مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْإِسْلَامِ وَالْإِيمَانِ . باب: اسلام اور ایمان کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَسَّمَ بَيْنَكُمْ أَخْلَاقَكُمْ كَمَا قَسَّمَ بَيْنَكُمْ أَرْزَاقَكُمْ ، وَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يُعْطِي الدُّنْيَا مَنْ يُحِبُّ وَمَنْ لَا يُحِبُّ ، وَلَا يُعْطِي الدِّينَ إِلَّا مَنْ أَحَبَّ ، فَمَنْ أَعْطَاهُ الدِّينَ فَقَدْ أَحَبَّهُ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يُسْلِمُ عَبْدٌ حَتَّى يُسْلِمَ قَلْبُهُ وَلِسَانُهُ ، وَلَا يُؤْمِنُ حَتَّى يَأْمَنَ جَارُهُ بَوَائِقَهُ " . قُلْتُ : وَمَا بَوَائِقُهُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ قَالَ : " غِشُّهُ وَظُلْمُهُ ، وَلَا يَكْسِبُ مَالًا مِنْ حَرَامٍ فَيُنْفِقُ مِنْهُ فَيُبَارَكُ لَهُ فِيهِ ، وَلَا يَتَصَدَّقُ مِنْهُ فَيُقْبَلُ مِنْهُ ، وَلَا يَتْرُكُهُ خَلْفَ ظَهْرِهِ إِلَّا كَانَ زَادَهُ إِلَى النَّارِ ، إِنَّ اللَّهَ لَا يَمْحُو السَّيِّئَ بِالسَّيِّئِ ، وَلَكِنَّهُ يَمْحُو السَّيِّئَ بِالْحَسَنِ ، إِنَّ الْخَبِيثَ لَا يَمْحُو الْخَبِيثَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُ إِسْنَادِهِ بَعْضُهُمْ مَسْتُورٌ ، وَأَكْثَرُهُمْ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان تمہارے اخلاق اُسی طرح تقسیم کیے ہیں ، جس طرح اُس نے تمہارے درمیان تمہارا رزق تقسیم کیا ہے ، بے شک اللہ تعالیٰ دنیا اسے بھی عطا کرتا ہے ، جسے وہ پسند کرتا ہے اور اُسے بھی عطا کرتا ہے ، جسے وہ پسند نہیں کرتا ہے ، لیکن وہ دین صرف اُسے عطا کرتا ہے ، جسے وہ پسند کرتا ہے ، تو جس شخص کو وہ دین عطا کر دے ( تو اس کا مطلب یہ ہو گا : ) کہ وہ اُسے پسند کرتا ہے ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، کوئی بندہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوتا ، جب تک اُس کا دل اور زبان مسلمان نہیں ہوتے ( یا سلامت نہیں رہتے ) اور وہ اُس وقت تک مؤمن نہیں ہوتا ، جب تک اُس کا پڑوی اُس کی زیادتی سے محفوظ نہ ہو ، میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! اُس کی زیادتیوں سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کا دھوکہ دینا اور ظلم کرنا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید ارشاد فرمایا : ) ایسا نہیں ہوتا کہ آدمی نے حرام طور پر مال کمایا ہو ، اور پھر اس میں سے ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کیا ہو ، تو اس کے لیے اُس مال میں برکت ڈال دی گئی ہو ، یا اُس شخص نے اُس مال میں سے صدقہ کیا ہو ، تو وہ اُس کی طرف سے قبول ہو جائے ، اگر وہ ایسا مال اپنے پیچھے چھوڑ کر جاتا ہے ، تو وہ مال جہنم کی طرف جانے کے لیے اُس کا زاد سفر ہو گا ، بے شک اللہ تعالٰی برائی کو برائی کے ذریعے نہیں مٹاتا ہے ، بلکہ وہ برائی کو ، اچھائی کے ذریعے مٹاتا ہے ، کیونکہ خبیث چیز کسی خبیث چیز کو نہیں مٹاتی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند کے بعض راوی مستور ہیں ، جبکہ زیادہ تر ثقہ ہیں ۔