حدیث نمبر: 161
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْمُؤْمِنُونَ فِي الدُّنْيَا ثَلَاثَةُ أَجْزَاءٍ : الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَالَّذِي يَأْمَنُهُ النَّاسُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ ، ثُمَّ الَّذِي إِذَا أَشْرَفَ لَهُ طَمَعٌ تَرَكَهُ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ دَرَّاجٌ وَقَدْ وُثِّقَ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل کرتے ہیں : ” دنیا میں ایمان والے تین قسم کے ہیں ، وہ لوگ ، جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور پھر کسی شک کا شکار نہیں ہوئے ، اور انہوں نے اپنے اموال اور اپنی جانوں کے ہمراہ ، اللہ کی راہ میں جہاد کیا ( اور دوسری قسم ، وہ اہل ایمان ہیں ) کہ دوسرے لوگ اپنے اموال اور اپنی جانوں کے حوالے سے اُن سے محفوظ ہوں ( اور تیسری قسم ، وہ اہل ایمان ہیں ) کہ جب کوئی لالچ کی چیز ، ان کے سامنے آئے ، تو وہ اللہ کی رضا کے لیے اُسے ترک کر دیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ” دراج “ ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے ، تاہم ایک سے زیادہ افراد نے اسے ضعیف قرار دیا

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 161
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 8/3 اورده المؤلف فى زوائد المسند 74»