورہ ) تشریف لانے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو اللہ پر ایمان لانے کی دعوت دیتے تھے اور قول کے ذریعے اُس کی تصدیق کرنے ( کی دعوت دیتے تھے ) اس میں عمل کی شرط نہیں ہوتی تھی ، اس وقت قبلہ ، بیت المقدس تھا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے ہماری طرف تشریف لے آئے ، اور فرائض کے احکام نازل ہو گئے ، تو مدینہ نے مکہ ( یعنی وہاں کے احکام ) کو منسوخ کر دیا اور اس بارے میں قول ( یعنی ایمان کے لیے عمل کی شرط کے بغیر ، صرف زبانی اقرار کافی ہونے کے حکم کو منسوخ کر دیا گیا ) اور بیت الحرام ( کے قبلہ ہونے کے حکم نے ) بیت المقدس کو منسوخ کر دیا ، تو ایمان ، قول اور عمل ( کے مجموعہ کا نام ) ہو گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ( راویوں کی ) ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔