عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " خَمْسٌ مِنَ الْإِيمَانِ ، مَنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ شَيْءٌ مِنْهَا فَلَا إِيمَانَ لَهُ : التَّسْلِيمُ لِأَمْرِ اللَّهِ ، وَالرِّضَا بِقَضَاءِ اللَّهِ ، وَالتَّفْوِيضُ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ ، وَالتَّوَكُّلُ عَلَى اللَّهِ ، وَالصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى . وَلَمْ يَطْعَمِ امْرٌؤٌ حَقِيقَةَ الْإِسْلَامِ حَتَّى يَأْمَنَهُ النَّاسُ عَلَى دِمَائِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ " ، فَقَالَ قَائِلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ ، عَلَامَاتٌ كَمَنَارِ الطَّرِيقِ : شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ ، وَالْحُكْمُ بِكِتَابِ اللَّهِ وَطَاعَةُ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ ، وَالتَّسْلِيمُ عَلَى بَنِي آدَمَ إِذَا لَقِيتُمُوهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ وَلَا يُحْتَجُّ بِهِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” پانچ چیزیں ایمان میں سے ہیں ، جس شخص میں ان میں سے کوئی چیز نہیں ہو گی ، اُس کا ایمان نہیں ہو گا ، اللہ تعالی کے حکم کو تسلیم کرنا ، اللہ تعالی کے ( یعنی تقدیر کے ) فیصلے سے راضی رہنا ، معاملات کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنا ، اللہ تعالیٰ پر توکل کرنا اور صدمے کے آغاز میں صبر کرنا آدمی اسلام کی حقیقت تک اُس وقت تک نہیں پہنچ سکتا ، جب تک لوگ اپنی جانوں اور اموال کے حوالے سے ، اُس سے محفوظ نہ ہوں “ ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کون سا اسلام زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اُس شخص کا ، جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں ، راستے کے نشان کی طرح ، اس کی کچھ علامات ہیں اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، نماز قائم کرنا ، زکوۃ ادا کرنا ، اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ دینا ، امی نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی فرمانبرداری کرنا ، اور جب بنی نوع انسان ( میں سے کسی سے بھی ) تمہاری ملاقات ہو ، تو انہیں سلام کرنا “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی سعید بن سنان ہے ، جس سے استدلال نہیں کیا جائے گا ۔