السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من اختار القران وزعم أن النبي صلى الله عليه وسلم كان قارنا باب: ان کا بیان جنہوں نے حجِ قران کو اختیار کیا اور ان کا یہ گمان ہے کہ نبی ﷺ حجِ قران کرنے والے (قارن) تھے۔
حدیث نمبر: 8837
أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَازُ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، أنبأ الضَّحَاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، حدَّثَنِي عُرْوَةُ، قَالَ: كُنْتُ أَنَا، وَابْنُ عُمَرَ مُسْتَنِدَيْنِ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، وَأَنَا أَسْمَعُ صَوْتَ السِّوَاكِ تَسْتَنُّ، فَقُلْتُ: اعْتَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجَبٍ؟، قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: يَا أُمَّتَاهُ، أَمَا تَسْمَعِينَ مَا يَقُولُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟، يَقُولُ: اعْتَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجَبٍ، فَقَالَتْ: يَرْحَمُ اللهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عُمْرَةٍ إِلَّا وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَعَهُ مَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجَبٍ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ الضَّحَاكِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.حافظ ثناء اللہ
عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے اور میں ان کے مسواک کرنے کی آواز سن رہا تھا تو میں نے کہا: کیا رسول اللہ ﷺ نے رجب میں عمرہ کیا ہے؟ وہ کہنے لگے: ہاں! میں نے کہا: اے اماں جان! کیا آپ نے سنا نہیں کہ ابوعبدالرحمن کیا کہہ رہے ہیں؟ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے رجب میں عمرہ کیا ہے تو وہ کہنے لگیں: اللہ ابوعبدالرحمن پر رحم کرے، رسول اللہ ﷺ نے جو بھی عمرہ کیا، ابوعبدالرحمن اس میں ان کے ساتھ تھے، رسول اللہ ﷺ نے رجب میں عمرہ نہیں کیا۔