❮
❯
حدیث نمبر: 8851
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا حَجَّاجٌ، ثنا يُونُسُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حينَ أَمَّرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْيَمَنِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي قَدُومِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ عَلِيٌّ: فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَيْفَ صَنَعْتَ؟ " قَالَ: قُلْتُ: أَهْلَلْتُ بِإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنِّي قَدْ سُقْتُ الْهَدْيَ وَقَرَنْتُ " كَذَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ وَقَرَنْتُ، وَلَيْسَ ذَلِكَ فِي حَدِيثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ حِينَ وَصَفَ قَدُومَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَإِهْلَالَهُ، وَحَدِيثُ جَابِرٍ أَصَحُّ سَنَدًا، وَأَحْسَنُ سِيَاقَةً، وَمَعَ حَدِيثِ جَابِرٍ حَدِيثُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ

براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، جب انہیں رسول اللہ ﷺ نے یمن کا امیر بنایا، پھر انہوں نے علی رضی اللہ عنہ کے آنے کا سارا واقعہ بیان کیا اور بتایا کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے کیا کیا ہے؟“ کہنے لگے: میں نے کہا کہ میں نے بھی رسول اللہ ﷺ والا تلبیہ کہا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں قربانی لایا ہوں اور حجِ قِران کیا ہے۔“
اس روایت میں ”اور میں نے قران کیا ہے“ کے الفاظ اسی طرح ہیں، لیکن یہ الفاظ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی حدیث میں نہیں ہیں جب انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے آنے اور ان کے تلبیہ کا ذکر کیا، اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث سند کے اعتبار سے زیادہ صحیح اور سیاق کے اعتبار سے زیادہ عمدہ ہے، اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث کی تائید سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث سے بھی ہوتی ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 8851
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ ابوداود 1797۔ نسائي 2725»