السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من اختار القران وزعم أن النبي صلى الله عليه وسلم كان قارنا باب: ان کا بیان جنہوں نے حجِ قران کو اختیار کیا اور ان کا یہ گمان ہے کہ نبی ﷺ حجِ قران کرنے والے (قارن) تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، وَغَيْرِهِ أَنَّ رَجُلًا أَتَى ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: بِمَ أَهَلَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: " أَهَلَّ بِالْحَجِّ "، فَانْصَرَفَ، ثُمَّ أَتَاهُ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ، فَقَالَ: بِمَ أَهَلَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: " أَلَمْ تَأْتِنِي عَامَ أَوَّلَ؟ "، قَالَ: بَلَى، وَلَكِنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَزْعُمُ أَنَّهُ قَرَنَ، قَالَ: ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ كَانَ يَدْخُلُ عَلَى النِّسَاءِ وَهُنَّ مُكَشِّفَاتُ الرُّءُوسِ، وَإِنِّي كُنْتُ تَحْتَ نَاقَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَمَسُّنِي لُعَابُهَا أَسْمَعُهُ يُلَبِّي بِالْحَجِّ ".ایک شخص سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نے کیا تلبیہ کہا تھا؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ صرف حج کا تلبیہ کہا تھا، پھر وہ اگلے سال آیا اور ان سے پھر پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نے کس طرح تلبیہ کہا تھا؟ انہوں نے کہا: کیا تو گزشتہ سال نہیں آیا تھا کیا؟ کہنے لگا: کیوں نہیں، لیکن سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ تو سمجھتے ہیں کہ انہوں نے حج قران کیا تھا، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہنے لگے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ تو عورتوں میں چلے جاتے تھے جبکہ وہ سر کھولے ہوتی تھیں اور میں رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی کے نیچے تھا، اس کا لعاب مجھے چھو رہا تھا، میں نے انہیں حج کا تلبیہ کہتے ہوئے سنا۔