السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من اختار القران وزعم أن النبي صلى الله عليه وسلم كان قارنا باب: ان کا بیان جنہوں نے حجِ قران کو اختیار کیا اور ان کا یہ گمان ہے کہ نبی ﷺ حجِ قران کرنے والے (قارن) تھے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ رُمَيْسٍ، وَالْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَبُو عُبَيْدٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ جَعْفَرٍ اللَّبَّانُ، وَغَيْرُهُمْ، قَالُوا: ثنا أَحَمْدُ بْنُ يَحْيَى الصُّوفِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: " حَجَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ حِجَجٍ حَجَّتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُهَاجِرَ، وَحَجَّةً قَرَنَ مَعَهَا عُمْرَةً " وَكَيْفَ يَكُونُ هَذَا صَحِيحًا وَقَدْ رُوِيَ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ جَابِرٍ فِي إِحْرَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِلَافُ هَذَا؟، وَقَدْ قَالَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ: سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيَّ، عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ خَطَأٌ، وَإِنَّمَا رُوِيَ هَذَا عَنِ الثَّوْرِيِّ مُرْسَلًا، قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَكَانَ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ إِذَا رَوَى حِفْظًا رُبَّمَا غَلَطَ فِي الشَّيْءِ، قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ فِي حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ.جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے تین حج کیے، دو حج ہجرت سے پہلے اور ایک حج قران۔
یہ روایت کیسے صحیح ہو سکتی ہے جبکہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے نبی ﷺ کے احرام کے بارے میں کئی سندوں سے اس کے خلاف مروی ہے؟ امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: یہ حدیث غلط ہے، یہ ثوری سے مرسل ہی مروی ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا: زید بن حباب جب اپنے حافظے سے روایت کرتے تو بعض اوقات کسی چیز میں غلطی کر جاتے تھے۔ شیخ فرماتے ہیں: یہ بات سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث میں بھی مروی ہے، لیکن وہ محفوظ نہیں ہے۔