کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان کا بیان جنہوں نے حجِ قران کو اختیار کیا اور ان کا یہ گمان ہے کہ نبی ﷺ حجِ قران کرنے والے (قارن) تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَبْدَوِيُّ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدَةَ التَّمِيمِيُّ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ التُّرْكُ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، وَحُمَيْدٍ أَنَّهُمْ سَمِعُوا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ: " سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ بِهِمَا جَمِيعًا لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا، لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دونوں کا تلبیہ اکٹھا کہتے ہوئے سنا: «لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا، لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا» ”میں حاضر ہوں عمرہ اور حج کے لیے، میں حاضر ہوں عمرہ اور حج کے لیے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي بِالْعُمْرَةِ وَالْحَجِّ جَمِيعًا، قَالَ: فَحَدَّثْتُ بِذَلِكَ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: إِنَّمَا أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَحْدَهُ، قَالَ: فَلَقِيتُ أَنَسًا، فَحدَّثْتُهُ بِقَوْلِ ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ: مَا يَعُدُّونَنَا إِلَّا صِبْيَانًا، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجَّةً " ⦗١٤⦘ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُرَيْجِ بْنِ يُونُسَ عَنْ هُشَيْمٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، مِنْ حَدِيثِ بِشْرِ بْنِ الْمُفَضَّلِ عَنْ حُمَيْدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو حج و عمرہ دونوں کا اکٹھا تلبیہ کہتے ہوئے سنا۔ بکر بن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے یہ بات سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو بتائی تو انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ نے تو صرف حج کا تلبیہ کہا تھا، فرماتے ہیں کہ میں پھر سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو ملا اور یہ بات سنائی تو وہ کہنے لگے کہ وہ تو ہمیں بچہ ہی سمجھتے ہیں، میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو «لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجَّةً» ”میں حاضر ہوں عمرہ اور حج کے لیے“ کہتے ہوئے سنا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، وَغَيْرِهِ أَنَّ رَجُلًا أَتَى ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: بِمَ أَهَلَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: " أَهَلَّ بِالْحَجِّ "، فَانْصَرَفَ، ثُمَّ أَتَاهُ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ، فَقَالَ: بِمَ أَهَلَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: " أَلَمْ تَأْتِنِي عَامَ أَوَّلَ؟ "، قَالَ: بَلَى، وَلَكِنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَزْعُمُ أَنَّهُ قَرَنَ، قَالَ: ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ كَانَ يَدْخُلُ عَلَى النِّسَاءِ وَهُنَّ مُكَشِّفَاتُ الرُّءُوسِ، وَإِنِّي كُنْتُ تَحْتَ نَاقَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَمَسُّنِي لُعَابُهَا أَسْمَعُهُ يُلَبِّي بِالْحَجِّ ".
حافظ ثناء اللہ
ایک شخص سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نے کیا تلبیہ کہا تھا؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ صرف حج کا تلبیہ کہا تھا، پھر وہ اگلے سال آیا اور ان سے پھر پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نے کس طرح تلبیہ کہا تھا؟ انہوں نے کہا: کیا تو گزشتہ سال نہیں آیا تھا کیا؟ کہنے لگا: کیوں نہیں، لیکن سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ تو سمجھتے ہیں کہ انہوں نے حج قران کیا تھا، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہنے لگے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ تو عورتوں میں چلے جاتے تھے جبکہ وہ سر کھولے ہوتی تھیں اور میں رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی کے نیچے تھا، اس کا لعاب مجھے چھو رہا تھا، میں نے انہیں حج کا تلبیہ کہتے ہوئے سنا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى، ثنا وُهَيْبٌ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاتَ بِهَا يَعْنِي بِذِي الْحُلَيْفَةِ حَتَّى أَصْبَحَ، ثُمَّ رَكِبَ حَتَّى إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ حَمِدَ، وَسَبَّحَ، وَكَبَّرَ، ثُمَّ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ، وَأَهَلَّ النَّاسُ بِهِمَا، فَلَمَّا قَدِمْنَا أَمَرَ النَّاسَ فَحَلُّوا حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَهَلُّوا بِالْحَجِّ، وَنَحَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ بَدَنَاتٍ بِيَدِهِ قِيَامًا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، كَذَا قَالَ وُهَيْبٌ عَنْ أَيُّوبَ، وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ فَأَضَافَ ذَلِكَ إِلَى غَيْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ذوالحلیفہ میں رات گزاری حتیٰ کہ صبح ہوئی، پھر سوار ہو کر جب بیداء پر پہنچے تو اللہ کی حمد، تسبیح اور تکبیر بیان کی اور حج و عمرہ کا تلبیہ کہا اور لوگوں نے بھی حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ کہا، تو جب ہم پہنچے تو آپ ﷺ نے لوگوں کو حکم دیا، وہ حلال ہو گئے، حتیٰ کہ جب یومِ ترویہ تھا تو انہوں نے حج کا تلبیہ کہا اور نبی کریم ﷺ نے اپنے ہاتھ کے ساتھ سات کھڑے اونٹ نحر کیے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ⦗١٥⦘ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْقَطِرَانِيُّ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، قَالَ: ثنا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا، وَالْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ "، قَالَ أَنَسٌ: " وَسَمِعْتُهُمْ يَصْرُخُونَ بِهِمَا جَمِيعًا الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ " لَفْظُ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي الرَّبِيعِ:.
حافظ ثناء اللہ
انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں ظہر کی چار رکعتیں پڑھیں اور ذوالحلیفہ میں عصر کی دو رکعتیں ادا کیں اور میں نے ان سب کو حج و عمرہ کا تلبیہ کہتے ہوئے سنا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادٌ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ. قَالَ سُلَيْمَانُ: سَمِعَ أَبُو قِلَابَةَ، هَذَا مِنْ أَنَسٍ وَهُوَ فَقِيهٌ، وَرَوَى حُمَيْدٌ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُلَبِّي بِعُمْرَةٍ وَحَجٍّ "، قَالَ: وَلَمْ يَحْفَظَا إِنَّمَا الصَّحِيحُ مَا قَالَهُ أَبُو قِلَابَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْرَدَ الْحَجَّ، وَقَدْ جَمَعَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، فَإِنَّمَا سَمِعَ أَنَسٌ أُولَئِكَ الَّذِينَ جَمَعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، هَذَا الْكَلَامُ أَوْ نَحوُهُ. قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ أَنَسٍ، كَمَا رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ وَرَوَاهُ وُهَيْبٌ عَنْ أَيُّوبَ فَالِاشْتِبَاهُ وَقَعَ لِأَنَسٍ لَا لِمَنْ دُونَهُ، وَيُحتَمَلُ أَنْ يَكُونَ سَمِعَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُ غَيْرَهُ كَيْفَ يُهِلُّ بِالْقِرَانِ، لَا أَنَّهُ يُهِلُّ بِهِمَا عَنْ نَفْسِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَنَسٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو حج و عمرہ کا تلبیہ کہتے ہوئے سنا۔
سلیمان (بن حرب) کہتے ہیں: ابوقلابہ نے یہ حدیث سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سنی ہے اور وہ فقیہ ہیں۔ حمید اور یحییٰ بن ابواسحاق نے اسے صحیح طور پر یاد نہیں رکھا، صحیح وہی ہے جو ابوقلابہ نے کہا کہ نبی ﷺ نے حجِ افراد کیا تھا اور نبی ﷺ کے بعض صحابہ نے حج اور عمرہ کو جمع کیا تھا، تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو سنا جنہوں نے حج اور عمرہ کو جمع کیا تھا۔
شیخ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کو بڑی جماعت نے بیان کیا ہے، جیسے یحییٰ بن ابواسحاق اور وہیب نے ایوب سے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو شبہ پڑ گیا ہے تو اس کو اس بات پر محمول کیا جائے گا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا، وہ کسی دوسرے کو سکھلا رہے تھے کہ حج قران میں تلبیہ کیسے پکارے گا۔
سلیمان (بن حرب) کہتے ہیں: ابوقلابہ نے یہ حدیث سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سنی ہے اور وہ فقیہ ہیں۔ حمید اور یحییٰ بن ابواسحاق نے اسے صحیح طور پر یاد نہیں رکھا، صحیح وہی ہے جو ابوقلابہ نے کہا کہ نبی ﷺ نے حجِ افراد کیا تھا اور نبی ﷺ کے بعض صحابہ نے حج اور عمرہ کو جمع کیا تھا، تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو سنا جنہوں نے حج اور عمرہ کو جمع کیا تھا۔
شیخ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کو بڑی جماعت نے بیان کیا ہے، جیسے یحییٰ بن ابواسحاق اور وہیب نے ایوب سے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو شبہ پڑ گیا ہے تو اس کو اس بات پر محمول کیا جائے گا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا، وہ کسی دوسرے کو سکھلا رہے تھے کہ حج قران میں تلبیہ کیسے پکارے گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَا: ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، وَالْحَسَنُ، قَالُوا ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا قَتَادَةُ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، أَخْبَرَهُ " أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ كُلُّهُنَّ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، إِلَّا الْعُمْرَةَ الَّتِي مَعَ حَجَّتِهِ عُمْرَةَ الْحُدَيْبِيَةِ، أَوْ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَةٌ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَةٌ مِنَ الْجِعْرَانَةِ حَيْثُ قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَةٌ مَعَ حَجَّتِهِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ عَنْ هُدْبَةَ بْنِ خَالِدٍ، وَإِنَّمَا يَقُولُ ذَلِكَ أَنَسٌ عَلَى مَا عِنْدَهُ مِنْ أَنَّهُ قَرَنَ وَقَدْ رُوِيَ أَيْضًا عَنْ غَيْرِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَفِي ثُبُوتِهِ نَظَرٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ اللہ کے نبی ﷺ نے چار عمرے کیے، چاروں ذوالقعدہ میں سوائے اس عمرہ کے جو انہوں نے حج کے ساتھ کیا، ایک عمرہ حدیبیہ کے سال ذوالقعدہ میں اور ایک عمرہ اس سے اگلے سال ذوالقعدہ میں اور ایک عمرہ جعرانہ سے جب حنین کی غنیمتیں تقسیم کیں، وہ بھی ذوالقعدہ میں اور ایک عمرہ حج کے ساتھ۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ یہ بات اپنی اس رائے کی بنا پر کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے حجِ قران کیا تھا۔ یہ روایت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے علاوہ دوسروں سے بھی مروی ہے، لیکن اس کے ثابت ہونے میں نظر ہے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ یہ بات اپنی اس رائے کی بنا پر کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے حجِ قران کیا تھا۔ یہ روایت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے علاوہ دوسروں سے بھی مروی ہے، لیکن اس کے ثابت ہونے میں نظر ہے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا النُّفَيْلِيُّ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ كَمِ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَ: مَرَّتَيْنِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " لَقَدْ عَلِمَ ابْنُ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِ اعْتَمَرَ ثَلَاثًا سِوَى الَّتِي قَرَنَهَا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ " كَذَا رَوَاهُ أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ مُجَاهِدٍ، وَالرِّوَايَةُ الثَّانِيَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ لَيْسَ فِيهَا هَذَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے کتنے عمرے کیے تو وہ فرمانے لگے: دو، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ابن عمر رضی اللہ عنہما کو معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس عمرہ کے سوا جو انہوں نے حج کے ساتھ ملایا تھا، تین عمرے کیے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ قُتَيْبَةُ: ثنا، وَقَالَ، إِسْحَاقُ، أنبأ جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ جَالِسٌ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، وَإِذَا أُنَاسٌ فِي الْمَسْجِدِ يُصَلُّونَ صَلَاةَ الضُّحَى قَالَ: فَسَأَلْنَاهُ عَنْ صَلَاتِهِمْ، فَقَالَ: بِدْعَةٌ، قَالَ: ثُمَّ قَالُوا لَهُ: كَمِ اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: " أَرْبَعًا إِحْدَاهُنَّ فِي رَجَبٍ "، قَالَ: فَكَرِهْنَا أَنْ نُكَذِّبَهُ وَنَرُدَّ عَلَيْهِ، قَالَ: وَسَمِعْنَا اسْتِنَانَ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا خَلْفَ الْحُجْرَةِ، قَالَ: فَقَالَ عُرْوَةُ: يَا أُمَّهْ أَلَمْ تَسْمَعِي إِلَى مَا يَقُولُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟، قَالَتْ: " مَا يَقُولُ؟ "، قَالَ: يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ إِحْدَاهُنَّ فِي ⦗١٧⦘ رَجَبٍ، قَالَتْ: " يَرْحَمُ اللهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمْرَةً إِلَّا وَهُوَ شَاهِدٌ، وَمَا اعْتَمَرَ فِي رَجَبٍ قَطُّ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ وَلَيْسَ فِيهَا مَا فِي رِوَايَةِ أَبِي إِسْحَاقَ.
حافظ ثناء اللہ
مجاہد کہتے ہیں کہ میں اور عروہ بن زبیر مسجد میں داخل ہوئے تو وہاں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ مسجد میں چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے، تو ہم نے ان سے لوگوں کی نماز کے بارے میں دریافت کیا تو وہ کہنے لگے کہ یہ بدعت ہے، پھر انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے کتنے عمرے کیے؟ کہنے لگے: چار، ایک رجب میں، تو ہم نے ناپسند کیا کہ ہم اس کو جھٹلائیں یا اس کا رد کریں اور ہم نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے مسواک کرنے کی آواز حجرے کے پیچھے سے سنی تو عروہ نے کہا: اے اماں جان! کیا آپ نے سنا نہیں جو ابوعبدالرحمن (رضی اللہ عنہما) نے کہا ہے؟ کہنے لگیں: کیا کہا ہے؟ تو انہوں نے کہا: وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چار عمرے کیے، ان میں سے ایک عمرہ رجب میں کیا تھا، تو وہ کہنے لگیں: اللہ ابوعبدالرحمن (رضی اللہ عنہما) پر رحم فرمائے، رسول اللہ ﷺ نے جو بھی عمرہ کیا وہ اس میں ان کے شریک تھے اور آپ ﷺ نے رجب میں کوئی عمرہ نہیں کیا۔
أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَازُ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، أنبأ الضَّحَاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، حدَّثَنِي عُرْوَةُ، قَالَ: كُنْتُ أَنَا، وَابْنُ عُمَرَ مُسْتَنِدَيْنِ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، وَأَنَا أَسْمَعُ صَوْتَ السِّوَاكِ تَسْتَنُّ، فَقُلْتُ: اعْتَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجَبٍ؟، قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: يَا أُمَّتَاهُ، أَمَا تَسْمَعِينَ مَا يَقُولُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟، يَقُولُ: اعْتَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجَبٍ، فَقَالَتْ: يَرْحَمُ اللهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عُمْرَةٍ إِلَّا وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَعَهُ مَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجَبٍ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ الضَّحَاكِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے اور میں ان کے مسواک کرنے کی آواز سن رہا تھا تو میں نے کہا: کیا رسول اللہ ﷺ نے رجب میں عمرہ کیا ہے؟ وہ کہنے لگے: ہاں! میں نے کہا: اے اماں جان! کیا آپ نے سنا نہیں کہ ابوعبدالرحمن کیا کہہ رہے ہیں؟ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے رجب میں عمرہ کیا ہے تو وہ کہنے لگیں: اللہ ابوعبدالرحمن پر رحم کرے، رسول اللہ ﷺ نے جو بھی عمرہ کیا، ابوعبدالرحمن اس میں ان کے ساتھ تھے، رسول اللہ ﷺ نے رجب میں عمرہ نہیں کیا۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ثنا دَاوُدُ الْعَطَّارُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ عُمْرَتَيْنِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ وَعُمْرَةً فِي شَوَّالٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے دو عمرے ذوالقعدہ میں کیے اور ایک عمرہ شوال میں کیا۔
وَرَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَعْتَمِرْ إِلَّا ثَلَاثًا: إِحْدَاهُنَّ فِي شَوَّالٍ وَثِنْتَانِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ فَذَكَرَهُ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صرف تین ہی عمرے کیے ہیں، ایک شوال میں اور دو ذوالقعدہ میں۔
یہ روایت ابواسحاق کے واسطے سے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے، لیکن وہ محفوظ نہیں ہے۔
یہ روایت ابواسحاق کے واسطے سے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے، لیکن وہ محفوظ نہیں ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ يَحْيَى، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: " اعْتَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ عُمَرٍ، كُلُّهُنَّ فِي ذِي الْقَعْدَةِ "، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " لَقَدْ عَلِمَ أَنَّهُ اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ بِعُمْرَتِهِ الَّتِي حَجَّ مَعَهَا " ⦗١٨⦘ وَقَدْ رُوِيَ فِي حَدِيثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ وَلَيْسَ بِصَحِيحٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے تین عمرے کیے اور تینوں ہی ذوالقعدہ میں، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں: ان کو معلوم ہے کہ آپ ﷺ نے چار عمرے کیے، اس عمرے سمیت جو حج کے ساتھ کیا تھا۔
یہ بات سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی حدیث میں بھی مروی ہے، لیکن وہ صحیح نہیں ہے۔
یہ بات سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی حدیث میں بھی مروی ہے، لیکن وہ صحیح نہیں ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ رُمَيْسٍ، وَالْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَبُو عُبَيْدٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ جَعْفَرٍ اللَّبَّانُ، وَغَيْرُهُمْ، قَالُوا: ثنا أَحَمْدُ بْنُ يَحْيَى الصُّوفِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: " حَجَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ حِجَجٍ حَجَّتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُهَاجِرَ، وَحَجَّةً قَرَنَ مَعَهَا عُمْرَةً " وَكَيْفَ يَكُونُ هَذَا صَحِيحًا وَقَدْ رُوِيَ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ جَابِرٍ فِي إِحْرَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِلَافُ هَذَا؟، وَقَدْ قَالَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ: سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيَّ، عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ خَطَأٌ، وَإِنَّمَا رُوِيَ هَذَا عَنِ الثَّوْرِيِّ مُرْسَلًا، قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَكَانَ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ إِذَا رَوَى حِفْظًا رُبَّمَا غَلَطَ فِي الشَّيْءِ، قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ فِي حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ.
حافظ ثناء اللہ
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے تین حج کیے، دو حج ہجرت سے پہلے اور ایک حج قران۔
یہ روایت کیسے صحیح ہو سکتی ہے جبکہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے نبی ﷺ کے احرام کے بارے میں کئی سندوں سے اس کے خلاف مروی ہے؟ امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: یہ حدیث غلط ہے، یہ ثوری سے مرسل ہی مروی ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا: زید بن حباب جب اپنے حافظے سے روایت کرتے تو بعض اوقات کسی چیز میں غلطی کر جاتے تھے۔ شیخ فرماتے ہیں: یہ بات سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث میں بھی مروی ہے، لیکن وہ محفوظ نہیں ہے۔
یہ روایت کیسے صحیح ہو سکتی ہے جبکہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے نبی ﷺ کے احرام کے بارے میں کئی سندوں سے اس کے خلاف مروی ہے؟ امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: یہ حدیث غلط ہے، یہ ثوری سے مرسل ہی مروی ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا: زید بن حباب جب اپنے حافظے سے روایت کرتے تو بعض اوقات کسی چیز میں غلطی کر جاتے تھے۔ شیخ فرماتے ہیں: یہ بات سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث میں بھی مروی ہے، لیکن وہ محفوظ نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُونُسَ، ثنا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّفَّاءُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَشِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ، قَالَا: ثنا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " اعْتَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عُمَرٍ عَمْرَةَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَعُمْرَةَ الْقَضَاءِ مِنْ قَابِلٍ، وَعُمْرَتَهُ مِنَ الْجِعْرَانَةِ وَعُمْرَتَهُ الرَّابِعَةَ الَّتِي مَعَ حَجَّتِهِ " قَالَ أَبُو الْحَسَنِ يَعْنِي عَلِيَّ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ: لَيْسَ أَحَدٌ يَقُولُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَّا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ رَوَاهُ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ مُرْسَلًا قَالَ الْبُخَارِيُّ: دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ صَدُوقٌ إِلَّا أَنَّهُ رُبَّمَا يَهِمُ فِي الشَّيْءِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چار عمرے کیے، ایک عمرہ حدیبیہ والا، ایک عمرۂ قضا اگلے سال، ایک عمرہ جعرانہ سے اور چوتھا عمرہ حج کے ساتھ۔
ابوالحسن (علی بن عبدالعزیز) کہتے ہیں کہ اس حدیث میں ”ابن عباس سے“ داود بن عبدالرحمن کے سوا کوئی نہیں کہتا۔ شیخ فرماتے ہیں کہ سفیان بن عیینہ نے اسے عمرو بن دینار سے، انہوں نے عکرمہ رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے عمرہ کیا، لیکن یہ روایت مرسل ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: داود بن عبدالرحمن صدوق ہیں، البتہ بعض اوقات کسی چیز میں وہم کا شکار ہو جاتے ہیں۔
ابوالحسن (علی بن عبدالعزیز) کہتے ہیں کہ اس حدیث میں ”ابن عباس سے“ داود بن عبدالرحمن کے سوا کوئی نہیں کہتا۔ شیخ فرماتے ہیں کہ سفیان بن عیینہ نے اسے عمرو بن دینار سے، انہوں نے عکرمہ رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے عمرہ کیا، لیکن یہ روایت مرسل ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: داود بن عبدالرحمن صدوق ہیں، البتہ بعض اوقات کسی چیز میں وہم کا شکار ہو جاتے ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تَحْلِلْ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ؟، فَقَالَ: " إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ " لَفْظُ حَدِيثِ خَالِدٍ، وَفِي رِوَايَةِ الشَّافِعِيِّ عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا بِعُمْرَةٍ وَلَمْ تَحْلِلْ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ؟ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ وَغَيْرِهِ عَنْ مَالِكٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَخْلَدٍ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ کیا وجہ ہے کہ لوگ حلال ہو گئے ہیں، لیکن آپ ﷺ عمرے سے حلال نہیں ہوئے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے سر کی تلبید کی ہے اور قربانی کو قلادہ ڈالا ہے۔ لہٰذا میں اس وقت تک حلال نہیں ہو سکتا جب تک اس کو نحر نہ کر لوں۔“
(ب) ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! لوگوں کا کیا معاملہ ہے وہ عمرہ کے ساتھ حلال ہو جاتے ہیں اور آپ اپنے عمرہ سے حلال نہیں ہوئے؟
(ب) ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! لوگوں کا کیا معاملہ ہے وہ عمرہ کے ساتھ حلال ہو جاتے ہیں اور آپ اپنے عمرہ سے حلال نہیں ہوئے؟
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، حدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِكَ؟، قَالَ: " إِنِّي قَلَّدْتُ هَدْيِي، وَلَبَّدْتُ رَأْسِي فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَحِلَّ مِنَ الْحَجِّ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ کیا وجہ ہے کہ لوگ حلال ہو گئے ہیں، لیکن آپ ﷺ اپنے عمرہ سے حلال نہیں ہوئے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے اپنی قربانی کو قلادہ پہنایا ہے اور سر کو لیپ دیا ہے، لہٰذا میں اس وقت تک حلال نہیں ہو سکتا، جب تک حج سے حلال نہ ہو جاؤں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي قَوْلِ حَفْصَةَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ تَحْلِلْ مِنْ عُمْرَتِكَ تَعْنِي مِنْ إِحْرَامِكِ الَّذِي ابْتَدَأْتَهُ وَهُمْ بِنِيَّةٍ وَاحِدَةٍ، وَاللهُ أَعْلَمُ، فَقَالَ: " لَبَّدْتُ رَأْسِي وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ " يَعْنِي وَاللهُ أَعْلَمُ حَتَّى يَحِلَّ الْحَاجُّ؛ لِأَنَّ الْقَضَاءَ نَزَلَ عَلَيْهِ أَنْ يَجْعَلَ مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ إِحرَامَهُ حَجًّا.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے نبی ﷺ سے اس قول کے بارے میں کہ ”آپ اپنے عمرہ سے حلال نہیں ہوئے“ فرماتے ہیں: ان کی مراد یہ ہے کہ آپ اپنے اس احرام سے حلال نہیں ہوئے جو آپ نے شروع کیا تھا، جبکہ وہ (سب) ایک ہی نیت پر تھے، واللہ اعلم۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے اپنے سر کی تلبید کی ہے اور اپنی قربانی کو قلادہ ڈالا ہے، لہٰذا میں اس وقت تک حلال نہیں ہوں گا جب تک نحر نہ کر لوں۔“ یعنی، واللہ اعلم، جب تک حاجی حلال نہ ہو جائے، کیونکہ آپ ﷺ پر یہ فیصلہ نازل ہوا تھا کہ جس کے ساتھ قربانی ہو وہ اپنے احرام کو حج بنا لے۔
حدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَزْمِهْرَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، حدَّثَنِي أَبِي، حدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ حَفْصَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقَالَتْ لَهُ حَفْصَةُ: وَمَا يَمْنَعُكَ يَا رَسُولَ اللهِ أَنْ تَحِلَّ؟، قَالَ: " إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، وَلَسْتُ أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ هَدْيِي "، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ نَافِعٍ لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ الْعُمْرَةَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر ہمیں حلال ہونے کا حکم دے دیا تو میں نے آپ سے کہا کہ آپ کو کیا چیز مانع ہے کہ آپ ﷺ حلال نہیں ہو رہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے سر کو لیپ دیا ہے اور قربانی کو بار ڈالا ہے اور جب تک میں قربانی نحر نہ کر لوں، حلال نہیں ہو سکتا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَأنا أَسْمَعُ، قَالَ: ثنا أَبُو زَيْدٍ الْهَرَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حدَّثَنِي عِكْرِمَةُ، حدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، حدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَانِي جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَأَنَا بِالْعَقِيقِ، فَقَالَ: صَلِّ فِي هَذَا الْوَادِي الْمُبَارَكِ رَكْعَتَيْنِ، وَقُلْ: عُمْرَةٌ فِي حَجَّةٍ، فَقَدْ دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي زَيْدٍ الْهَرَوِيِّ، كَذَا قَالَهُ عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ ⦗٢١⦘ يَحْيَى، وَخَالَفَهُ الْأَوْزَاعِيُّ فِي أَكْثَرِ الرِّوَايَاتِ عَنْهُ، فَقَالَ: وَقَالَ: عُمْرَةٌ فِي حَجَّةٍ لَمْ يَقُلْ: وَقُلْ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب میں عقیق مقام پر تھا تو میرے پاس سیدنا جبریل علیہ السلام آئے اور کہنے لگے: اس بابرکت وادی میں دو رکعتیں ادا کیجیے اور کہہ دیجیے «عُمْرَةٌ فِي حَجَّةٍ» ”عمرہ حج میں ہے“، پس تحقیق عمرہ قیامت تک حج میں داخل ہو گیا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، حدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، حدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حدَّثَنِي عِكْرِمَةُ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، حدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، حدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؟، حَدَّثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتٍ مِنْ رَبِّي، وَهُوَ بِالْعَقِيقِ أَنْ صَلِّ فِي هَذَا الْوَادِي الْمُبَارَكِ وَقَالَ: عُمْرَةٌ فِي حَجَّةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے بتایا کہ جب آپ ﷺ عقیق میں تھے تو ”میری طرف میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا اور اس نے کہا: اس مبارک وادی میں نماز پڑھیے اور کہا: «عُمْرَةٌ فِي حَجَّةٍ» ”عمرہ حج میں ہے۔““
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ دَعْلَجٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَبِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، قَالَا: ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حدَّثَنِي عِكْرِمَةُ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِوَادِي الْعَقِيقِ: " أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتٍ مِنْ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ: صَلِّ فِي هَذَا الْوَادِي الْمُبَارَكِ، وَقَالَ: عُمْرَةٌ فِي حَجَّةٍ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحُمَيْدِيِّ، وَكَذَلِكَ قَالَهُ شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ وَمِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، وَقَالَ: عُمْرَةٌ فِي حَجَّةٍ، فَيَكُونُ ذَلِكَ إِذْنًا، وَاللهُ أَعْلَمُ فِي إِدْخَالِ الْعُمْرَةِ فِي الْحَجِّ؛ لِأَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَمَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ فِي نَفْسِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ عقیق نامی وادی میں تھے تو میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”آج رات میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا اور اس نے کہا کہ اس مبارک وادی میں نماز پڑھیں اور کہیں کہ عمرہ حج میں (داخل) ہے۔“
حدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ الْعَدَوِيُّ، سَمِعْتُ مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، يُحَدِّثُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ لِي: أَلَا أُحدِّثُكَ حَدِيثًا لَعَلَّ اللهَ أَنْ يَنْفَعَكَ بِهِ؟، " إنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ حَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ، ثُمَّ لَمْ يَنْهَ عَنْهُ، وَلَمْ يَنْزِلْ قُرْآنٌ يُحرِّمُهُ، وَأَنَّهُ قَدْ كَانَ يُسَلِّمُ عَلَيَّ، فَلَمَّا اكْتَوَيْتُ انْقَطَعَ عَنِّي، فَلَمَّا تَرَكْتُ عَادَ إِلَيَّ " يَعْنِي الْمَلَائِكَةَ ⦗٢٢⦘ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَبِهَذَا الْمَعْنَى رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفٍ وَرَوَاهُ هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ فِي الْمُتْعَةِ، وَكَذَلِكَ مُحَمَّدُ بْنُ وَاسِعٍ عَنْ مُطَرِّفٍ فِي الْمُتْعَةِ، وَكَذَلِكَ أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ، عَنْ عِمْرَانَ فِي الْمُتْعَةِ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي الْعَلَاءِ عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ، قَالَ: أَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْمَرَ طَائِفَةً مِنْ أَهْلِهِ فِي الْعَشَرَةِ، وَقَصْدُهُ مِنْ جَمِيعِ ذَلِكَ بَيَانُ جَوَازِ الْعُمْرَةِ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ، وَقَوْلُهُ: جَمَعَ بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ، إِنْ كَانَ الرَّاوِي حَفِظَهُ يُحتَمَلُ أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ بِهِ إِذْنَهُ فِيهِ، وَأَمْرَهُ بَعْضَ أَصْحَابِهِ بِذَلِكَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
مطرف بن عبداللہ بن شخیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تجھے ایسی بات نہ بتاؤں جو تجھے نفع دے؟ رسول اللہ ﷺ نے حج و عمرہ کو جمع کیا اور پھر اس سے منع نہیں فرمایا اور نہ ہی قرآن اس کو حرام کرنے کے لیے اترا اور فرشتے مجھ سے سلام لیتے تھے، جب میں نے داغ لگوایا تو وہ رک گئے اور جب میں نے داغ لگوانا چھوڑ دیا، وہ پھر آنے لگے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا حَجَّاجٌ، ثنا يُونُسُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حينَ أَمَّرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْيَمَنِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي قَدُومِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ عَلِيٌّ: فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَيْفَ صَنَعْتَ؟ " قَالَ: قُلْتُ: أَهْلَلْتُ بِإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنِّي قَدْ سُقْتُ الْهَدْيَ وَقَرَنْتُ " كَذَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ وَقَرَنْتُ، وَلَيْسَ ذَلِكَ فِي حَدِيثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ حِينَ وَصَفَ قَدُومَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَإِهْلَالَهُ، وَحَدِيثُ جَابِرٍ أَصَحُّ سَنَدًا، وَأَحْسَنُ سِيَاقَةً، وَمَعَ حَدِيثِ جَابِرٍ حَدِيثُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، جب انہیں رسول اللہ ﷺ نے یمن کا امیر بنایا، پھر انہوں نے علی رضی اللہ عنہ کے آنے کا سارا واقعہ بیان کیا اور بتایا کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے کیا کیا ہے؟“ کہنے لگے: میں نے کہا کہ میں نے بھی رسول اللہ ﷺ والا تلبیہ کہا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں قربانی لایا ہوں اور حجِ قِران کیا ہے۔“
اس روایت میں ”اور میں نے قران کیا ہے“ کے الفاظ اسی طرح ہیں، لیکن یہ الفاظ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی حدیث میں نہیں ہیں جب انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے آنے اور ان کے تلبیہ کا ذکر کیا، اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث سند کے اعتبار سے زیادہ صحیح اور سیاق کے اعتبار سے زیادہ عمدہ ہے، اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث کی تائید سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث سے بھی ہوتی ہے۔
اس روایت میں ”اور میں نے قران کیا ہے“ کے الفاظ اسی طرح ہیں، لیکن یہ الفاظ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی حدیث میں نہیں ہیں جب انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے آنے اور ان کے تلبیہ کا ذکر کیا، اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث سند کے اعتبار سے زیادہ صحیح اور سیاق کے اعتبار سے زیادہ عمدہ ہے، اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث کی تائید سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث سے بھی ہوتی ہے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَحْمُودٍ السَّعْدِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ثنا سُلَيْمُ بْنُ حَيَّانَ، سَمِعْتُ مَرْوَانَ الْأَصْفَرَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْيَمَنِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِمَ أَهْلَلْتَ؟ "، فَقَالَ أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلَا أَنَّ مَعِيَ الْهَدْيَ لَأَهْلَلْتُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ الْخَلَّالِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ الشَّاعِرِ، كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ، وَفِيهِ وَفِي حَدِيثِ جَابِرٍ، جَعَلَ الْعِلَّةَ فِي امْتِنَاعِهِ مِنَ التَّحَلُّلِ كَوْنَ الْهَدْيِ مَعَهُ، وَالْقَارِنُ لَا يَحِلُّ مِنْ إِحْرَامِهِ، حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا، سَوَاءٌ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ أَوْ لَمْ يَكُنْ، وَدَلَّ ذَلِكَ عَلَى خَطَأِ تِلْكَ اللَّفْظَةِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے تو ان کو نبی ﷺ نے فرمایا: ”تو نے کیا تلبیہ کہا ہے؟“ تو انہوں نے کہا: وہی جو رسول اللہ ﷺ نے کہا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میرے پاس قربانی نہ ہوتی تو میں حلال ہوجاتا۔“
(ب) اس حدیث میں اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آپ ﷺ کے حلال ہونے سے رکنے کی علت آپ ﷺ کے ساتھ قربانی کا ہونا بیان کی گئی ہے، جبکہ حجِ قران والا اپنے احرام سے اس وقت تک حلال نہیں ہوتا جب تک حج اور عمرہ دونوں سے اکٹھا حلال نہ ہو جائے، خواہ اس کے پاس قربانی ہو یا نہ ہو۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ لفظ (”اور میں نے قران کیا ہے“) غلط ہے۔
(ب) اس حدیث میں اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آپ ﷺ کے حلال ہونے سے رکنے کی علت آپ ﷺ کے ساتھ قربانی کا ہونا بیان کی گئی ہے، جبکہ حجِ قران والا اپنے احرام سے اس وقت تک حلال نہیں ہوتا جب تک حج اور عمرہ دونوں سے اکٹھا حلال نہ ہو جائے، خواہ اس کے پاس قربانی ہو یا نہ ہو۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ لفظ (”اور میں نے قران کیا ہے“) غلط ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ مِنْ أَصْلِهِ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَسَدٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدَةَ، سَمِعَ أَبَا وَائِلٍ، يَقُولُ: كَثِيرًا مَا كُنْتُ أَذْهَبُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ، إِلَى الصَّبِيِّ بْنِ مَعْبَدٍ أَسْأَلُهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، وَكَانَ رَجُلًا نَصْرَانِيًّا مِنْ بَنِي تَغْلِبَ فَأَسْلَمَ، فَأَهَلَّ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، فسَمِعَهُ سُلَيْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَزَيْدُ بْنُ صُوحَانَ، وَهُوَ يُهِلُّ فِي الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ بِالْفَارِسِيَّةِ، فَقَالَ: هَذَا أَضَلُّ مِنْ بَعِيرِ أَهْلِهِ، قَالَ: فَكَأَنَّمَا حُمِّلَ عَلَيَّ بِكَلَامِهِمَا جَبَلٌ، حَتَّى أَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمَا، فَلَامَهُمَا ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ، فَقَالَ: هُدِيتَ لِسُنَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذَا الْحَدِيثُ يَدُلُّ عَلَى جَوَازِ الْقِرِانِ، وَأَنَّهُ لَيْسَ عَلَى جَوَازٍ بِضَلَالٍ، خِلَافَ مَا تَوَهَّمَهُ زَيْدُ بْنُ صُوحَانَ وَسَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ لَا أَنَّهُ أَفْضَلُ مِنْ غَيْرِهِ، وَقَدْ أَمَرَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِأَنْ يُفْصَلَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ.
حافظ ثناء اللہ
ابو وائل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اور مسروق رحمہ اللہ اکثر صبی بن معبد رحمہ اللہ کے پاس یہ بات پوچھنے جاتے اور وہ نصرانی تھا جو کہ مسلمان ہو گیا تھا، اس نے حج و عمرہ کا تلبیہ کہا تو اس کو سلمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان رضی اللہ عنہما نے قادسیہ میں حج و عمرہ کا تلبیہ کہتے ہوئے سنا تو کہنے لگے: ”یہ تو اپنے گھر کے اونٹ سے بھی گمراہ ہے۔“ وہ کہتا ہے کہ ان کی اس بات سے مجھ پر پہاڑ ٹوٹ پڑا، حتیٰ کہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کو یہ بات بتائی تو وہ ان کی طرف متوجہ ہوئے، انھیں ملامت کی اور پھر میری طرف متوجہ ہوئے اور مجھ سے کہا: ”تو نبی ﷺ کی سنت کی ہدایت دیا گیا ہے۔“