حدیث نمبر: 177
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ نَوْفَلِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَقُلْنَا : حَدِّثْنَا بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ حُرِّمَ عَلَى النَّارِ وَحُرِّمَتِ النَّارُ عَلَيْهِ : إِيمَانٌ بِاللَّهِ ، وَحُبُّ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَأَنْ يُلْقَى فِي النَّارِ فَيَحْتَرِقَ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الْكُفْرِ " . ¤ قُلْتُ : لَهُ فِي الصَّحِيحِ حَدِيثٌ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَنَوْفَلُ بْنُ مَسْعُودٍ لَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَ لَهُ تَرْجَمَةً ، إِلَّا أَنَّ الْمِزِّيَّ قَالَ فِي تَرْجَمَةِ يَحْيَى الْقَطَّانِ : رَوَى عَنْ نَوْفَلِ بْنِ مَسْعُودٍ صَاحِبِ أَنَسٍ . ¤
محمد محی الدین

یحییٰ بن سعید نے نوفل بن مسعود کا یہ بیان نقل کیا ہے : ہم لوگ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم نے کہا: آپ ہمیں کوئی ایسی حدیث بیان کیجیے ! جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو ، تو انہوں نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تین چیزیں ، جس شخص میں ہوں گی ، اُسے آگ پر حرام قرار دیدیا جائے گا ، اور آگ کو اُس پر حرام قرار دیدیا جائے گا اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنا ، اللہ تعالیٰ سے محبت رکھنا ، اور آگ میں ڈالے جا کر جل جانا ، اُس کے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو ، کہ وہ کفر کی طرف واپس چلا جائے “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اُن کے حوالے سے ” صحیح “ میں یہ حدیث مذکور ہے ، لیکن وہ اس سیاق کے بغیر ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور نوفل بن مسعود کے بارے میں ، میں نے کسی کو نہیں دیکھا ، کہ کسی نے اُس کے حالات ذکر کئے ہوں ، صرف امام مزی نے یحییٰ القطان کے حالات میں یہ بات کہی ہے : انہوں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے شاگرد نوفل بن مسعود سے روایات نقل کی ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 177
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 113/3 أخرجه الامام ابو يعلى فى مسنده 4266 أورده المؤلف فى زوائد المسند 95 أورده المؤلف فى المقصد العلى 30»