مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْإِسْلَامِ وَالْإِيمَانِ . باب: اسلام اور ایمان کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى عُمَرَ وَمَعَهُ أُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : " أَمُؤْمِنُونَ أَنْتُمْ ؟ " فَسَكَتُوا ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَقَالَ عُمَرُ فِي آخِرِهِمْ : نَعَمْ نُؤْمِنُ عَلَى مَا أَتَيْتَنَا بِهِ ، وَنَحْمَدُ اللَّهَ فِي الرَّخَاءِ ، وَنَصْبِرُ عَلَى الْبَلَاءِ ، وَنُؤْمِنُ بِالْقَضَاءِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مُؤْمِنُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَلَهُ فِي الْكَبِيرِ : فَقَالَ عُمَرُ فِي آخِرِهِمْ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَمِمَّ ذَاكَ ؟ " فَقَالَ عُمَرُ : نَرْجُو ثَوَابًا مِنَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مُؤْمِنُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ " . وَفِي إِسْنَادِهِ يُوسُفُ بْنُ مَيْمُونٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَضْعِيفِهِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس : بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب بھی تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم لوگ مؤمن ہو ؟ تو وہ لوگ خاموش رہے ، ایسا تین مرتبہ ہوا ، آخری مرتبہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں ! اہم اس چیز پر ایمان رکھتے ہیں ، جو آپ ہمارے پاس لے کر آئے ہیں ، ہم خوشحالی پر اللہ کی حمد بیان کرتے ہیں اور آزمائش پر صبر سے کام لیتے ہیں اور تقدیر کے فیصلے پر ایمان رکھتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ( تم لوگ ) مؤمن ہو رب کعبہ کی قسم ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، جبکہ معجم کبیر کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اُن میں سے آخری مرتبہ میں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ کیسے ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : ہم اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید رکھتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( تم لوگ ) مؤمن ہو رب کعبہ کی قسم ! ۔
اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن میمون ہے اسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اکثر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔