السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من اختار القران وزعم أن النبي صلى الله عليه وسلم كان قارنا باب: ان کا بیان جنہوں نے حجِ قران کو اختیار کیا اور ان کا یہ گمان ہے کہ نبی ﷺ حجِ قران کرنے والے (قارن) تھے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادٌ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ. قَالَ سُلَيْمَانُ: سَمِعَ أَبُو قِلَابَةَ، هَذَا مِنْ أَنَسٍ وَهُوَ فَقِيهٌ، وَرَوَى حُمَيْدٌ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُلَبِّي بِعُمْرَةٍ وَحَجٍّ "، قَالَ: وَلَمْ يَحْفَظَا إِنَّمَا الصَّحِيحُ مَا قَالَهُ أَبُو قِلَابَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْرَدَ الْحَجَّ، وَقَدْ جَمَعَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، فَإِنَّمَا سَمِعَ أَنَسٌ أُولَئِكَ الَّذِينَ جَمَعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، هَذَا الْكَلَامُ أَوْ نَحوُهُ. قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ أَنَسٍ، كَمَا رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ وَرَوَاهُ وُهَيْبٌ عَنْ أَيُّوبَ فَالِاشْتِبَاهُ وَقَعَ لِأَنَسٍ لَا لِمَنْ دُونَهُ، وَيُحتَمَلُ أَنْ يَكُونَ سَمِعَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُ غَيْرَهُ كَيْفَ يُهِلُّ بِالْقِرَانِ، لَا أَنَّهُ يُهِلُّ بِهِمَا عَنْ نَفْسِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَنَسٍ.سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو حج و عمرہ کا تلبیہ کہتے ہوئے سنا۔
سلیمان (بن حرب) کہتے ہیں: ابوقلابہ نے یہ حدیث سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سنی ہے اور وہ فقیہ ہیں۔ حمید اور یحییٰ بن ابواسحاق نے اسے صحیح طور پر یاد نہیں رکھا، صحیح وہی ہے جو ابوقلابہ نے کہا کہ نبی ﷺ نے حجِ افراد کیا تھا اور نبی ﷺ کے بعض صحابہ نے حج اور عمرہ کو جمع کیا تھا، تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو سنا جنہوں نے حج اور عمرہ کو جمع کیا تھا۔
شیخ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کو بڑی جماعت نے بیان کیا ہے، جیسے یحییٰ بن ابواسحاق اور وہیب نے ایوب سے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو شبہ پڑ گیا ہے تو اس کو اس بات پر محمول کیا جائے گا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا، وہ کسی دوسرے کو سکھلا رہے تھے کہ حج قران میں تلبیہ کیسے پکارے گا۔